أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ ۞

ترجمہ:

اے انسان ! تجھے اپنے رب کریم سے کس چیز نے دھوکے میں رکھا تھا ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے انسان ! تجھے اپنے رب کریم سے کس چیز نے دھوکے میں رکھا تھا ؟۔ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ( تیرے اعضاء کو) متناسب بنایا۔ پھر جس صورت میں تجھے چاہا بنادیا۔ بیشک تم روز جزاء کو جھٹلاتے ہو۔ اور بیشک تم پر نگہبان (مقرر) ہیں۔ معزز لکھنے والے۔ وہ جانتے ہیں تم جو کچھ عمل کرتے ہو۔ ( الانفطار : ١٢۔ ٦)

الانفطار : ٦ میں فرمایا : اے انسان ! تجھے اپنے رب کریم سے کس چیز نے دھوکے میں رکھا تھا ؟۔

اللہ تعالیٰ کا اپنی کریمی کے تقاضے سے فوراً گناہوں پر سزا نہ دینا اور اس سے انسان کا دھوکہ کھانا

تجھے کس چیز نے دھوکے میں رکھا تھا کہ تو نے اپنے رب کی اطاعت اور عبادت سے اعراض کیا اور تو گناہوں کے ارتکاب میں مشغول رہا۔

اس آیت میں رب کے ساتھ اس کی صفت کریم کا ذکر فرمایا ہے اور یہی انسان کو دھوکے میں رکھنے کی علت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے انسان کے گناہ پر فوراً گرفت نہیں فرماتا اور اس سے در گزر فرماتا ہے، یا اپنی گرفت کو مؤخر فرما دیتا ہے اور اس نے انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ انسان کے گناہوں کو معاف فرماتا رہے گا، ورنہ گناہ کے ارتکاب کے فوراً بعد ہی اللہ تعالیٰ اس کو سزا دے دیتا تو پھر وہ دوبارہ یا باربار گناہ نہ کرتا، پس اس کا عذر یہ ہے کہ وہ کہے گا کہ مجھے بار بار گناہ کرنے پر تیرے کرم نے ابھارایا میری جہالت نے ” حضرت عمر (رض) جب اس آیت کو پڑھتے تو فرماتے : اے میرے رب ! جہالت، یعنی انسان اللہ کی گرفت اور اس کے عذاب سے جہالت کی وجہ سے گناہوں میں مشغول رہتا ہے۔

دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہ آیت مشرکین کے متعلق ہے یعنی اے مشرک ! تجھے کس چیز نے دھوکے میں رکھا حتیٰ کہ تو نے کہا : اللہ نے تجھ کو تیرے باپ دادا کی تقلید میں بت پرستی کا حکم دیا ہے کیونکہ جب وہ بےحیائی کا کام کرتے تھے تو کہتے تھے : انہیں اللہ نے اس بےحیائی کا حکم دیا ہے، قرآن مجید میں ہے :

وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْھَآ اٰبَآئَ نَا وَ اللہ ُ اَمَرَنَا بِھَا ط (الاعراف : ٢٨ )

جب وہ لوگ کوئی بےحیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقہ پر پایا اور اللہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔

اے مشرک ! کیا تیری طرف رسول کو نہیں بھیجا گیا تھا، کیا تیری طرف کتاب نہیں نازل کی گئی تھی، تجھ پر واضح نہیں ہوگیا کہ اللہ نے تجھے کس چیز کا حکم دیا ہے اور کس چیز سے تجھے روکا ہے ؟

( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٣٩٨، مؤسسۃ الرسالۃ، ناشرون، بیروت، ١٤٢٥ ھ)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 6