أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَؕ‏ ۞

ترجمہ:

اس کتاب کو صرف پاک لوگ ہی چھوسکتے ہیں

بے وضو کو قرآن مجید کے چھونے کی ممانعت میں مفسرین کی تصریحات

الواقعہ : 79 میں فرمایا : اس کتاب کو صرف پاک لوگ ہی چھوسکتے ہیں۔

اگر اس سے مراد قرآن مجید ہے جو لوح محفوظ میں ہے تو پھر اس کی تفسیر میں دو قول ہیں :

(١) حضرت ابن عباس (رض) اور سعید بن جبیر نے کہا : اس کو آسمان میں صرف فرشتے ہی چھوتے ہیں جو ” مطھرون “ ہیں یعنی پاک ہیں۔

(٢) زید بن اسلم نے کہا : اس کو صرف رسل ملائکہ ہی انبیاء کی طرف نازل کرتے ہیں۔

اس قول پر یہ اشکال ہے کی تمام رسل ملائکہ قرآن مجید کو تمام نبیوں کی طرف نازل نہیں کرتے بلکہ صرف حضرت جبریل (علیہ السلام) نے اس کو صرف سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف نازل کیا ہے۔ (سعیدی غفرلہ)

اور اگر اس سے مراد وہ قرآن مجید ہے جو مصحف اور کتاب کی شکل میں ہمارے ہاتھوں میں ہے تو اس کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) کلبی نے کہا : اس قرآن کو صرف مسلمان ہی چھوسکتے ہیں جو شرک اور کفر سے پاک ہیں۔

(٢) الربیع بن انس نے کہا : اس قرآن کو صرف نیک مسلمان ہی چھو سکتے ہیں جو گناہوں اور خطوؤں سے پاک ہیں۔

(٣) قتادہ نے کہا : اس کو صرف وہ مسلمان ہی چھو سکتے ہیں جو نجاست اور ہر قسم کے حدث سے پاک ہوں ‘ یعنی ان پر غسل واجب ہو نہ وضو۔ (النکت والعیون ج ٥ ص ٤٦٤‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

امام ٖفخر الدین محمد عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

امام شافعی نے کہا : بےوضو کے لیے قرآن مجید کو چھونا جائز نہیں ہے ‘ ان کا استدلال حضرت عمرو بن حزم کی اس حدیث سے ہے کہ قرآن مجید کو طاہر کے سوا اور کوئی نہ چھوئے ‘ اور بےوضو کے قرآن مجید کو چھونے میں قرآن مجید کی اہانت ہے اس لیے اس کا قرآن مجید کو چھونا جائز نہیں ہے۔ (تفسیر کبیرج ٠١ ص ١٣٤‘ ملخصاََ ‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں :

زیادہ ظاہر یہ ہے کہ کتاب سے مراد وہ مصحف ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے ‘ حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

قرآن مجیدکو صرف اس حال میں چھوؤ جب تم طاہر ہو اور جب تک حضرت عمر نے غسل نہیں کرلیا ‘ ان کی بہن نے ان کے ہاتھ میں قرآن مجید نہیں دیا۔ ( الجامع لاحکام القرآن جز ٧١ ص ٤٠٢‘ دارلفکر ‘ بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ٠٧٢١ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں ” مطھرون “ سے مراد وہ لوگ ہیں : جو حدث اصغر ( بےوضو ہونا) اور حدث اکبر ( جنابت) دونوں سے پاک ہوں اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جو لوگ طاہر نہ ہوں ان کو قرآن مجید نہیں چھونا چاہیے۔ (روح المعانی جز ٧٢ ص ٥٣٢‘ دارلفکر ‘ بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

بے وضو کو قرآن مجید کے چھونے کی ممانعت میں احادیث

امام مالک بن انس متوفی ٩٧١ ھ ‘ عبداللہ بن ابی بکربن حزم سے روایت کرتے ہیں کہ جس مکتوب کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن حزم کے لیے لکھا تھا اس میں یہ بھی مرقوم تھا کہ : انلاتمس القرآن الا طاہر۔ طاہر (حدث سے پاک شخص) کے سوا کوئی قرآن مجید کو نہ چھوئے۔ (موطا امام مالک ج ١ ص ١٩١‘ رقم الحدیث : ٨٧٤‘ دارالمعرفۃ ‘ لبنان ‘ ٠٢٤١ ھ)

امام عبداللہ بن عبدالرحمان الدارمی المتوفی ٥٥٢ ھ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (سنن دارمی ص ٨١٧۔ رقم الحدیث : ٠٧٢٢‘ دارالمعرفۃ ‘ بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

امام علی بن عمر الدار قطنی المتوفی ٥٨٣ ھ نے اس حدیث کو متعدد اسانید سے روایت کیا ہے۔ (سنن دارقطنی ج ١ ص ٤٠٣۔ ٠٠٣۔ رقم الحدیث : ٣٣٤۔ ٨٢٤‘ دارالمعرفۃ ‘ بیروت ‘ ٢٢٤١ ھ ‘۔ امام عبدالرزاق متوفی ١١٢ ھ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ مصنف عبدالرزاق ج ١ ص ٢٤٣۔ ١٤٣۔ رقم الحدیث : ٨٢٣١‘ مکتب اسلامیہ ‘ بیروت ‘ ٠٩٣١ ھ طبع قدیم)

امام ابوجعفر محمد بن عمرو العقیلی المکی المتوفی ٢٢٣ ھ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (کتاب الضعفاء الکبیرج ٣ ص ٠٨٤‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ٨١٤١ ھ)

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٥٠٤ ھ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (المستدرک ج ٣ ص ٥٨٤‘ دارالباز ‘ مکہ مکرمہ)

امام احمد بن حسین بیہقی متوفی ٨٥٤ ھ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (السنن الکبریٰ ج ١ ص ٧٨‘ ملیان ‘ الخلافیات ج ١ ص ٨٩٤‘ معرفۃ السنن والا ثار ج ١ ص ٦٨١‘ رقم الحدیث : ٦٠١)

امام ابو القاسم سلیمان بن احمد الطہر انی متوفی ٠٦٣ ھ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧١٢٣١‘ حافظ نور الدین الہیثمی متوفی ٧٠٨ ھ نے کہا ؛ اس حدیث کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ مجمع الزوائد ج ١ ص ٦٧٢)

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٢٥٨ ھ نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ (تلخیص الحبیر ج ١ ص ١٣١)

بے وضو کو قرآن مجید کے چھونے کی ممانعت میں آثار صحابہ و تابعین

امام عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ المتوفی ٥٣٢ ھ روایت کرتے ہیں :

عبدالرحمان بن یزید بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سلمان فارسی (رض) کے ساتھ تھے ‘ وہ رفع حاجت کے لیے گئے ‘ جب وہ قضاء حاجت کے بعد واپس آئے تو ہم نے اس سے کہا : اے ابو عبداللہ ! آپ وضو کرلیں ‘ ہم نے آپ سے قرآن مجید کی ایک آیت کے متعلق سوال کریں گے ‘ حضرت سلیمان نے کہا : تم مجھ سے سوال کرو ‘ کیونکہ میں قرآن مجید کو چھوؤں گا نہیں ‘ بیشک قرآن مجید کو طہارت کے بغیر کوئی شخص نہیں چھو سکتا ‘ پھر ہم نے ان سے سوال کیا اور انہوں نے وضو کیے بغیر ہمارے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ١ ص ٨٩۔ رقم الحدیث : ٠٠١١‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ٦١٤١ ھ)

