۱۳۱- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ  عبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةٌ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَهِيَ مَثَلُ الْمُسْلِمِ حَدَثُونِی مَا هي؟ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَادِيَةِ ، وَوَقَعَ فِی نَّفْسِى أَنَّهَا التَّخْلَةُ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ فَاسْتَحْيَيْتُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبرُنَا بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ النَّحْلَةُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ  فَحَدثتُ أَبِي بِمَا وَقَعَ فِي نَفْسِي ، فَقَالَ لَاَنْ تَكُونَ قُلْتَها أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَا.

 امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے امام مالک نے حدیث بیان کی از عبدالله بن دینار از حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنہما که رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور وہ مسلم کی مثل ہے مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ پس لوگوں کے ذہن جنگل کے درختوں میں چلے گئے اور میرے ذہن میں یہ آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے پھر مجھے (بتانے سے ) حیاء آئی صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں بتائیے وہ کون سا درخت ہے؟ تب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا: میں نے اپنے والد کو بتایا’ جو میرے ذہن میں آیا تھا، انہوں نے کہا : اگر تم اس وقت بتا دیتے تو میرے لیے یہ اس سے زیادہ محبوب تھا کہ مجھے اتنا اور اتنا مل جاتا۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۶۱ میں گزر چکی ہے۔