۲۲ – بَابُ الْوُضُوْءِ مَرَّةٌ مَرَّةً

ایک ایک بار وضو کرنا

اس باب کی ابواب سابقہ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سابقہ ابواب میں استنجاء کے مسائل بیان کیے گئے تھے اور اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اعضاء وضوء میں سے ہر عضو کو ایک ایک بار دھونا اور ظاہر ہے کہ استنجاء کے بعد وضو کیا جاتا ہے اس لیے امام بخاری نے استنجاء کے ابواب کے بعد وضوء کے ابواب شروع کیے۔

١٥٧ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَوَضَّاَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّة مَرَّة.

سنن ابوداؤد : ۱۳۸ سنن ترمذی: ۴۲ سنن نسائی: ۸۰ مسند عبد بن حمید : ۰۲ ۷ سنن دارمی :696۔711 صحیح ابن حبان : ۱۰۹۵ شرح السنتہ: 226، مسند ابوداؤد الطیالسی: ۲۶۶۰، صحیح ابن خزیمہ: ۱۷۱ سنن بیہقی ج ا ص ۸۰ – ۷۳ مسند احمد ج ا ص ۲۳۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۰۷۲ – ج ۳ ص ۴۹۹ مؤسسة الرسالة بیروت)

 امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از زید بن اسلم از عطاء بن یسار از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما انہوں نےکہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار وضوء کیا۔

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت بالکل ظاہر ہے کیونکہ اس حدیث میں ایک ایک بار وضوء کرنے کا ذکر ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) محمد بن یوسف بیکندی

(۲) سفیان ، ہوسکتا ہے کہ یہ سفیان بن عیینہ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ سفیان ثوری ہو اور یہی راجح ہے کیونکہ ابونعیم نے اپنی کتاب میں اس کی تصریح کی ہے

(۳) زید بن اسلم تابعی مدنی

(۴) عطاء بن سیار

(۵) حضرت ابن عباس رضی اللہ  عنہما ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول یہ تھا کہ آپ اعضاء وضوء کو تین تین بار دھوتے تھے، لیکن آپ نے بیان جواز کے لیے ایک ایک مرتبہ بھی اعضاء وضوء کو دھویا، تا کہ اگر بھی پانی کم ہو یا وقت کم ہو تو ایک ایک مرتبہ بھی اعضاء وضوء کے دھونے سے وضوء ہوجائے اور یہ وضو بھی آپ کی سنت ہو ۔