کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 18 حدیث نمبر 153
۱۸ – بَابُ النَّهْي عَنِ الْإِسْتِنْجَاءِ بِالْيَمِينِ
دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے کی ممانعت
جمہور فقہاء کے نزدیک دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا مکروہ تنزیہی ہے اور اس کی وجہ دائیں ہاتھ کا شرف اور اس کی فضیلت ہے۔
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں بابوں میں استنجاء کرنے کا طریقہ بیان فرمایا ہے۔
١٥٣ – حَدَّثَنَا مُعَاذ بن فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ هُوَ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبدِاللہ بنِ أَبِي قتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفسُ فِی الْإِنَاءِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِیمِینِه ولَا يَتَمَسَّحُ بِيَمِينه . [ اطراف الحديث : ۱۵۴ – ۵۶۳۰]
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں معاذ بن فضالہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی جو کہ الدستوائی ہیں از یحیی بن ابی کثیر از عبد اللہ بن ابی قتاده از والد خود که رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پئے تو برتن میں سانس نہ لے اور جب وہ بیت الخلاء میں جائے تو اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے آلہ کو نہ چھوئے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے۔
(صحیح مسلم : 267، الرقم المسلسل : ۶۰۲ سنن ابوداؤد: ۳۱، سنن ترمذی: ۱۵ سنن نسائی : ۲۵- ۲۴ ، سنن ابن ماجه: 310، سنن الکبری للنسائی : ۶۸۸۳ صحیح ابن خزیمہ: ۷۹ مصنف عبدالرزاق: ۱۹۵۸۴ مسند الحمیدی: ۴۲۸، مسند احمد ج 4 ص ۳۸۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۹۴۱۹- ج ۳۲ ص ۱۶۱)
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: نہ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) معاذ بن فضالہ البصری، یہ ثوری وغیرہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے امام بخاری اور دیگر روایت کرتے ہیں
(۲) ہشام بن ابی عبدالله الدستوائی
(۳) یحیی بن ابی کثیر، ان دونوں کا تعارف ہو چکا ہے
(۴) عبد اللہ بن ابی قتادہ ابو ابراہیم بلخی یہ ۹۵ ھ میں فوت ہو گئے تھے، ان سے محدثین کی ایک جماعت نے روایت کی ہے
(۵) ابوقتادہ الحارث یا نعمان یا عمرو بن ربعی المدنی ،یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھڑ سوار تھے یہ احد، خندق اور اس کے بعد کے غزوات میں حاضر تھے مشہور یہ ہے کہ یہ بدر میں حاضر نہیں ہوئے، انہوں نے ۱۷۰ احادیث روایت کی ہیں امام بخاری اور امام مسلم گیارہ حدیثوں پر متفق ہیں، امام بخاری دو حدیثوں کے ساتھ منفرد ہیں اور امام مسلم آٹھ حدیثوں کے ساتھ منفرد ہیں ان کے مناقب بہت زیادہ ہیں یہ ۴۵ھ میں ستر سال کی عمر میں مدینہ میں فوت ہوگئے تھے ایک قول یہ ہے کہ کوفہ میں فوت ہو گئے تھے ان کے علاوہ اور کسی صحابی کی کنیت ابوقتادہ نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۴۷)
پانی میں پھونک مارنے کی ممانعت
اس حدیث میں فرمایا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پئے تو برتن میں سانس نہ لے۔ منہ کو برتن سے الگ کیے بغیر سانس لینا مکروہ ہے برتن سے پانی وغیرہ کو پیتے وقت تین مرتبہ سانس لینا چاہیے اور ہر مرتبہ منہ برتن سے الگ کرے منہ سے جو آدمی سانس لیتا ہے اس کو تنفس کہتے ہیں اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ پانی میں پھونک نہیں مارنی چاہیے، کیونکہ انسان کے جسم میں جو بیماریاں ہوتی ہیں ان کے جراثیم سانس کے ذریعہ اس پانی میں منتقل ہو جائیں گے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا’ ایک شخص نے کہا: میں پانی کے برتن میں تنکا دیکھتا ہوں’ آپ نے فرمایا: اس پانی کو گرا دو اس شخص نے کہا: میں ایک سانس میں پینے سے سیر نہیں ہوتا’ آپ نے فرمایا: پھر تم اپنے منہ کو پانی کے برتن سے الگ کرو۔ (سنن ترمذی: ۱۸۸۷ امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ )
جن احادیث میں مذکور ہے کہ تین سانس میں پانی پینا چاہیے ان کا بھی یہی محمل ہے کہ منہ کو پانی کے برتن سے الگ کر کے سانس لے۔
باب مذکور کی حدیث کی مؤید دیگر احادیث
اس حدیث میں دائیں ہاتھ سے پیشاب کے آلہ کو چھونے سے منع کیا ہے اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے بھی منع فرمایا ہے اس سلسلہ میں یہ احادیث بھی ہیں:
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو اپنے آلہ کو اپنے دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے اور جب بیت الخلاء میں جائے تو دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے اور جب پانی پئے تو ایک سانس میں پانی نہ پئے ۔ (سنن ابوداؤد : 31، سنن ترمذی : ۱۵ سنن نسائی: ۲۴)
اس حدیث میں پیشاب کے طریقہ کے ساتھ پانی پینے کا طریقہ بھی بتایا ہے کیونکہ پیشاب کا سبب پانی پینا ہے تو جب آپ نے مسبب کا طریقہ اور ادب بتایا تو سبب کا طریقہ اور ادب بھی بتادیا۔
پانی پینے کے آداب میں یہ حدیث بھی ہے:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اونٹ کی طرح، ایک سانس میں پانی نہ پیو بلکہ تم دو یا تین سانس میں پانی پیا اور جب تم پانی پیو تو بسم اللہ پڑھو اور جب تم پانی پی چکو توالحمدللہ پڑھو۔ (سنن ترمذی: ۱۸۸۵)
اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے کی ممانعت میں یہ حدیث بھی ہے:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ کھانے، پینے اور کپڑوں کے لیے مخصوص کیا ہوا تھا اور اس کے ماسوا کے لیے بایاں ہاتھ مخصوص کیا ہوا تھا۔(سنن ابوداؤد: ۳۲)
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۲۱ – ج ۱ ص ۹۳۶ پر ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔
[…] حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۱۵۳ میں گزر چکی […]