کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 2 حدیث نمبر 135
۲ – بَابٌ لَا تُقْبَلُ صَلوةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ ب
بغیر طہارت کے نماز قبول نہیں ہوتی :
اس عنوان میں طہارت سے مراد عام ہے، جو غسل اور وضوء دونوں کو شامل ہے، اس باب کو بعد کے ابواب پر اس لیے مقدم کیا ہے کہ یہ کتاب وضوء اور غسل کے احکام میں ہے اور نماز ان میں سے کسی ایک کے بغیر مقبول نہیں ہوتی۔ اس عنوان کی صحت پر دلیل یہ حدیث ہے:
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغیر طہارت کے نماز قبول نہیں ہوتی اور نہ خیانت کے مال سے صدقہ قبول ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم : ۲۲۴ الرقم المسلسل : ۵۲۴ سنن ترمذی :1 سنن ابن ماجه: ۲۷۲ مسند احمد ج ۲ ص ۱۹)
١٣٥- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بن مُنَبِّةٍ أَنَّہ سَمِعَ اَبَاھرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْبَلُ صَلوةٌ مَنْ اَحَدَثَ حَتی يَتَوَضَّأَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ مَاالْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ فَسَاء أو ضراط۔ طرف الحديث : 1954)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبد الرزاق نے خبر دی، انہوں نے کہا : ہمیں معمر نے خبر دی از ھمام بن منبہ، بے شک انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس آدمی نے وضوء توڑ دیا’ اس کی نماز اس وقت تک قبول نہیں ہوگی جب تک کہ وہ وضوء نہ کرلے حضرموت کے ایک شخص نے کہا: اے ابوہریرہ! حدث کیا ہے؟ انہوں نے کہا: بغیر آواز کے ہوا کا خارج ہونا یا آواز سے ہوا کا خارج ہونا۔
صحیح مسلم : ۲۲۵ الرقم المسلسل : ۲۵۲۶ سنن ابوداؤد : ۶۰ سنن ترمذی : ۷۶ ‘سنن ابن ماجه: ۵۱۵، صحیح ابن خزیمہ: ۲۷ سنن بیہقی ج1 ص ۱۱۷ ۲۲۰ مسند احمد ج ۲ ص 410 طبع قدیم مسند احمد : ۹۳۱۳ – ج ۱۵ ص ۱۸۰ مؤسسة الرسالة بیروت
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ کلیۂ مطابقت نہیں ہے کیونکہ باب کا عنوان عام ہے : طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی اور حدیث خاص ہے کہ وضوء کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی ۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
اس حدیث کے پانچ رجال ہیں اور ان سب کا تعارف ہو چکا ہے اور ان کی احادیث کو ائمہ ستہ نے روایت کیا ہے ماسوا اسحق بن راھویہ کے کیونکہ امام ابن ماجہ نے ان کی احادیث کو روایت نہیں کیا، اسحاق بن ابراہیم الحنظلی، اسحاق بن راھویہ کے نام سے مشہور ہیں اور عبد الرزاق بن ھمام ہیں اور معمر بن راشد ہیں ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۷۰)
أَحْدَثَ، حَضَرَمَوْت، فساء اور ضُرَاطٌ “ کے معانی
اس حدیث میں” احدث “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: جس شخص نے اپنا وضو، توڑ دیا۔
حضرموت‘ یہ یمن کے ایک شہر یا اس کے ایک قبیلہ کا نام ہے یہ اصل میں دو نام تھے، جن کو ملا کر ایک نام بنا دیا گیا۔
فساء او ضراط “ یہ دونوں اس معنی میں مشترک ہیں کہ جو ہوا دبر سے خارج ہو اگر وہ ہوا بغیر آواز کے ہو تو اس کو ” فساء“ کہتے ہیں اور اگر وہ ہوا آواز کے ساتھ خارج ہو تو اس کو ” ضراط “ کہتے ہیں۔
اس اعتراض کا جواب کہ حضرت ابوہریرہ نے صرف ہوا خارج ہونے کو وضوء ٹوٹنے کا سبب بیان کیا ہے حالانکہ وضوء ٹوٹنے کے اور بھی اسباب ہیں