امام عبدالرزاق بن ھمام صنعانی متوفی ١١٢ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عطاء نے کہا : کوئی شخص بغیر وضو کے مصحف کو نہ چھوئے۔ (مصنف عبدالرزاق ج ا ص ٤٦٢۔ رقم الحدیث : ٥٣٣١‘ طبع جدید ‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

جابر بیان کرتے ہیں کہ شعبی ‘ طاؤس اور قاسم بن محمد بغیر وضو کے مصحف کے چھونے کو مکروہ کہتے تھے۔

(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨٣٣١)

معمر کہتے ہیں کہ زہری نے کہا : جن دراھم پر قرآن مجید کی آیات لکھی ہوں ان کو بغیر وضو کے نہ چھوا جائے ‘ معمر نے کہا کہ حسن بصری اور قتادہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ‘ وہ کہتے تھے کہ یہ لوگوں کی قدیم عادت ہے۔

(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨٣٣١)

جابر بیان کرتے ہیں کہ شعبی نے کہا : جنبی کے لیے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا مکروہ ہے۔

(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٥٤٣١)

معمر بیان کرتے ہیں کہ قتادہ نے کہا : مستحب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث کو باوضو لکھا جائے۔

(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٦٤٣١)

بے وضو کو قرآن مجید کے ہاتھ لگانے کی ممانعت میں فقہاء مالکیہ کا مذہب

حافظ یوسف بن عبداللہ ابن عبدالبر مالکی قرطبی متوفی ٣٦٤ ھ لکھتے ہیں :

مدینہ ‘ شام اور مصر کے تمام فقہا کا اس پر اتفاق ہے کہ بےوضو شخص قرآن مجید کو نہ چھوئے اور یہ حکم صرف اس آیت کی وجہ سے نہیں ہے :

لایمسہ الا المطھرون۔ (الواقعہ : ٩٧) اس کتاب کو مطہرین کے سوا کوئی نہ چھوئے۔

بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حدیث کی وجہ سے ہے کہ قرآن مجید کو طاہر کے سوا کوئی نہ چھوئے۔

(موطا امام مالک رقم الحدیث : ٨٧٤)

امام مالک نے کہا کہ قرآن مجید کو بغیر وضو کے لٹکانے والی ڈوری یا غلاف کے ساتھ بھی نہ چھوئے ‘ البتہ اگر قرآن مجید کسی بکس یا ڈبہ میں ہو تو اس کو بغیر وضو کے چھو سکتا ہے۔ الحکم بن عتیبہ اور حماد بن سلیمان نے کہا کہ قرآن مجید کو بےوضو شخص لٹکانے والی ڈوری کے ساتھ اٹھا سکتا ہے اور میرے نزدیک ان کا قول شاذ ہے۔ داؤد بن علی ظاہر نے بھی ان کے قول کو اختیار کیا ہے ‘ اس نے کہا کہ قرآن مجید اور جن دراھم اور دینار پر اللہ کا نام ہو اس کو جنبی اور حائض چھو سکتے ہیں۔

(تمہید ج ٧ ص ٥٦١۔ ٤٦١‘ ملخصاََ ‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ٩١٤١ ھ)

بے وضو کو قرآن مجید کے ہاتھ لگانے کی ممانعت میں فقہاء شافعیہ کا مذہب

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں :

بےوضو شخص پر قرآن مجیدکو چھونا حرام ہے ‘ کیونکہ قرآن مجید میں ہے۔ ” لایمسہ الا المطھرون۔ “ (الواقعہ : ٩٧) اور حضرت حکیم بن حزام (رض) نے روایت کی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بغیر طہارت کے قرآن مجید کو مت چھوؤ اور بےوضو بچوں کے لیے قرآن مجید کو اٹھانا جائز ہے یا نہیں ؟ اس میں دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ جیسے بڑوں کے لیے جائز نہیں ہے ان کے لیے بھی جائز نہیں ہے ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ ان کے لیے جائز ہے کیونکہ وہ طہارت کو قائم نہیں رکھ سکتے اور ان کو قرآن مجیدپڑھانے کی ضرورت ہے۔ (المجموع من شرح المہذب ج ٢ ص ٣٩٦‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ٣٢٤١ ھ)

بے وضو کو قرآن مجید کے ہاتھ لگانے کی ممانعت میں فقہاء حنبلیہ کا مذہب

علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمدبن قدامہ حنبلی متوفی ٠٢ ٦ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عمرخ ‘ حسن بصری ‘ عطائ ‘ طاؤس ‘ شعبی اور قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ جو شخص بےوضو ہو اس کے لیے قرآن مجید کو چھونا جائز نہیں ہے اور یہی ائمہ اربعہ کا مذہب ہے اور ہمارے علم میں داؤد ظاہری کے علاوہ اور کسی کا اس مسئلہ میں اختلاف نہیں ہے ‘ اس نے کہا کہ جنبی اور بےوضو کے لیے قرآن مجید کو چھونا جائز ہے ‘ کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیصر روم کی طرف ایک آیت لکھ کر بھیجی (وہ آیت آل عمران : ٤٦ ہے ‘ اس کا زکر ” صحیح البخار “ رقم الحدیث : ٧ میں ہے) ہماری دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے : لایمسہ الا المطھرون۔ (الواقعہ : ٩٧) اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمروبن حزم کے مکتوب میں لکھا کہ غیر طاہر قرآن کو نہ چھوئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیصر روم کو جو مکتب لکھا تھا ‘ اس سے مقصود پیغام بھیجنا تھا اور اگر کسی رسالہ یا فقہ کی کتاب میں کوئی آیت ہو تو اس رسالہ یا کتاب کو چھونا ممنوع نہیں ہے اور اس کتاب میں اس آیت کی وجہ سے وہ کتاب مصحف یا قرآن نہیں ہوگی اور اس کی حرمت ثابت نہیں ہوگی۔

امام ابوحنیفہ ‘ حسن بصری ‘ شعبی ‘ عطائ ‘ طاؤس ‘ قاسم ‘ ابودائل ‘ حکم اور حماد کے نزدیک بےوضو کے لیے قرآن مجیدکو لٹکانے والی ڈوری کے ساتھ پکڑ کر اٹھانا جائز ہے اور اوزاعی ‘ امام مالک اور امام شافعی نے اس کو ناجائز کہا ہے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کو چھو نہیں رہا اور یہ ایسا ہے جیسے اس نے رحل ( یا بکس) میں قرآن مجید کو اٹھایا ہو اہو ‘ نیز ممنوع قرآن مجیدکو چھونا ہے اور قرآن مجیدکو اٹھانا اس کو چھونا نہیں ہے اور اٹھانے کو چھونے پر قیاس کرنا ‘ قیاس ِ فاسد ہے۔

تفسیر اور فقہ کی کتابوں اور رسالوں کو بےوضو اٹھانا جائز ہے ‘ خواہ ان میں قرآن مجید کی آیات ہوں ‘ اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیصر روم کی طرف مکتوب لکھا اور اس میں قرآن مجید کی آیت تھی ‘ نیز تفسیر اور فقہ کی کتابیں قرآن مجید یا مصحف نہیں ہیں اور ممنوع ان کو بےوضو مس کرنا ہے اور ان کتابوں کے لیے قرآن مجید کی طرح حرمت ثابت نہیں ہے۔

بےوضو بچوں کے لیے قرآن مجیداٹھانے میں دو قول ہیں ‘ اس آیت کے عموم کی وجہ سے منع ہے اور ضرورت کی بناء پر جائز ہے ‘ جن دراہم پر قرآن مجید کی آیت نقش ہوں ‘ ان کو بےوضو چھونے میں دو قول ہیں : امام ابوحنیفہ کے نزدیک ناجائز ہے کیونکہ وہ اوراق قرآن مجید کے مشابہ ہیں اور دوسرا جواز کا قول ہے کیونکہ ان پر مصحف اور قرآن مجید کا اطلاق نہیں ہوتا اور وہ فقہ کی کتابوں کے مشابہ ہیں اور ان کو بےوضو نہ چھونے میں مشقت اور حرج ہے ‘ جس طرح بچوں پر وضو لازم کرنے میں حرج ہے۔

