کتاب الوضوء( الطہارہ ) باب 1
نحمده ونصلي ونسلم على رسوله الكريم
٤ – كِتَابُ الْوُضُوءِ( الطَّهَارَةِ)
وضوء کا بیان
ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ امام بخاری نے اپنی کتاب کو ” باب الوحی سے شروع کیا پھر ” کتاب الایمان کو ذکر کیا، اس کے بعد كتاب العلم کو ذکر کیا اور اب اس کے بعد کتاب الوضوء کو ذکر کیا صحیح البخاری کے بعض نسخوں میں کتاب الوضوء کے بجائے ” کتاب الطهارة ” لکھا ہوا ہے۔ کیونکہ طہارت زیادہ اعم لفظ ہے وضو غسل اور تیم سب کو شامل ہے اور طہارت کا معنی نجاست کو زائل کرنا ہے خواہ نجاست حقیقی اور حسی ہو یا حکمی ہو اس لیے ” کتاب الوضوء‘ کے بجائے ” کتاب الطهارة “ زیادہ موزوں لفظ ہے۔
وضوء“ کا لغوی اور شرعی معنی
الوضوء الوضاء “ سے ماخوذ ہے اس کا معنی حسن اور صفائی ہے اگر یہ لفظ وضوء‘ ہو تو اس کا معنی وہ پانی ہے جس سے وضوء کیا جائے اور اگر یہ لفظ وضوء ” ہو تو اس کا معنی وضوء کرنے کا فعل ہے ” ظهور ” اور ” ظهور ” کے بھی اسی طرح دو معنی ہیں وضوء‘ کا شرعی معنی عنقریب وضوء کی احادیث سے معلوم ہو جائے گا اور اس آیت ( المائدہ:۶ ) سے جس کو امام بخاری باب :ا کے عنوان میں ذکر کر رہے ہیں ۔
۱ – بَابٌ مَاجَاءَ فِي الْوُضُوءِ
وضوء کے متعلق جو احادیث وارد ہیں
وقول اللهِ تَعَالَى( إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلوةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَینِ۔المائده : ٦ )
اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد: ” جب تم نماز کے قیام ( کا ارادہ کرو) تو تم اپنے چہروں کو دھوئو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت اور اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں سمیت دھوؤں“( المائدہ : ۶ ) –
صلوۃ“ کا لغوی اور شرعی معنی
امام بخاری نے کتاب الوضوء ” کو اس آیت سے اس لیے شروع کیا ہے کہ وضوء کے مسائل کو مستنبط کرنے میں اصل یہ آیت ہے اور قرآن مجید کی آیت سے افتتاح کرکے تبرک حاصل کرنا بھی مقصود ہے۔
اس آیت میں ” صلوۃ” کا لفظ ہے ۔ افظ صلا” سے بنا ہے، جس کا معنی وہ ہڈی ہے جس پر دو کولہے ہیں، کیونکہ نماز کے رکوع اور سجود میں نمازی کے دونوں کو لہے ملتے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صلوۃ ” کا معنی دعا ہے اور نماز کے آخر میں دعا ہوتی ہے اس لیے اس کو صلوۃ” کہتے ہیں اور ” صلوۃ ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کو بھی کہتے ہیں اور نماز کے آخری تشہد میں آپ پر درود پڑھا جاتا ہے اس لیے نماز کو صلوۃ” کہتے ہیں اور ” صلوۃ” کا شرعی معنی عبادت کے افعال مخصوصہ اور اذکار معلومہ ہیں، اس آیت میں چہروں کو دھونے اور ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونے اور سروں پر مسح کرنے کا حکم ہے مسح کا معنی ہے گیلا ہاتھ پھیرنا اور اس آیت میں ٹخنوں تک پیروں کو دھونے کا حکم ہے ” الکعبین ” کا معنی ٹخنے ہیں، جس کی تفصیل اور تحقیق البخاری : ۱۳۴ میں گزر چکی ہے اور یہی وضوء کا شرعی معنی ہے۔
اس اعتراض کا جواب کہ آیت وضوء سے یہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں قیام کے بعد وضوء کیا جائے
بہ ظاہر اس آیت کا معنی ہے: جب تم نماز میں قیام کا ارادہ کرو تو وضوء کرو جب کہ نماز میں قیام سے پہلے وضوء کیا جاتا ہے اس لیے یہاں پر مراد یہ ہے کہ جب تم نماز میں قیام کا ارادہ کرو تو وضوء کرو اس پر پھر اعتراض ہوگا کہ اگر نمازی نے پہلے سے وضوء کیا ہو تو کیا پھر بھی اس پر وضوء کرنا واجب ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں مراد ہے : جب تم بے وضوء ہو اور نماز میں قیام کا ارادہ کرو تو پھر وضوء کرو ۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے:
فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ (النحل : ٩٨)
پس جب تم قرآن پڑھو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرو0
بہ ظاہر اس کا معنی یہ ہے کہ جب تم قرآن پڑھ چکو تو پھر اعوذ بالله من الشيطان الرجیم پڑھو حالانکہ تعوذ کو قرآن مجید کی تلاوت سے پہلے پڑھنا چاہیے، اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ جب تم قرآن کریم پڑھنے کا ارادہ کرو تو پھر تعوذ پڑھو۔
