أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡــئًا‌ ؕ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَئِذٍ لِّلَّهِ  ۞

ترجمہ:

جس دن کوئی شخص کسی شخص کے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا، اور اس دن تمام احکام اللہ ہی کے لیے ہوں گے  ؏

الانفطار : ١٩ میں فرمایا : جس دن کوئی شخص کسی شخص کے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا اور اس دن تمام حکام اللہ ہی کے لیے ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر شفاعت کی ممانعت

یہ وہ دن ہے جس میں شفاعت کرنے کی اجازت دی جائے گی اور انبیاء علہیم السلام بہت لوگوں کی شفاعت فرمائیں گے اور جب ایسا ہوگا تو ایک شخص دوسرے شخص کے لیے کسی چیز کا مالک ہوگا اور وہ شفاعت ہے تو پھر اس آیت کیا توجیہ ہوگی ؟ اس کی حسب ذیل توجیہات ہیں :

(١) کفار اپنے بتوں سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ مصائب میں ان کی مدد کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان کے رد میں نازل فرمائی ہے، کفار جو اپنے بتوں سے مصائب دور کرنے کی توقع رکھتے تھے، اس کے متعلق یہ آیت ہے :

وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہ ِ اَوْثَانًَالا مَّوَدَّۃِ بَیْنِکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکْفُرُبَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَّیَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا وَّمَاْوٰکُمُ النَّارُ وَمَالَکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ (العنکبوت : ٢٥ )

( ابراہیم نے کہا :) تم نے اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں کی پرستش کی ہے تم نے اس کو آپس میں دنیاوی دوستی کی بنیاد بنا لیا ہے، پھر تم قیامت کے دن ایک دوسرے کا کفر کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ میں ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔

(٢) اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی نفس کسی شخص کے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا مگر جب اللہ تعالیٰ شفاعت کا اذن دے گا تو پھر وہ شفاعت کریں گے، جس طرح اس آیت میں ارشاد ہے :

لاَّ یَتَکَلَّمُوْنَ اِلاَّ مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا۔ (النبا : ٣٨)

رحمان کے اذن کے بغیر کوئی بات نہیں کرسکے گا اور وہ درست بات کرے گا۔

(٣) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مالک بنائے بغیر کوئی شخص کے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا۔

نیز فرمایا : اور اس دن تمام احکام اللہ ہی کے لیے ہوں گے، یعنی بغیر کسی تنازع کے، اور ہر وقت میں تمام احکام اللہ ہی کے لیے ہوتے ہیں لیکن دنیا میں ظالم لوگ اس میں تنازع کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مقابلہ میں اپنے احکام چلاتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے لہو و لہب، خواتین کے لیے بےحجاب نکلنے اور مردو زن کے مخلوط اجتماعات اور رقص اور فحاشی کی ممانعت اور مذمت کی ہے اور اس دور کے حکم ران ترقی کے نام پر اس کو رواج دے رہے ہیں اور عوام کو اس کی ترغیب دے رہے ہیں اور میوزک کو عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مقابلہ میں اپنے احکام کو جاری کرنا ہے، علم، سائنس اور تکنیکی مہارت کے حصول کے بجائے بسنت منانے، میراتھن دوڑ اور فحش کام منانے کی ترویج اور اشاعت پر زور دے رہے ہیں۔

سورۃ الانفطار کا اختتام

الحمد للہ رب العلمین ! آج یکم شعبان ١٤٢٦ ھ/٧ ستمبر ٢٠٠٥ ء بہ روز بدھ بعد از نماز عصر الانفطار کی تفسیر مکمل ہوگئی، اے میرے رب ! اس تفسیر کو مکمل کرا دے اور اس کو قیامت تک کے لیے مرغوب آفریں بنا دے اور میری مغفرت فرما دے۔

الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علیٰ سیدنا محمد خاتم النبین وعلیٰ آلہٖ و اصحابہ وازواجہ وذریتہ اجمعین۔

القرآن – سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 19