اگر بےوضو کو قرآن مجیدچھونے کی ضرورت ہو تو وہ تیمم کرکے چھو سکتا ہے۔

مصھف کو لے کر دارالحرب کی طرف سفر کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ نافع نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن کے ساتھ دشمن کے علاقہ میں سفر نہ کرو ‘ کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ دشمن قرآن مجید کی بےادبی کریں گے۔ (حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ٥٦٢‘ کنز العمال رقم الحدیث : ٣٦٨٢۔ ٦٣٣٢)

(المغنی والثرح الکبیر ج ١ ص ٠٧١۔ ٨٦١‘ دارالفکر ‘ بیروت)

ہرچند کے یہ حدیث مرسل ہے ‘ لیکن حافظ ابو نعیم اصبہانی نے لکھا ہے : یہ حدیث مشہور ثابت ہے۔ (حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ٥٦٢ )

تاہم اگر علامہ ابن قدامہ درج ذیل صحیح مرفوع متصل حدیث سے استدلال کرتے تو زیادہ بہتر تھا :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دشمن کے علاقے میں قرآن مجید کے ساتھ سفر کرنے سے منع فرماتے تھے ‘ مبادا ! دشمن اس کی بےادبی کرے۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٦٨١‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٠٨٨٢‘ السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ٩٨٧٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٦)

بے وضو کو قرآن مجید کے ہاتھ لگانے میں فقہاء احناف کا مذہب

علامہ علاؤالدین ابوبکر بن مسعود کا سانی حنفی متوفی ٧٨٥ ھ لکھتے ہیں :

ہمارے نزدیک بغیر غلاف کے بےوضو مصحف کو چھونا جائز نہیں ہے اور امام شافعی نے کہا ہے کہ بےوضو کے لیے مصحف کو بغیر غلاف کے چھونا جائز ہے ‘ انہوں نے چھونے کو قراءت پر قیاس کیا ہے ‘ یعنی جب بےوضو قرآن پڑھ سکتا ہے تو اس کو چھو بھی سکتا ہے ( میں کہتا ہوں : علامہ کا سانی نے صحیح نہیں کہا ‘ امام شافعی کے نزدیک بےوضو کا قرآن مجید کو چھونا جائز نہیں ہے جیسا کہ یم علامہ نووی شافعی سے نقل کرچکے ہیں۔ سعیدی غفرلہ)

علامہ کا سانی لکھتے ہیں : ہماری دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے : لایمسہ الا المطھرون۔ (الواقعہ : ٩٧) اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غیر طاہر قرآن کو نہ چھوئے۔ (سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٥٨٤) اور جن دراہم پر قرآن مجید کی آیات لکھی ہوں ان کو بھی بےوضو چھونا جائز نہیں ہے اور نہ تفسیر کی کتابوں کے بےوضو چھونا جائز ہے ‘ کیونکہ اس صورت میں وہ قرآن مجید کو چھونے والا ہوجائے گا ‘ رہا فقہ کی کتابوں کو بےوضو چھونا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور مستحب یہ ہے کہ ایسا نہ کرے۔

(بدائع الصنائع ج ١ ص ٥٦٢‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ٨١٤١ ھ)rnٍ میں کہتا ہوں کہ اس مسئلہ میں علامہ ابن قدامہ حنبلی کی تحریر زیادہ قابل عمل ہے اور اس میں لوگوں کے لیے سہولت ہے اور اس میں حرج اور مشقت نہیں ہے۔ ہاں ! محققین احناف نے بھی اس مسئلہ کو علامہ ابن قدامہ حنبلی کی طرح لکھا ہے۔

کتب تفسیر اور کتب فقہ کو بےوضو چھونے میں فقہاء احناف کا مذہب اور مصنف کا مختار

علامہ طاہربن عبدالرشید البخاری الحنفی دہلوی المتوفی ٢٤٥ ھ لکھتے ہیں :

” الجامع الصغیر “ میں مذکور ہے کہ جنبی شخص جب کسی تھیلی کو پکڑے ‘ جس میں ایسے دراہم ہوں جن پر قرآن مجید کی سورت نقش ہو یا مصحف کو غلاف کے ساتھ پکڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور بغیر تھیلی کے ایسے دراہم کو اور بغیر غلاف کے مصحف کو نہ پکڑے اور جنبی شخص ( اور حائض) قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے ‘ پوری آیت کا پڑھنا منع ہے ‘ اس سے کم پڑھ سکتے ہیں اور تلاوت کے قصد سے نہ پڑھیں ‘ دعا اور افتتاح کے قصد سے پڑھ سکتے ہیں۔ نیز علامہ بخاری دہلوی لکھتے ہیں :

بےوضو کا مصحف کو مس کرنا اور چھونا مکروہ ہے ‘ جیسا کہ ھنبی کے لیے مکرہ ہے ‘ اسی طرح امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک احادیث ‘ تفاسیر اور فقہ کی کتابوں کو بھی بغیر وضو کے چھونا مکروہ ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ مکروہ نہیں ہے اور ” الجامع الصغیر “ میں اختلاف کا ذکر نہیں کیا ‘ لیکن اس میں مذکور ہے کہ فقہ کی کتابیں مصحف کی طرح ہیں ‘ لیکن جب ان کو آستین سے پکڑے تو مکروہ نہیں ہے۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ج ١ ص ٤٠١‘ مکتبہ رشید یہ ‘ کوئٹہ)

علامہ سید محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز شامی حنفی متوفی ٢٥٢١ ھ لکھتے ہیں :

” خلاصۃ الفتاویٰ “ میں مذکور ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک تفاسیر ‘ حدیث اور فقہ کی کتابوں کو بےوضو چھونا مکروہ نہیں ہے۔ (علامہ ابرہیم حلبی حنفی متوفی ٦٥٩ ھ) نے امام ابوحنیفہ کے اس قول کی یہ توجیہ کی ہے کہ کتب تفسیر وغیرہ کو چھونے والے کے متعلق یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ قرآن مجید کو چھو رہا ہے کیونکہ ان کتابوں میں جو آیتیں مذکور ہیں وہ تبعاََ ہیں اور ان کتابوں کو قرآن نہیں کہا جاتا۔ (جلبی کبیر ص ٩٥) علامہ ابن ھمام متوفی ١٦٧ ھ نے کتب تفسیر وغیرہ کو بےوضو چھونے سے منع کیا ہے اور اس کو مکروہ کہا ہے۔ (فتح القدیر ج ١ ص ٢٧١) لیکن علامہ حموی حنفی نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ بےوضو تفسیر کی کتابوں کو چھونا جائز ہے کیونکہ یہ بھی باقی کتب شرعیہ کی طرح ہیں بلکہ ظاہر یہ ہے کہ ہمارے تمام اصحاب احناف کا یہی قول ہے۔

” شرح دررالبحار “ میں بھی اس کے جواز کی تصریح کی ہے اور ” السراج “ میں ” الایضاح “ سے منقول ہے کہ تفسیر کی کتابوں میں جہاں قرآن مجید کی آیات لکھی ہوں ان کو بےوضو ہاتھ نہ لگائے اور دوسری عبارات کو ہاتھ لگا سکتا ہے ‘ اسی طرح فقہ کی کتابوں میں بھی قرآن مجید کی آیات کو بےوضو ہاتھ نہ لگائے اور فقہی عبارات کو ہاتھ لگا سکتا ہے۔

