أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا الۡبِحَارُ فُجِّرَتۡ ۞

ترجمہ:

اور جب سمندر ( اپنی جگہ سے) بہادیئے جائیں گے.

الانفطار : ٣ میں فرمایا : اور جب سمندر ( اپنی جگہ سے) بہا دیئے جائیں گے۔

سمندروں کو بہانے کے محامل

بعض مفسرین نے کہا : تمام سمندروں کا پانی ایک سمندر میں بہا دیا جائے گا، پھر اس سمندر کے پانی کو زمین جذب کرلے گی، پھر اللہ تعالیٰ تمام زمین کو ہم وار کر دے گا حتیٰ کہ اس میں کوئی اونچی نیچی جگہ نہیں رہے گئی، پھر اللہ تعالیٰ پہاڑوں میں سے یا کسی اور چیز سے زمین کو ہم وار کر دے گا حتیٰ کہ اس میں کوئی اونچی نیچی جگہ نہیں رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ پہاڑوں سے یا کسی اور چیز سے زمین کو خشک کر دے گا اور بعض مفسرین نے کہا : ہر سمندر کا پانی اپنی جگہ جوش مارے گا اور یہ نہیں ہوگا کہ تمام سمندروں کا پانی کسی ایک سمندر میں جمع ہوجائے۔

امام رازی نے لکھا ہے : اس کی تین صورتیں ہیں : (١) سمندروں کے درمیان جو اللہ تعالیٰ نے حاجب اور رکاوٹ بنائی ہے جو بعض سمندروں کو بعض سے ملنے نہیں دیتی، اللہ تعالیٰ وہ رکاوٹ اٹھالے گا حتیٰ کہ تمام سمندر مل کر ایک سمندر بن جائیں گے اور یہ رکاوٹ زمین میں زلزلہ آنے سے زائل ہوجائے گی (٢) اس وقت سمندر کا پانی ٹھہرا ہوا اور مجتمع ہے، پس جب سمندروں کو بہار دیا جائے گا تو یہ پانی متفرق ہو کر چلا جائے گا (٣) حسن بصری نے کہا :” فجرت “ کا معنی ہے : سمندر کو خشک کردیا جائیگا۔ ( تفسیر کبیر ج ١١ ص ٧٣)

علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ (١) سمندروں کے درمیان جو رکاوٹیں ہیں ان کو زائل کردیا جائے گا، پھر میٹھا پانی کڑوے پانی کے ساتھ مل کر ایک سمندر بن جائے گا (٢) زمین تمام سمندروں کے پانی کو جذب کرلے گی اور ہم وار ہوجائے گی اور تمام زمینیں اس میں برابر ہوں گی کہ اس میں پانی نہیں ہوگا اور زمین کا ہم وار ہونا اس آیت سے معلوم ہوتا ہے :

لَّا تَرٰی فِیْھَا عِوَجاً وَّلَآ اَمْتًا۔ (طہٰ : ١٠٧) آپ اس زمین میں نہ کہیں موڑ دیکھیں گے نہ اونچ نیچ۔

(روح المعانی جز ٣٠ ص ١١١۔ ١١٠، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

اس آیت سے علامہ آلوسی کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے کہ سمندروں کے بہانے سے زمین ہم وار ہوجائے گی بلکہ اس آیت کا سیاق وسباق یہ ہے کہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرنے سے زمین ہم وار ہوجائے گی، قرآن مجید میں ہے :

وَ یَسْئَلُوْنَـکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَـنْسِفُھَا رَبِّی نَسْفًا۔ فَـیَـذَرُھَا قَاعًا صَفْصَفًا۔ َا تَرٰی فِیْھَا عِوَجاً وَّلَآ اَمْتًا۔ (١٠٥۔ ١٠٧)

اور وہ آپ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہیے کہ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گا۔ اور زمین کو ہم وار اور صاف میدان کر کے چھوڑ دے گا۔ آپ اس زمین میں نہ کہیں موڑ دیکھیں گے اور نہ اونچ نیچ۔

القرآن – سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 3