أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ ۞

ترجمہ:

اور آپ نے کیا سمجھا روز جزاء کیا ہے ؟

الانفطار : ١٧۔ ١٨ میں فرمایا : اور آپ نے کیا سمجھا روز جزاء کیا ہے ؟۔ پھر آپ نے کیا سمجھا روز جزاء کیا ہے ؟۔

روزِ جزاء کے ادراک کی نفی کا محمل

امام ابو منصور محمد بن محمد بن محمود یاتری سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ فرماتے ہیں :

آپ اپنی عقلی سے یوم جزاء کو نہیں جانتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا علم دے دیا، اور بعض مفسرین نے کہا : یہ اس دن کی تعظیم اور اس کے ہول ناک ہونے کی وجہ سے فرمایا ہے۔ ( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٤٠٢)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت کے خطاب میں اختلاف ہے، بعض مفسرین نے کہا : اس آیت میں کافر سے زجر و توبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ کے لیے خطاب ہے اور اکثر مفسرین نے کہا : اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے اور آپ سے یہ خطاب اس لیے فرمایا کہ نزول وحی سے پہلے آپ کو علم نہیں تھا کہ یوم جزاء کیا ہے۔

اس آیت میں دوبارہ فرمایا ہے : آپ نے کیا سمجھا کہ روز ِجزاء کیا ہے، کیونکہ پہلی بار کا خطاب اہل دوزخ کے لیے ہے اور دوسری بار کا خطاب اہل جنت کے لیے ہے، گویا کہ فرمایا : آپ نے کیا سمجھا کہ فجاز کے ساتھ قیامت کے دن کیا معاملہ کیا جائے گا اور ابرار کے ساتھ قیامت کے دن کیا معاملہ کیا جائے گا اور ” یوم الدین “ کا دو بار ذکر اس کی اہمیت اور تعظیم کی وجہ سے کیا گیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 17