أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالدِّيۡنِ ۞

ترجمہ:

بیشک تم روز جزاء کو جھٹلاتے ہو۔

الانفطار : ٩ میں فرمایا : بیشک تم روز جزا کو جھٹلاتے ہو۔

روز ِ جزاء کی تکذیب کے محامل

اس آیت کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) میں نے تم کو جو نعمتیں عطاء کی ہیں، تم ان نعمتوں کو ان کے مقاصد میں میری ہدایت کے مطابق خرچ نہیں کرتے، بلکہ تم روز جزاء کی تکذیب کرتے ہو۔

(٢) تم اللہ تعالیٰ کے کرم سے دھوکا نہ کھائو، حالانکہ تم گناہوں سے باز نہیں آتے بلکہ تم روز جزاء کو جھٹلاتے ہو۔

(٣) جیسے تمہارا گمان ہے کہ نہ کوئی مرنے کے بعد زندہ ہوگا نہ کسی کو حساب و کتاب کے لیے محشر میں لایا جائے گا، اس طرح نہیں ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو عبث اور بےکار پیدا کیا ہے اور تم اس نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے، بلکہ تم اس کو جھٹلاتے ہو۔

اس آیت میں ” دین “ کا لفظ ذکر فرمایا ہے، اس جگہ ” دین “ سے مراد حساب بھی ہے یعنی تم روز حساب کی تکذیب کرتے ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” دین “ سے مراد دین اسلام ہو۔

القرآن – سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 9