علامہ شامی لکھتے ہیں : خلاصہ یہ ہے کہ کتب تفسیر اور دیگر کتب شرعیہ کو بےوضو چھونے کے مکروہ ہونے یا نہ ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے (یعنی جو مکروہ کہتے ہیں وہ دونوں کو مکروہ کہتے ہیں اور جو غیر مکروہ کہتے ہیں وہ دونوں کو غیر مکروہ کہتے ہیں) ۔ ” خلاصہ “ کی عبارت کا یہی تقاضا ہے۔ علامہ طحطاوی متوفی ١٣٢١ ھ نے لکھا ہے کہ جو کچھ ” السراج “ میں مزکور ہے وہ قواعد شرع کے زیادہ موافق ہے ‘ یعنی کتب تفسیر میں بےوضو قرآن مجید کی آیات کو ہاتھ نہ لگائے ‘ باقی عبارت کو ہاتھ لگا سکتا ہے۔

(روالمحتارج ١ ص ٦٨٢‘ داراحیاء التراث ‘ بیروت ‘ ٩١٤١ ھ)

علامہ شامی نے اس بحث میں ” النہر الفائق “ کا بھی حوالہ دیا ہے ‘ اس کی اصل عبارت یہ ہے :

علامہ سراج الدین عمر بن ابراہیم ابن نجیم حنفی ٥٠٠١ ھ لکھتے ہیں :

جو شخص بےوضو ہو اس کو صرف قرآن مجید کو چھونے سے منع کیا جائے گا ‘ کیونکہ بغیر وضو کے کتب حدیث اور فقہ کو چھونے میں زیادہ صحیح یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک مکروہ نہیں ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک مکروہ ہیُ اسی طرح ” خلاصہ “ میں ہے اور یہ اختلاف مطلقاََ ہے یعنی امام ابوحنیفہ کے نزدیک کتب تفسیر اور دیگر کتب شرعیہ کو بےوضو لگانا مکروہ نہیں ہے اور صاحبین کے نزدیک دونوں کو بےوضو ہاتھ لگانا مکروہ ہے۔ النہو الفائق ج ١ ص ٤٣١‘ قدیمی کتب خانہ ‘ کراچی ‘ ٢٢٤١ ھ)

مصنف کے نزدیک مختار یہ ہے کہ بےوضوکا قرآن مجید کو ہاتھ لگانا مکروہ تحریمی ہے اور کتب تفسیر اور دیگر کتب فقہ کو بےوضو لگاناجائز ہے ‘ لیکن ان کتابوں میں جو قرآن مجید کی آیات درج ہیں ان کو بےوضو ہاتھ نہ لگایا جائے جیسا کہ ” السراج “ میں مذکور ہے اور علامہ احمد طحطاوی حنفی متوفی ١٣٢١ ھ کا بھی یہی مختار ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی و ٠٠١‘ دارالمعرفۃ ‘ بیروت)

غیر مقلدین کے نزدیک جنبی اور حائض کے تلاوت ِ قرآن کا جواز اور مصنف کا ردّ

شیخ علی بن احمد بن حزم الظاہری المتوفی ٦٥٤ ھ لکھتے ہیں :

قرآن کی تلاوت کرنا ‘ سجدہ تلاوت کرنا اور مصحف کو چھونا اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ‘ یہ سب امور وضو کے ساتھ بھی جائز ہیں اور بغیر وضو کے بھی اور جنبی اور حائض کے لیے بھی۔

رہا بےوضو قرآن مجید کی تلاوت کرنا تو اس میں مخالفین بھی ہمارے موافق ہیں ‘ رہا جنبی اور حائض کو قرآن کی تلاوت سے منع کرنا تو یہ حضرت عمر ‘ حضرت علی (رض) ‘ حسن بصری ‘ قتادہ اور نخعی وغیرھم کا مذہب ہے اور انکی دلیل یہ ہے :

عبداللہ بن سلمہ ‘ حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جنابت کے سوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن مجید کی تلاوت سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی تھی۔

(سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٩٢٢‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٦٤١‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٦١‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٥٩‘ مسند احمد ج ١ ص ٤٨ )

شیخ ابن حزم نے کہا ہے کہ اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فعل ہے کہ آپ اس حالت میں قرآن کریم نہیں پڑھتے تھے لیکن آپ نے جنبی کو تلاوتِ قرآن سے منع نہیں فرمایا اور جن آثار میں ممانعت ہے وہ ضعیف ہیں۔

(المحلیٰ بالاٰ ثارج قص ٦٩‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ٤٢٤١ ھ ‘ ملخصاََ مخرجاََ )

شیخ ابن حزم نے صحیح نہیں لکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی اور حائض کو قرآن پڑھنے سے منع نہیں فرمایا بلکہ آپ نے ان کو قرآن مجید پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور اس سلسلہ میں یہ حدیث ہے :

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حائض اور جنبی بالکل قرآن نہ پڑھیں۔

(سنن ترمذی رقم الحدیث : سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : السنن الکبریٰ ج ١ ص ٩٨‘ معرفۃ السنن والاٰ ثارج اص ٠٩١‘ الکامل لا بن عدی ج ١ ص ٩٨‘ تاریخ بغداد ج ٢ ص ٥٤١‘ سنن دار قطنی ج ١ ص ٧١١۔ رقم الحدیث : ٧١٤‘ حلیۃ الاولیاء ج ٤ ص ٢٢‘ شرح معافی الاٰثاررقم الحدیث : ٦٤٥‘ قدیمی کتب خانہ ‘ کراچی)

امام ترمذی فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے اکثر اہل علم کا اور ان کے بعد کے تابعین کا یہی مسلک ہے ‘ مثلاََ سفیان ثوری ‘ ابن المبارک ‘ شافعی ‘ احمد ‘ اسحٰق وغیرہم ‘ انہوں نے کہا کہ حائض اور جنبی بالکل قرآن نہ پڑھیں ‘ سے ایک آیت اور ایک حرف کے اور انہوں نے ان کو تسبیح اور تہلیل کرنے کی اجازت دی ہے۔

اس حدیث کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ‘ امام بخاری کے نزدیک اس کی اہل شام سے روایت منکر ہے ‘ امام احمد نے کہا کہ یہ بقیہ سے اصلح ہے۔

میں کہتا ہوں کہ امام ترمذی کی سند میں اسماعیل بن عیش کی موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے اور امام دارقطنی کی سند میں مغیرہ بن عبدالرحمن کی موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے ‘ لہٰذا امام بخاری والا اعتراض بھی ساقط ہوگیا ‘ امام دارقطنی کی سند یہ ہے :

محمد بن حمدویۃ المروزی نا عبداللہ بن حماد الامٰلی ثنا عبدالملک بن مسلمۃ حدثنی المخیرۃ بن عبدالرحمان عن موسیٰ بن ققبۃ عن نافع عن ابن عمر قال ‘ قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ” لا یقرء الجنب شینا من القرآن “۔

امام دارقطنی لکھتے ہیں :

مغیرہ بن عبدالرحمان ثقہ ہے اوہ ابو معثر از موسیٰ بن عقبہ سے روایت کرتا ہے۔

(سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٦١٤‘ دارالمعرفۃ ‘ بیروت ‘ ٢٢٤١ ھ)

حضرت علی (رض) نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنابت کے سوا قرآن پڑھنے سے کوئی مانع نہیں تھی۔

(سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٢٢٤‘ دارالمعرفۃ ‘ بیروت ‘ ٢٢٤١ ھ)

