أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ ۞

ترجمہ:

بیشک یہ ( قرآن) نصیحت ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک یہ قرآن نصیحت ہے۔ سو جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔ یہ عزت والے صحیفوں میں ہے۔ جو بلندی والے پاکیزہ ہیں۔ ان کے ہاتھوں سے لکھے ہوئے۔ جو عزت والے نیک ہیں۔ ( عبس : ٦١۔ ١١)

قرآن مجید کا پاکیزہ فرشتوں کے ہاتھوں سے لکھا ہوا ہونا

عبس : ١١ میں فرمایا : بیشک یہ قرآن نصیحت ہے۔

” کلا “ حرف زجر ہے، اس کا معنی ہے : جس پر عتاب کیا گیا ہے وہ دوبارہ ایسا کام نہ کرے جو مستوجب عتاب ہو، حسن بصری نے کہا : جب حضرت جبریل (علیہ السلام) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ان آیات کو پڑھا تو آپ بہت متاسف ہوئے اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ سے غم کی کیفیت دور ہوگئی، کیونکہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ آپ کا حضرت ابن ام مکتوم سے اعراض کرنا صرف ترک اولیٰ تھا۔

اس سے پہلی سورتوں کے ساتھ اس آیت کے اتصال کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف یہ وحی کی ہے کہ آپ کافر دنیا داروں کو مؤخر کریں اور مسلمان فقراء کو مقدم رکھیں یہ صرف اللہ تعالیٰ کش طرف سے آپ کو نصیحت ہے، آپ پر مواخذہ یا گرفت نہیں ہے، اسلام پوری طرح واضح ہوچکا ہے خواہ کوئی دنیا دار اس کو قبول کرے یا نہ کرے، سو آپ کو ان کی طرف زیادہ التفات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 11