اس اعتراض کا جواب کہ وضوء کا معروف اور مسنون طریقہ آیت وضوء کے خلاف ہے
ایک اور اعتراض یہ ہے کہ اس آیت میں پہلے چہروں کو دھونے کا حکم ہے حالانکہ وضوء کا معروف اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئے جائیں، پھر کلی کی جائے، پھر ناک میں پانی ڈالا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ پاک پانی سے وضوء کیا جائے اور پانی کے پاک ہونے کا تین اوصاف سے پتا چلتا ہے پانی میں نجاست کا رنگ نہ ہو اور اس میں نجاست کا ذائقہ نہ ہو اور اس میں نجاست کی بو نہ ہو جب پانی سے ہاتھ دھوئے تو معلوم ہو گیا، اس میں نجاست کا رنگ نہیں ہے، جب کلی کی تو معلوم ہو گیا کہ اس میں نجاست کا ذائقہ نہیں ہے اور جب ناک میں پانی ڈالا تو معلوم ہو گیا کہ اس میں نجاست کی بو نہیں ہے اور جب پانی کے اوصاف ثلاثہ سے اس کی طہارت کا یقین حاصل ہو گیا تو پھر وضوء کرنا شروع کر دیا۔
امام بخاری فرماتے ہیں:
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَ بَيَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ فَرْضَ الوُضُوْءِ مَرَّةً مَرَّةٌ، وَتَوَضًا أَيْضًا مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَثَلَاثًا ثَلَاثًا وَلَمْ يَزِدْ عَلى ثَلَاثٍ وَكَرِهَ أَهْلُ الْعِلْمِ الْإِسْرَافَ فِيهِ وَأَنْ يُجَاوِزُوا فِعْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
امام ابوعبد اللہ نے کہا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان کیا ہے کہ وضوء کا فرض ایک ایک بار دھونا ہے اور آپ نے دو دو بار بھی دھویا ہے اور تین تین بار بھی اور تین بار سے زیادہ نہیں دھویا اور اہل علم نے وضوء میں اسراف کو مکروہ کہا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے تجاوز کرنے کو بھی مکروہ کہا ہے۔
یہاں امام بخاری نے ایک ایک بار دو دو بار اور تین تین بار دھونے کے متعلق احادیث معلقہ ذکر کی ہیں، اس کے بعد ان کے متعلق احادیث موصولہ بھی ذکر کی ہیں، البخاری : ۱۵۷ میں ایک ایک بار دھونے کی حدیث ہے البخاری : ۱۵۸ میں دو دو بار دھونے کی حدیث ہے اور البخاری:۱۵۹ میں تین تین بار دھونے کی حدیث ہے۔
“وضو “ میں اسراف کرنے کو امام بخاری نے مکروہ کہا ہے اس سے مراد مکروہ تنزیہی ہے، مکروہ تحریمی نہیں ہے امام احمد نے تین بار سے زیادہ دھونے کو ناجائز کہا ہے اور ابن المبارک نے کہا: مجھے خطرہ ہے کہ وہ شخص گناہ گار ہوگا۔
اعضاء وضوء کو تین تین بار سے زیادہ دھونے کی کراہت کی دلیل
تین بار سے زیادہ دھونا اس حدیث کی وجہ سے مکروہ ہے:
عمرو بن شعیب اپنے والد (عبداللہ بن عمرو) سے اپنے دادا ( عمرو بن العاص) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ ! وضوء کس طرح ہوتا ہے، آپ نے ایک پانی کا برتن منگایا پھر اس میں سے پانی لے کر تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر تین مرتبہ اپنے چہرے کو دھویا پھر تین مرتبہ اپنی کلائیوں کو دھویا پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر شہادت کی دو انگلیوں کو اپنے کانوں میں داخل کیا، پھر اپنے انگوٹھوں سے اپنی کانوں کے ظاہر پر مسح کیا اور شہادت کی دو انگلیوں سے کانوں کے باطن پر مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیروں کو تین تین بار دھویا پھر فرمایا: اس طرح وضوء ہوتا ہے، جس نے اس پر زیادتی کی یا اس سے کمی کی تو اس نے بُرا کام کیا اور ظلم کیا۔ (سنن ابوداؤد : ۱۳۵ سنن نسائی: ۱۴۰ سنن ابن ماجه: ۴۲۲ مسند احمد ج ۲ ص۱۸۰)
آپ نے تین دفعہ سے کم دھونے یا تین دفعہ سے زیادہ دھونے کو جو بُرا کام اورظلم فرمایا ہے یہ اس شخص کے لیے ہے جو تین دفعہ دھونے کو صحیح اور سنت نہ سمجھے اور جو شخص تین دفعہ سے کم ایک بار یا دو بار دھوئے اور اس کی یہ نیت ہو کہ آپ نے بھی ایک ایک بار اور دو دو بار دھویا ہے تو وہ اس وعید میں داخل نہیں ہے اسی طرح جو شخص اپنا شک دور کرنے کے لیے یا زیادہ صفائی حاصل کرنے کے لیے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے تین تین بار سے زیادہ دھوئے وہ بھی اس وعید میں داخل نہیں ہے۔
(فتح القدير ج ا ص 32، دار الکتب العلمیة بیروت، 1415ھ )