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن رواحۃ نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو جنابت کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا۔ (سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٦٢٤۔ ٥٢٤۔ ٤٢٤ )

اس سلسلہ میں بعض آثاریہ ہیں :

عبیدہ السلمانی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) جنبی کے قرآن پڑھنے کو مکرہ فرماتے تھے۔

(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٩٠٣١ طبع جدید ‘ مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٠٨٠١‘ معرفۃ السنن والاٰثار رقم الحدیث : ٥١١‘ شرح معانی الاٰ ثار رقم الحدیث : ٠٦٥ ) ۔

یسار نے کہا : حضرت ابو وائل (رض) نے کہا جنبی اور حائض قرآن نہ پڑھیں۔ ( ‘ مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٨٠٣١)

ابوالغریف بیان کرتے ہیں حضرت علی (رض) نے فرمایا : جنبی قرآن نہ پڑھے ‘ ایک حرف بھی نہ پڑھے۔

( مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث ٦٨٠١‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨٠٣١)

مشہور غیر مقلدعالم شیخ ثناٗ اللہ امرتسری متوفی ٠٥٣١ ھ لکھتے ہیں :

حائضہ عورت قرآن مجید کو ہاتھ نہیں لگا سکتی ‘ زبان سے پڑھ سکتی ہے۔ (فتاویٰ ثنائیہ ج ١ ص ٥٣٥‘ مکتبہ ثنائیہ ‘ سرگودھا)

نیز شیخ ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں :

” ترمذی “ میں حدیث ہے : حائضہ اور جنبی قرآن نہ پڑھیں۔ یہ حدیث اسماعیل بن عیاش کی وجہ سے ضعیف ہے اور حدیث ضعیف ‘ حدیث صحیح کے مقابلہ میں معتبر نہیں ہوتی اور صحیح حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہرحال میں اللہ کو ذکر کرتے تھے۔ اس حدیث سے صاف طور پر چابت ہوا کی جنبی کے لیے قرآن پڑھنا جائز ہے۔

(فتاویٰ ثنائیہ ج ١ ص ٩١٥‘ ملخصاََ ‘ سرگودھا)

میں کہتا ہوں کہ ہم ” سنن دارقطنی “ کے حوالے سے تین احادیث بیان کرچکے ہیں جن کی سند میں اسماعیل بن عیاش نہیں ہے۔ (سن دارقطنی رقم الحدیث : ٢٢٤) اور انہوں نے جس حدیث سے استدلال کیا ہے اس میں یہ مذکور نہیں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالتِ جنابت میں بھی قرآن مجید پڑھتے تھے ‘ حالانکہ نحث اس میں ہے بلکہ حدیث صحیح میں یہ صراحت ہے کہ آپ کو جنابت کے سوا قرآن مجید پڑھنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی تھی۔

ہم نے قرآن مجید کی عزت و ناموس کی وجہ سے اس مسئلہ میں طویل بحث کی ہے ‘ کیونکہ علماء غیر مقلدین کی صریح عبارت سے قرآن مجید کی بہت توہین ہوتی ہے۔

غیر مقلدین کے نزدیک جنبی ‘ حائض اور بےوضو کے سجدہ تلاوت کرنے کا جواز اور مصنف کا ردّ

شیخ علی بن احمد بن حزم الاندلسی المتوفی ٦٥٤ ھ لکھتے ہیں :

رہا سجدہ تلاوت کرنا تو وہ بالکل نماز نہیں ہے ‘ سجدہ تلاوت ایک رکعت ہے نہ دو رکعت ہے ‘ پس وہ با لکل نماز نہیں ہے اور جب سجدہ تلاوت نماز نہیں ہے تو وہ بےوضو بھی جائز ہے اور جنبی اور حائض کے لیے بھی جائز ہے اور قبلہ کیطرف منہ کیے بغیر بھی جائز ہے ‘ جیسا کہ دیگر اذکار اور وظائف بھی جائز ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے ‘ کیونکہ وضو کرنا صرف نماز کے لیے لازم ہے اور جب غیر نماز کے لیے قرآن ‘ سنت ‘ اجماع اور قیاس سے وضو کرنا لازم نہیں ہے تو سجدہ تلاوت کے لیے بھی وضو کرنا لازم نہیں ہے۔ (المحلی بالاٰ ثارج ١ ص ٧٩‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ٤٢٤١ ھ)

ایک اور غیر مقلد عالم شیخ محمد بن علی بن محمد شوکانی متوفی ٥٥٢١ ھ لکھتے ہیں :

سجدہ تلاوت کی احادیث میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جو اس پر دلالت کرے کی سجدہ تلاوت کرنے والے کو باوضو ہانا چاہیے ‘ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ تلاوت کرتے تو آپ کے پاس جو حاضر ہوتے وہ بھی سجدہ تلاوت کرتے تھے اور آپ کسی کو وضو کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے اور یہ بعید ہے کہ اس وقت سب مسلمان با وضو ہوں ‘ نیز جب آپ نے سورة النجم کا سجدہ کیا تھا تو مشرکین نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ تلاوت ادا کیا تھا اور وہ نجس لوگ تھے ان کا و ضو صحیح نہیں تھا۔ (الیٰ قولہ) اس طرح احادیث میں یہ بھی نہیں ہے کہ سجدہ تلاوت کے وقت کپڑے پاک ہوں یا جگہ پاک ہو۔

(نیل الاوطارج ٢ ص ٠٨٣‘ دارالوفائ ١٢٤١ ھ)

شیخ ابن حزم اور شیخ شوکانی نے جنبی اور بےوضو کے سجدہ تلاوت ادا کرنے پر جو دلائل پیش کیے ہیں وہ سب عقل نا تمام اور قیاس فاسد پر مبنی ہیں اور ان کا یہ موقف صریح حدیث ‘ آثار صحابہ اور اجماع کے خلاف ہے۔ شیخ شوکانی نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاضرین کو سجدہ تلاوت کے وقت وضو کرنے کا حکم نہیں دیا اور اس سے یہ استدلال کیا کہ سجدہ تلاوت کے لیے وضو لازم نہیں ہے ‘ یہ استدلال فاسد ہے ‘ بلکہ آپ نے اس وقت وضو کرنے کا حکم اس لیے نہیں دیا کہ سب صحابہ کو معلوم تھا کہ سجدہ تلاوت کے لیے وضو ضروری ہے ‘ پھر شیخ شوکانی نے لکھا کہ یہ بعید ہے کہ اس موقع پر تمام مسلمان با وضو ہوں ‘ بلکہ ہمارے نزدیک یہ بعید ہے کہ صحابہ کرام نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں بےوضو بیٹھے ہوں ‘ پھر شیخ شوکانی نے مشرکین کے سجدہ کرنے سے بھی استدلال کیا ہے کہ ان کا وضو نہیں ہوتا ‘ یہ استدلال بھی فاسد ہے کیونکہ کوئی شرع حکم مشرکین کے قول و فعل سے ثابت نہیں ہوتا اور مسلمانوں کے نزدیک مشرکین کا کوئی قول اور فعل حجت نہیں ہے۔

ہم نے لکھا ہے کہ جنبی ‘ حائض اور بےوضو کا سجدہ تلاوت کرنا حدیث کے خلاف ہے ‘ وہ حدیث یہ ہے۔

امام ابوبکر احمدبن حسین بیہقی متوفی ٨٥٤ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عن ابن عمر لا یسجد الرجل الاوہو طاہر۔ (السنن الکبریٰ ج ٢ ص ٥٢٣) حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ کوئی شخص بغیر وضو کے سجدہ نہ کرے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے تصریح کی ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (فتح الباری ج ٣ ص ٨٥٢) اور شیخ شوکانی نے بھی اس حدیث کی سند کو صحیح کہا ہے۔ (نیل الاوطارج ٢ ص ٠٨٣)

