اعلیٰ حضرت کے ایک شعر پر اعتراض کا جواب

ایک مرتبہ غزالی زماں علامہ سید احمدسعید کاظمی رحمہ اللہ علیہ بہاول پور( پاکستان ) میں تقریر فرمارہے تھے کسی نے سوال کیا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالی کے نور کا حصہ، ٹکڑا یا جز نہیں ہیں مگر اعلی حضرت فاضل بریلوی حدائق بخشش میں کہتے ہیں:
نور وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی

تو آپ کیسے کہتے ہیں کہ ہم حضور صل اللہ علیہ سلم کواللہ کا ٹکڑا نہیں مانتے؟

علامہ کاظمی صاحب علیہ الرحمہ نے جواب میں فرمایا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ نے کس کا ٹکڑا مانا ، واحد کا یا وحدت کا ؟ آپ اللہ تعالیٰ کو واحد کہتے ہیں یا وحدت کہتے ہیں؟ ارے وحدت تو وصف ہے، اور صفات کے جلوے اور انوار ہوتے ہیں، اگر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم واحد کا ٹکڑا ہیں یا الہ واحد کا ٹکڑا نہیں تب تو آپ کی بات درست ہوتی ، اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ واحد کا ٹکڑا نہیں فرمار ہے وہ تو فرمارہے ہیں ”نور وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی ، وحدت صفت ہے اور اس صفت کے جو انوار و تجلیات ہیں وہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، حضورصلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی صفت وحدت کے نور کا جلوہ ہیں، اللہ کی ذات کا ٹکڑا نہیں ہیں، ہم تو اللہ تعالی کو واحد کہتے ہیں، تم اللہ تعالی کو وحدت کہو تو تمھاری مرضی، بتائیے اللہ تعالی واحد یا وحدت ہے؟ یقینا اللہ واحد ہے تو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے کب کہا کہ حضور واحد کا ٹکڑا ہیں؟ پہلے تم وحدت کو اللہ بناؤ پھر اعلیٰ حضرت پر اعتراض کرو کہ انہوں نے اللہ
کا ٹکڑا بنا دیا، اگر وحدت تمہارے نزدیک اللہ ہے تو پھر تم اپنے ایمان کی خبر لو۔
روایت حافظ بشیر احمد سعیدی، خطیب جامع مسجد البدر، بہاری کالونی بہاولپور)

وما علينا الالبلاغ المبين