۱۰ – بَابٌ وَضْعِ الْمَاءِ عِنْدَ الْخَلَاءِ

بیت الخلاء کے پاس پانی رکھنا

باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت واضح ہے کیونکہ دونوں بابوں میں بیت الخلاء کے متعلق احکام ہیں ۔

١٤٣ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ مِنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عُبَيْدِاللہ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس اَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْخلَاءِ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوْء اقال مَنْ وَضَعَ هَذَا؟ فَأَخَيرَ، فَقَالَ اللَّهُمَّ فَقِهْهُ فِى الدِّينِ۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ہاشم بن القاسم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ورقاء نے حدیث بیان کی از عبید اللہ بن ابی یزید از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوئے تو میں نے آپ کے وضوء کے لیے پانی رکھا آپ نے پوچھا: یہ کس نے رکھا ہے؟ پس آپ کو خبر دی گئی تو آپ نے دعا کی: اے اللہ ! اس کو دین میں فقہ عطا فرما! 

اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۷۵ میں گزر چکی ہے اور اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت حدیث کے اس جملہ میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوئے تو میں نے آپ کے وضوء کے لیے پانی رکھا۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(1) عبد الله بن محمد الجعفى المسند ” باب امور الایمان میں ان کا تعارف ہو چکا ہے

(۲) باشم بن القاسم ابوالنصر الخراسانی یہ حافظ ،ثقہ ،صاحب سنت تھے اہل بغداد ان پر فخر کرتے تھے ۲۰۷ھ میں ۷۳ سال کی عمر میں فوت ہو گئے

(۳) ورقاء بن عمر الیشکری الکوفی یہ خوارزم کے تھے مدائن میں سکونت رکھی انہوں نے عبد اللہ بن محمد اور دیگر سے روایت کی ہے اور ان سے الفریابی نے روایت کی ہے یہ ۱۶۷ ھ میں فوت ہوگئے تھے

(۴) عبید اللہ بن ابی یزید المکی یہ ثقہ اور کثیر الحدیث تھے 126 ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۵) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  انکا تعارف ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۱۶ – ۴۱۵)

بعض علماء کا پانی سے استنجاء کا انکار کرنا اور ان کے رد میں احادیث

علامہ ابوالحسن علی بن خلف بن عبد الملک ابن بطال البكرى القرطبی المالکی المتوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیت الخلاء میں پانی رکھنا حدث سے استنجاء کے لیے ہے، اس میں ان علماء کا رد ہے، جنہوں نے پانی سے استنجاء کرنے کا انکار کیا ہے انہوں نے کہا: پانی سے استنجاء کرنا صرف عورتوں کے لیے مشروع ہے اور مرد صرف پتھر سے استنجاء کرتے تھے۔ (شرح ابن بطال ج ۱ ص ٬۲۳۵ دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۲۴ھ )

میں کہتا ہوں کہ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے استنجاء کرتے تھے :

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے باہر آتے تو پانی سے استنجاء کرکے آتے تھے۔

(صحیح ابن حبان : ۱۴۴۱ مؤسسة الرسالة بيروت 1414ھ)

ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پانی سے استنجاء کرتے تھے یا وضوء کرتے تھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۱۵۳ ادارۃ القرآن’ کراچی)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی قضاء حاجت کر کے آتے تو میں اور انصار کا ایک اور لڑکا مشکیزہ میں پانی لاتے، جس سے آپ استنجاء کرتے تھے ۔ (صحیح البخاری :۱۵۰ مصنف ابن ابی شیبه ج 1 ص ۱۵۲ مسند احمد ج ۳ ص ۲۰۳ صحیح مسلم:۲۷۱ شرح السنتہ : ۱۹۵ صحیح ابن خزیمہ: 85، صحیح ابن حبان : ۱۴۴۲)

معاذہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کیا کریں، کیونکہ مجھے ان سے یہ کہتے ہوئے حیاء آتی ہے، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے استنجاء کرتے تھے ۔

( سنن ترمذی : ۱۹ مصنف ابن ابی شیبه ج ا ص 152، سنن بیہقی ج ا ص ۱۰۵ مسند احمد ج ۱ ص ۱۱۴ – ۱۱۳ صحیح ابن حبان : ۱۴۴۳)