فِىۡۤ اَىِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ – سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 8
sulemansubhani نے Wednesday، 27 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فِىۡۤ اَىِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ ۞
ترجمہ:
پھر جس صورت میں چاہا تجھے بنادیا.
الانفطار : ٨ میں فرمایا : پھر جس صورت میں چاہا تجھے بنادیا۔
اللہ تعالیٰ کا انسان کو معتدل صورت بنانا
یعنی اللہ تعالیٰ نے سجھے اس صورت میں بنادیا، جس صورت میں تو اب ہے، اس نے تجھے کسی حیوان کی صورت میں نہیں بنایا، اس میں عقل اور تمیزرکھی جس سے وہ نفع اور نقصان کو پہچان سکتا ہے اور اس کو ایسی صورت میں بنایا کہ آسمانوں اور زمینوں اور حیوانوں کو اس کے لیے مسخر کردیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
سَخَّرَ لَـکُمْ مَّا فِی السَّمٰـوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاَسْبَغَ عَلَیْکُمْ نِعَمَہٗ ظَاھِرَۃً وَّبَاطِنَۃً ط (لقمان : ٢٠ )
اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کردیا ہے اور اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم کو وافر مقدار میں دے رکھی ہیں۔
وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰـھُمْ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰـھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰـھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلاً ۔ (بنی اسرائیل : ٧٠)
ہم نے اولاد آدم کو بہت عزت دی اور ان کو خشکی اور سمندر کی سواریوں میں سوار کیا اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے روزی دی اور ان کو بہت ساری مخلوق پر فضلیت عطاء فرمائی۔
سب چیزیں انسان کے لیے مسخر کی ہیں اور انسان کو کسی چیز کے لیے مسخر نہیں کیا اور اس کو یہ نعمتیں اس لیے یاد دلائی ہیں کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکرادا کرے۔
امام رازی نے کہا : اللہ نے انسان کے اعضاء معتدل بنائے، ایسا نہیں کیا کہ ایک ہاتھ بڑا اور دوسرا ہاتھ چھوٹا ہوتا، یا ایک ٹانگ بڑی ہوتی اور دوسری چھوٹی ہوتی، اسی طرح ایک آنکھ بڑی ہوتی اور دوسری چھوٹی ہوتی، اسی طرح اس کی ہڈیاں، اس کے اعصاب اور اس کی شریانیں سب بہترین حکمت پر بنائی گئی ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور قوت کا ذکر فرمایا ہے تاکہ انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اس کی نافرمانی کو ترک کر کے اور اس کی اطاعت اور عبادت کی طرف سبقت کرے۔
القرآن – سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 8