علامہ ابو الحسن علی بن خلف بن عبد الملک ابن بطال البکری المالکی القرطبی المتوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث پر یہ اعتراض ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے وضوء ٹوٹنے کے صرف دو سبب بیان کیے ہیں، حالانکہ وضو ٹوٹنے کے اور بھی اسباب ہیں : پیشاب اور پاخانہ کرنے، مذی اور ودی کے نکالنے، مباشرت کرنے، ٹیک لگا کر سونے اور خون نکلنے سے بھی وضوء ٹوٹ جاتا ہے اور امام شافعی کے نزدیک عورت کو چھونے اور مس ذکر سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے وضوء ٹوٹنے کا وہ سبب بیان کیا ہے جو سبب غالب ہے اور جس کا اکثر وقوع ہوتا ہے۔
( شرح ابن بطال ج ۱ ص ۲۱۴ دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۲۴ھ )
نماز جنازہ، نماز عید اور سجدہ تلاوت کے لیے وضوء کرنے کا وجوب
اس حدیث میں مذکور ہے کہ جس نے وضو، توڑ دیا اس کی نماز قبول نہیں ہوگی، حتی کہ وہ وضوء کرے۔
اس سے معلوم ہوا کہ تمام نمازوں کے لیے وضوء کرنا ضروری ہے اور اس میں نماز جنازہ اور نماز عیدین وغیر ہما داخل ہیں، شعبی اور محمد بن جریر طبری نے کہا ہے کہ نماز جنازہ بغیر وضوء کے پڑھنا جائز ہے ان کا یہ قول باطل ہے کیونکہ ان کا یہ قول اس باب کی حدیث اور اجماع کے خلاف ہے، فقہاء شافعیہ نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص نے عمدا بغیر عذر کے بےوضو، نماز پڑھی تو وہ گنہ گار ہوگا’ کافر نہیں ہوگا اور امام ابو حنیفہ نے کہا ہے کہ وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ اس نے نماز کو کھیل بنالیا۔
شیخ علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی متوفی ۴۵۶ھ نے کہا ہے کہ سجدہ تلاوت نماز نہیں ہے اس لیے بغیر وضوء کے سجدہ تلاوت کرنا جائز ہے، اسی طرح جنبی اور حائض کے لیے بھی سجدہ تلاوت ادا کرنا جائز ہے اور اس میں قبلہ کی طرف منہ کرنا بھی شرط نہیں ہے۔ (محلی بالآثار ج ۱ ص ۹۷ دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۲۴ھ )
اسی طرح مشہور غیر مقلد عالم شیخ محمد بن علی بن محمد شوکانی متوفی ۱۲۵۵ھ نے بھی لکھا ہے:
سجدہ تلاوت کی احادیث میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جو اس پر دلالت کرے کہ سجدہ تلاوت کرنے والے کو باوضوء ہونا چاہیے۔ (نیل الاوطار ج ۲ ص ۳۸۰ دار الوفا 1421ھ)
ہمارے نزدیک یہ دونوں قول باطل ہیں، سجدہ تلاوت ادا کرنے کے لیے بھی باوضوء ہونا ضروری ہے حدیث میں ہے:
عن ابن عمر لا يسجد الرجل الا وهو طاهر.
حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ کوئی شخص بغیر وضوء کے سجدہ نہ کرے۔
السنن الکبری ج ۲ ص ۳۲۵ مطبوعہ ملتان۔
امام ابن ابی شیبہ نے حماد اور سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ جب جنبی شخص آیت سجدہ کو سنے تو غسل کرے اس کے بعد سجدہ کرے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۱۳ ادارۃ القرآن، کراچی ۱۴۰۶ھ )
اس مسئلہ کو ہم نے زیادہ تفصیل اور تحقیق سے تبیان القرآن ج 11 ص ۶۹۶ ۔ ۶۹۴ ‘ الواقعہ : ۷۹ میں لکھا ہے ۔
نماز کے دوران از خود وضو ٹوٹ جائے تو دوبارہ وضوء کرکے اسی نماز پر بناء کر سکتا ہے یا نہیں؟
علامہ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وضوء ٹوٹنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے خواہ وضوء ٹوٹنا اختیاری ہو یا اضطراری ۔
(فتح الباری ج ۱ ص ۶۸۰ دار المعرفة بیروت 1426ھ )
در اصل علامه ابن حجر نے یہ فقہاء احناف پر تعریض کی ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ اگر نماز میں انسان کا وضو، از خود بلا قصد ٹوٹ گیا تو اس کی نماز باطل نہیں ہوگی، وہ دوبارہ وضوء کر کے اسی نماز پر بنا کر سکتا ہے۔
علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر المرغینانی المتوفی ۵۹۳ھ لکھتے ہیں:
جس شخص کا نماز میں وضو ٹوٹ جائے وہ واپس جائے اگر امام ہے تو کسی کو خلیفہ بنادے اور وضوء کرے اور اسی نماز پر بناء کرے اور قیاس یہ ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے اور یہی امام شافعی کا قول ہے کیونکہ وضو ٹوٹنا نماز کے منافی ہے اور وضوء کے لیے چل کر جانا اور قبلہ سے منحرف ہونا نماز کو فاسد کر دیتے ہیں لہذا یہ عمدا وضو توڑنے کے مشابہ ہوگیا۔ ( ہدایہ اولین ص ۱۲۸ مکتبه شرکت عالمیه ملتان )
ہمارا استدلال درج ذیل احادیث سے ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو (نماز میں ) قے آجائے یا نکسیر آجائے یا مذی نکل آئے تو وہ واپس جائے اور وضوء کرے پھر اس کی جو نماز گزر چکی ہے، اس نماز پر بناء کرے اور وہ اس درمیان میں بات نہ کرے۔ (سنن ابن ماجہ : 1221 سنن دار قطنی : ۵۵۴ کامل ابن عدی ج ۱ ص ۲۹۶)
ابن جریج اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی شخص کو نماز میں قے آجائے یا تھوڑی سی قے ہو تو وہ لوٹ جائے اور وضوء کرے اور اپنی نماز پر بناء کرئے جب تک اس نے کلام نہ کیا ہو۔
( سنن دارقطنی : ۵۵۵ سنن بیہقی ج ۱ ص ۴۲ سنن دار قطنی : ۵۶۰)
ابن جریج اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کو قے آ جائے یا تھوڑی سی قے یا اس کی مذی نکل آئے اور وہ نماز میں ہو تو وہ واپس جائے اور وضوء کرئے پھر واپس آکر اپنی نماز پر بناء کرے جب تک اس نے کلام نہ کیا ہو۔ (سنن دار قطنی : ۵۶۱ سنن بیہقی ج ۱ ص ۱۴۳ – ۱۴۲)
ان احادیث سے ظاہر ہو گیا کہ جس شخص نے نماز میں وضوء ٹوٹنے کے بعد دوبارہ وضوء کر کے اسی نماز پر بناء کی ہے اس کا یہ عمل اس باب کی حدیث کے خلاف نہیں ہے کیونکہ اس نے بہرحال وضوء کرکے نماز پڑھی ہے اگرچہ قیاس یہ ہے کہ وہ از سرنو نماز پڑھے اور اس مسئلہ میں حدیث بھی وارد ہے اور وہ حدیث یہ ہے:
حضرت علی بن طلق الحنفی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی نماز میں ہوا خارج ہوجائے تو وہ لوٹ جائے، پھر وضوء کرے اور اپنی نماز کو دہرائے ۔ (سنن ابوداؤد : ۱۰۰۵ سنن ترمذی : 1164، سنن بیہقی ج ۲ ص ۲۵۵ شرح السنتہ : ۷۵۳، صحیح ابن حبان : ۲۲۳۷ ، سنن دار قطنی : ۵۵۳ مسند احمد ج ا ص ۸۶)
ایک وضوء سے متعدد نمازیں پڑھنے کا جواز
قرآن مجید میں ہے: جب تم میں سے کوئی نماز میں قیام کا ارادہ کرے تو اپنے چہروں کو دھوئے اور ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوئے (الخ) یعنی مکمل وضوء کرے۔ آیا ہر نماز کے لیے اس پر وضوء کرنا ضروری ہے یا ایک نماز سے کئی نمازیں پڑھ سکتا ہے؟ اس سلسلہ میں یہ حدیث ہے:
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک وضوء سے کئی نمازیں پڑھیں اور اپنے موزوں پر مسح کیا، حضرت عمر نے کہا: آج آپ نے وہ کام کیا ہے، جو اس سے پہلے آپ نہیں کرتے تھے آپ نے فرمایا : اے عمر! میں نے عمدا یہ کام کیا ہے۔ (صحیح مسلم : ۲۷۷ الرقم المسلسل : ۶۳۰ سنن ابوداؤد : ۱۷۲ سنن ترمذی :۶۱ ، سنن نسائی: ۱۳۳ سنن ابن ماجہ :۵۱۰)
شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کی شرح
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۴۴۵ – ج ۱ ص ۸۶۳ پر مذکور ہے اور اس کے عنوانات حسب ذیل ہیں :
موجب طہارت کی تحقیق
فاقد الطہورین پر نماز کے وجوب میں فقہاء شافعیہ کے اقوال
فاقد الطہورین پر نماز کے وجوب میں فقہاء احناف کا نظریہ
بلا طہارت نماز پڑھنے والے کو کافر قرار دینے کی تحقیق
فاستوں کے لیے زجر دعا نہ کی جائے
مال حرام سے استبراء کا طریقہ ۔