امام ابن ابی شیبہ نے حماد اور سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ جب جنبی شخص آیت سجدہ کو سنے تو غسل کرے اس کے بعد سجدہ کرے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٢ ص ٣١‘ اداراۃ القرآن ‘ کراچی ‘ ٦٠٤١ ھ)

ہشیم ازمغیرہ ازابراہیم نے کہا : جب حائض آیت سجدہ کو سنے تو سجدہ نہ کرے ‘ وہ فرض نماز کے اس سے بڑے سجدہ کو بھی نہیں کرتی۔

حماد کہتے ہیں : میں نے سعید بن جبیر اور ابراہیم سے سوال کیا کہ حائض آیت سجدہ کو سن کر کیا کرے ؟ انہوں نے کہا : اس پر سجدئہ تلاوت نہیں ہے ‘ نماز کا سجدہ اس سے زیادہ بڑا ہے۔

عطاء سے سوال کیا گیا کہ اگر حائض ان لوگوں کے پاس سے گزرے جو سجدئہ تلاوت کر رہے ہیں تو آیا ان کے ساتھ سجدہ کرے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! وہ اس سے افضل سجدہ نہیں کرتی۔

اشعث نے حسن بصری سے سوال کیا کی جنبی اور حائض آیتِ سجدہ کو سنیں تو کیا کریں ؟ انہوں نے کہا : وہ سجدہ نہ کریں۔

(مصنف ابن ابی شیبہ ج ٢ ص ٤١۔ ٣١‘ اداراۃ القرآن ‘ کراچی ‘ ٦٠٤١ ھ)

امام عبدالرزاق بن ھمام صنعانی متوفی ١١٢ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابراہیم نے کہا : جب تم آیت سجدہ کو سنو اور تمہارا وضو نہ ہو تو تم تیمّم کرکے سجدہ کرو۔

حماد نے ابراہیم سے روایت کیا کہ وہ وضو کرکے سجدہ کرے۔

(مصنف عبدالرزاق ج ٣ ص ٢١٢۔ ١١٢‘ رقم الحدیث : ٥٥٩٥۔ ٤٥٩٥‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

ان احادیث اور آثار کے بعدسجدہ تلاوت کے لیے طہارت کے لزوم پر اجماع کی تصریح یہ ہے :

علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٠٢٦ ھ لکھتے ہیں :

بےوضوسجدہ نہ کرے ‘ سجدہ تلاوت کی وہی شرائط ہیں جو نفل نماز کی شرائط ہیں ‘ یعنی بےوضو نہ ہو ‘ نجاست سے پاک ہو ‘ شرم گاہ مستور ہو ‘ قبلہ کی طرف منہ ہو اور سجدہ تلاوت کی نیت کرے ‘ ہمارے علم میں اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں ہے ‘ ماسوا اس کے کہ حضرت عثمان (رض) نے کہا : جب حائض آیتِ سجدہ کو سنے تو وہ سر سے اشارہ کرلے ‘ اور شعبی نے کہا : جب بےوضو شخص آیت سجدہ سنے تو جس طرف منہ ہو سجدہ کرلے۔

ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ بغیر وضو کے نماز قبول نہیں فرماتا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١‘ مسند احمد ج ٢ ص ٩) اور اس حدیث کے عموم میں سجدہ تلاوت بھی داخل ہے۔ (المغنی مع الشرح الکبیرج ١ ص ٦٨٦‘ دارالفکر ‘ بیروت)

جنبی ‘ حائض اور بےوضو کے قرآن مجید کو چھونے پر شیخ شوکانی کا استدلال اور مصنف کا ردّ

جنبی ‘ حائض اور بےوضو کے قرآن مجید کو چھونے کے جواز پر استدلال کرتے ہوئے شیخ شوکانی نے کہا کہ ہرچند کہ حدیث میں ہے : طاہر شخص کے سوا کوئی قرآن مجید کو نہ چھوئے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧١٢٣١‘ مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٥٦٤ )

لیکن طاہر کا لفظ کئی معنی میں استعمال ہوتا ہے ‘ طاہر اس کو بھی کہتے ہیں : جو جنبی ہو نہ بےوضو ہو اور طاہر اس کو بھی کہتے ہیں جس کے بدن پر نجاست نہ ہو ‘ سو یہ مشترکہ لفظ ہے اور اس سے با وضو ہونے پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے۔

نیز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھرقل کی طرف مکتوب لکھا اور اس مکتوب میں آل عمران : ٤٦ آیت تھی۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٧٧١) ( نیل الاوطار ج ١ ص ٥٩٢۔ ٤٩٢‘ دارالوفاء ‘ ١٢٤١ ھ)

یہ درست ہے کہ مشترکہ لفظ سے کسی ایک معنی پر استدلال جائز نہیں ہوتا لیکن جب قرینہ سے کوئی ایک معنی متعین ہوجائے تو پھر اس سے استدلال کرنا صحیح ہے اور یہاں ایسا ہی ہے کیونکہ احادیث سے واضح ہے کہ یہاں طاہر سے مراد باوضو ہے :

امام علی بن عمر الدارقطنی متوفی ٥٨٣ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر تلوار لٹکائے ہوئے جا رہے تھے ‘ ان کو بتایا گیا کہ آپ کے بہنوئی اور آپ کی بہن اپنے آبائی دین سے نکل چکے ہیں ‘ حضرت عمر ان کے پاس گئے ‘ اس وقت ان کے پاس مہاجرین میں سے ایک شخص تھا ‘ ان کا نام حضرت خباب تھا اور وہ اس وقت سورة طٰہٰ پڑھ رہے تھے ‘ حضرت عمر نے کہا : مجھے بھی وہ کتاب دو جو تم پڑھ رہے تھے ‘ میں بھی اس کو پڑھتا ہوں اور حضرت عمر کو کتاب پڑھنی آتی تھی ‘ ان کی بہن نے کہا : تم ناپاک ہو اور قرآن مجید کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں ‘ پس آپ کھڑے ہوں اور غسل کریں یا وضو کریں ‘ پھر حضرت عمر نے وضو کیا اور کتاب کو لیا اور سورة طٰہٰ پڑھی۔ (سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٤٣٤‘ دارالمعرفۃ ‘ بیروت ‘ ٢٢٤١ ھ)

علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سلمان فارسی (رض) کے ساتھ ایک سفر میں تھے انہوں نے رفع حاجت کی ‘ ہم نے ان سے کہا : آپ وضو کرلیں حتیٰ کہ ہم آپ سے قرآن مجید کی ایک آیت کے متعلق سوال کریں ‘ انہوں نے کہا : تم مجھ سے سوال کرو ‘ میں قرآن مجید کو چھوؤں کا نہیں ‘ پھر انہوں نے ہمارے منشاء کے مطابق قرآن پڑھا اور ہمارے اور ان کے درمیان پانی نہیں تھا۔ (سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٧٣٤۔ ٦٣٤۔ ٥٣٤‘ دارالمعرفۃ ‘ بیروت ‘ ٢٢٤١ ھ)

امام دارقطنی نے اس حدیث کو تین سندوں سے روایت کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس کے راوی ثقہ ہیں اور ان احادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ مذکور الصدر حدیث میں طاہر کا معنی باوضو ہے اور اس حدیث پر شیخ شوکانی کا جو اعتراض تھا وہ دور ہوگیا۔

اس مسئلہ میں غیر مقلدین کے ایک اور عالم نواب صدیق حسن خان قنوجی متوفی ٧٠٣١ ھ کا بھی یہی مئوقف ہے۔

وہ لکھتے ہیں :

” لایمسہ الا المطھرون “۔ (الواقعہ : ٩٧) میں جمہور ائمہ کا یہ مذہب ہے کہ بےوضو کا قرآن مجید کو چھونا جائز نہیں ہے۔

حضرت علی ‘ حضرت ابن مسعود ‘ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت سعید بن زید (رض) کا اور فقہاء تابعین میں سے عطائ ‘ زہری ‘ نخعی ‘ حکم ‘ حماد اور ائمہ اربعہ کا یہی موقف ہے اور اس مسلہ میں جو حق ہے اس کو شوکانی نے منتقی کی شرح ( نیل الاوطار ج ١ ص ٥٩٢۔ ٤٩٢) میں واضح کیا ہے۔ (فتح البیان ج ٦ ص ٢٤٥‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ٢٠٤١ ھ)

نوٹ : اس جگہ شیخ قنوجی نے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک بھی بےوضو کا قرآن کو چھونا جائز ہے لیکن یہ بالکل غلط اور باطل ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک بےوضو کا قرآن مجید کو چھونا جائز نہیں ہے ‘ البتہ تفسیر اور فقہ کی کتابوں کو بےوضو کا چھونا جائز ہے ‘ جیسا کہ یم اس مسلہ میں مذہب احناف کے تحت بیان کرچکے ہیں۔

ہم نے اس الواقعہ : ٩٧ کی تفسیر میں بہت طویل بحث کی ہے اور اس کی وجہ صرف قرآن مجید سے محبت ‘ اس کی تعظیم اور تکریم اور جنبی اور حائض سے اس کی تلاوت اور مس کو محفوظ رکھنا اور بےوضو کے مَس سے اس کو مامون رکھنا ہے اور منکرین اور مخالفین کے شبہات کو دور کرنا ہے۔ وللہ الحمدعلیٰ ذالک

حائضہ اور جنبی کے مسجد میں داخل ہونے کے جواز پر علماء غیر مقلدین کے دلائل اور ان کے جوابات

علماء غیر مقلدین کے نزدیک حائضہ عورت کا مسجد میں جانا اور وہاں رہنا اور مسجد میں اعتکاف کرنا جائز ہے۔ ہم اس سلسلہ میں پہلے شیخ علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی متوفی ٦٥٤ ھ کے دلائل پیش کریں گے اور ان کے دلائل کے ساتھ ساتھ ان کا رد بھی کریں گے :

شیخ علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی اس مسلہ پر درج ذیل حدیث سے استدلال کرتے ہیں :

حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : مجھے مسجد سے جائے نماز اٹھا دو ۔ وہ کہتی ہیں : میں نے عرض کیا : میں حائضہ ہوں۔ تور سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٩٢‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ١٦٢‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٣١‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٧٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٣٦) (المحلی بالاٰ ثارج ١ ص ٩٩٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ٤٢٤١ ھ)

علماء غیر مقلدین کا اس حدیث سے استدلال اس وقت صحیح ہوگا جب اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عائشہ حجرہ سے نکل کر مسجد میں جائیں اور وہاں سے مصلّیٰ لا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیں ‘ جب کہ اس حدیث کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ اپنے حجرہ سے ہاتھ بڑھا کر مسجد سے مصلّیٰ اٹھا کر حضور کو دیں اور اس معنی پر قرینہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا : تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ‘ ورنہ فرماتے کہ تمہارا حیض تمہارے پیروں میں تو نہیں ہے ‘ اور حضرت عائشہ کا حجرہ مسجد سے متصل تھا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں معتکف ہوتے تو اپنا سر مبارک حجرہ میں داخل کردیتے اور حضرت عائشہ آپ کا سر دھوتی تھیں اور اس وقت بھی حضرت عائشہ (رض) حائضہ تھیں۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ١٣٠٢‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٧٦٤٢‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٠٨)

اگر حائضہ کا مسجد میں آنا جائز ہوتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت بھی حضرت عائشہ کو مسجد میں بلا لیتے اور حجرہ میں سر مبارک داخل نہ کرتے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس حدیث سے شیخ ابن حزم نے استدلال کیا ہے ‘ اس میں مسجد سے مراد مسجد نبوی نہ ہو ‘ بلکہ مسجد بیت ہو۔ یعنی حجرہ کی وہ جگہ جس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاز کے لیے مخصوص فرمالیا تھا۔

اس کے بعدشیخ ابن حزم لکھتے ہیں :

جو ائمہ حائضہ عورت کا مسجد میں جاننا جائز کہتے ہیں ‘ ان کی دلیل درج ذیل حدیث ہے :ـ

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ان گھروں (کے دروازوں) کارُخ مسجد سے پھیر دو کیونکہ میں حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد ( میں جانے) کو حلال نہیں کرتا۔

(سنن ابواداؤد رقم الحدیث : ٢٣٢‘ سنن بیہقی ج ٢ ص ٢٤٤)

شیخ ابن حزم نے اس حدیث کی مسترد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کی سند میں افلت بن خلیفہ ہے ‘ یہ راوی غیر مشہور ہے اور ثقاہت میں معروف نہیں ہے۔ (المحلّی بلٰاثارج ١ ص ١٠٤)

ایک اور غیر مقلّد عالم شیخ محمد بن علی بن محمد شوکانی متوفی ٥٥٢١ ھ نے شیخ ابن حزم کے اس کلام پر رد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کیونکہ افلت کو امام ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام ابوحاتم نے کہا کہ وہ شیخ ہے اور امام احمد بن حنبل نے کہا کہ اس کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے اور ” الکاشف “ میں مذکور ہے کہ یہ بہت زیادہ سچا ہے اور ” البدرالمنیر “ میں مذکور ہے کہ وہ مشہور ثقہ ہے۔ (نیل الاوطارج ١ ص ٥٢٣‘ مطبوعہ دارالوفائ ‘ ١٢٤١ ھ)

اس کے بعد شیخ ابن حزم نے مانعین کی دوسری حدیث نقل کی ہے کہ :

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہ آواز بلند نداء کی : سنو ! یہ مسجد نہ جنبی کے لیے حلال ہے نہ حائضہ کے لیے ‘ مگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی ازواج کے لیے اور علی کے لیے اور فاطمہ کے لیے ( رض) اجمعین) ۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٥٤٦ )

شیخ ابن حزم لکھتے ہیں ـ : اس حدیث کی سند میں محدوج الہذلی ہے جو جسرہ بنت دجاجہ سے روایت کرتے ہیں۔ محدوج ساقط ہے ‘ اور جسرہ سے معضلات روایت کرتا ہے۔ نیز اس روایت کی سند میں ابو الخطاب الہجری ہے ‘ وہ مجہول ہے۔ وغیرہ

(المحلّی با لاثارج ١ ص ١٠٤)

شیخ شوکانی نے شیخ ابن حزم کی اس عبارت کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام بخاری نے کہا کہ جس رہ کے پاس عجائب ہیں۔ امام بن القطان نے کہا کہ امام بخار کا یہ قول جسرہ کی احادیث کو رد کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اور العجلی نے کہا کے وہ ثقہ تابعیہ ہے۔ امام بن حبان نے اس کا ذکر ثقات میں کیا ہے۔ اور امام ابن خزیمہ نے اپنی ” صحیح “ میں جسرہ کی اس روایت کا ذکر کیا ہے۔ ابن سید الناس نے کہا کہ اگر اس حدیث کو حسن کہا جائے تو یہ اس کا بہت کم مرتبہ ہے ‘ کیونکہ اس کے راوی ثقہ ہے اور اس کی صحت پر خارجی شواہد ہیں۔ لہٰذا شیخ ابن حزم کے پاس اس حدیث کو رد کرنے کے لیے کوئی حجت نہیں ہے۔

آگے چل کر شیخ شوکانی نے لکھا ہے کہ افلت کو مردود کہنا مردود ہے ‘ کیونکہ ائمہ حدیث میں سے کسی نے اس کو مردود نہیں کہا۔ اس کے بعد شیخ شوکانی لکھتے ہیں : یہ دونوں احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ جنبی اور حائض کا مسجد میں ٹھہرنا جائز نہیں ہے اور یہی اکثرین کا مذہب ہے اور جمہور نے اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے اس حدیث سے بھی جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ کو حالت حیض میں بیت اللہ کو طواف کرنے سے منع فرمایا تھا۔ اور داؤد (ظاہری) او مزنی وغیرہم نے کہا کی جنبی اور حائضہ کا مسجد میں ٹھہرنا مطلقاََ جائز ہے۔ (نیل الاوطارج ١ ص ٦٢٣۔ ٥٢٣ )

اس کے بعد شیخ ابن حزم نے حائضہ عورت کے مسجد میں ٹھہرنے پر درج ذیل حدیث سے استدلال کیا ہے :

حضرت عائشہ ام المؤمنین (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک سیاہ فام لڑکی عرب کے کسی قبیلہ کی تھی ‘ انہوں نے اس کو آزاد کیا تھا ‘ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر مسلمان ہوگئی ‘ اس کے لیے مسجد میں خیمہ تھا۔

(صحیح بخاری رقم الحدیث : ٩٣٤)

شیخ ابن حزم کہتے ہیں کہ یہ عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں رہتی تھی اور عورتوں کے متعلق معلوم ہے کہ ان کو حیض آتا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو منع نہیں فرمایا اور ہر وہ کام جس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منع نہ فرمائیں وہ مباح ہے۔

(المحلی بالاثارج ١ ص ١٠٤)

شیخ ابن حزم کی اس دلیل پر ہمارہ تبصرہ یہ ہے کہ اس حدیث میں مذکور نہیں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تاحیات اس لڑکی کو مسجد میں رہنے کی اجازت دی تھی ‘ نہ یہ مذکور ہے کہ ایک لمبے عرصے تک رہنے کی اس کو اجازت دی تھی ورنہ دیگر احادیث میں اس کا ذکر ہوتا۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے وقتی اور عارضی طور پر اس کو مسجد میں ٹھہرایا تھا جب تک کہ اس کی رہائش کا کوئی معقول بندوبست نہیں ہوگیا۔

اس کے بعد شیخ ابن حزم اپنے موقف پر اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے لیے تمام روح زمین کو مسجد بنادیا گیا۔

(صحیح بخاری رقم الحدیث : ٥٣٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٢٥‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٣٤)

شیخ ابن حزم اس حدیث سے اس طرح استدلال کرتے ہیں کہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے کہ حائضہ اور جنبی کے لیے تمام روئے زمین پہ رہنا مباح ہے اور تمام روئے زمین مسجد ہے تو پھر کسی مسجد میں رہنے سے منع کرنا اور کسی مسجد میں جائز قرار دینا یہ قطعاََ جائز نہیں ہے اور اگر حائضہ کے لیے مسجد میں داخل ہونا ناجائز ہوتا تور سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عائشہ کو بتا دیتے ‘ جب انہیں حیض آیا ‘ حالانکہ آپ نے انہیں صرف بیت اللہ کے طوائف سے منع فرمایا تھا۔ (المحلی بالاثارج ١ ص ٢٠٤۔ ١٠٤)

شیخ ابن حزم کا یہ استدلال انتہائی عجیب و غریب ہے۔ اس طرح تو کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ تمام روئے زمین میں لوگوں کا خریدوفروخت کرنا ‘ بیویوں سے مجامعت کرنا ‘ قضائے حاجت کرنا مباح ہے اور تمام روئے زمین مسجد ہے تو ثابت ہوا کے مسجد میں بھی یہ سب کام جائز ہیں اور بعض مساجد کو ان کاموں سے خاص کرلینا یہ جائز نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی بات کوئی فاتر العقل ہی کہ سکتا ہے۔

اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ زمین کے جس ٹکڑے کو اپنی ملکیت سے خارج کرکے اسے مسجد کے لیے وقف کردیا اور وہاں مسجد کی عمارت بنادی ‘ اس کا حکم یہ ہے کہ وہاں با جماعت نماز پڑھنے سے ٧٢ درجہ ثواب ہوگا اور جمعہ پڑھنے سے پانچ سو گنا ثواب ہوگا اور اس مسجد میں خریدو فروخت کرنا اور حائضہ اور جنبی کا اس میں داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ زمین کے جس ٹکڑے پر نماز پڑھی جائے ‘ جہاں عُرفاََ مسجد قائم نہ ہو ‘ وہاں نماز پڑھنے سے نماز تو ہوجائے گی ‘ لیکن اس جگہ نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہ ہوگا اور نہ اس جگہ خریدو فروخت اور دیگر دنیاوی کاموں سے منع کیا جائے گا۔ باقی رہا شیخ ابن حزم کا یہ کہنا کہ اگر یہ ناجائز ہوتا تو آپ حضرت عائشہ کو بتاتے ‘ سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو بتایا ہے ‘ جیسا کہ ہم اس سے پہلے حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کی احادیث سے بیان کرچکے ہیں۔

طواف بالبیت سے ممانعت کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو ذکر فرمایا تھا ‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عائشہ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور اس میں بیت اللہ کا طواف کرنا ہوتا ہے اور طواف کے لیے حضرت عائشہ کو بیت اللہ میں داخل ہونا پڑتا اور وہ حائضہ تھیں ‘ جس کی وجہ سے وہ مسجد میں داخل نہیں ہوسکتی تھیں ‘ اس لیے آپ نے انہیں طواف بالبیت سے منع فرمایا۔ یعنی طواف بالبیت سے منع کرنے کی علت یہی ہے کہ اس میں مسجد میں داخل ہونا لازم آتا ہے جو کہ حائضہ کے لیے جائز نہیں۔

شیخ تقی الدین احمد بن تیمیہ الحرانی المتوفی ٨٢٧ ھ لکھتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک ارشاد یہ ہے کہ تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٩٢) اس حدیث کا تقاضہ یہ ہے کہ حائضہ کا مسجد میں جانا اور مسجد میں رہنا مطلقاََجائز ہے اور آپ کا دوسرا اشارہ یہ ہے کہ میں مسجد کو جنبی اور حائضہ کے لیے حلال نہیں کرتا۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٣٢) ان دونوں احادیث میں تطبیق دینا ضروری ہے کیونکہ ان میں سے کوئی بھی دوسری ناسخ نہیں ہے اور ان میں تطبیق اس طرح ہے کہ ضرورت کی بناء پر ؛ جنبی اور حائضہ کا مسجد میں رہنا اور جانا جائز ہے اور بلا ضرورت جائز نہیں ہے ‘ جیسا کہ خون اور خنزیر کا گوشت حرام ہے لیکن ضرورت کے وقت مباح ہیں۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ ج ٦٢ ص ٩٠١‘ ملخصاََ ‘ مطبوعہ دارالجیل ‘ ریاض ‘ ٨١٤١ ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ شیخ ابن تیمیہ کے نزدیک مطلقاََ حائضہ اور جنبی کا مسجد میں جانا اور رہنا جائز نہیں ہے ‘ ضرورت کی بناء پر جائز ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے ‘ جب کہ عام غیر مقلدین حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد میں جانے کو مطلقاََ جائز کہتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 79