٢٦ – بَابُ الْإِسْتِجْمَارِ وِتْرًا

پتھروں سے طاق مرتبہ استنجاء کرنا

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں بھی پتھروں سے طاق مرتبہ استنجاء کرنے کا ذکر تھا اور اس باب میں بھی اس کا ذکر ہے۔

١٦٢ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزَّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ انَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّاَ أحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي انفهِ ثُمَّ لِيَنثر وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرُ وَإِذَا اسْتَيْقَظَ اَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قبل أَنْ یدخلھا فِي وَضُوْئہ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِى این بَاتَتْ يَدُهُ.

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبد اللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از ابی الزناد از اعرج از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص وضوء کرے تو اپنی ناک میں پانی ڈال کر ناک صاف کرے اور جو پتھر سے استنجاء کرے تو طاق مرتبہ کرے اور جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو وہ وضوء کے پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اپنے ہاتھ کو دھولے کیونکہ تم میں سے کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۱۶۱ میں ملاحظہ فرمائیں۔

اس حدیث کے رجال کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔

بیدار ہونے کے بعد پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ان کو دھونے کا سنت ہونا اور اس کے ضمن میں متعدد مسائل

اس حدیث میں فرمایا ہے : جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو وہ وضو کے پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اپنے ہاتھ کو دھوئے کیونکہ تم میں سے کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری؟ اس حدیث کے مسائل حسب ذیل ہیں :

(1) اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان دن میں پاخانہ اور پیشاب کرتے ہیں اور پتھر سے استنجاء کرتے تھے اس کے باوجود پاخانہ کی جگہ کی کروٹوں میں کچھ نجاست رہ جاتی تھی اور اتنی مقدار معاف تھی، پھر پسینہ آنے سے وہ نجاست گیلی ہوجاتی اور رات کو سوتے میں اس جگہ ہاتھ لگ جاتا تو ہاتھ بھی نجس ہو جاتا، اس لیے فرمایا: پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھوں کو دھولیا جائے تاکہ وضوء کرنے کا پانی نجس نہ ہو جائے۔

(۲) وضوء سے پہلے ہاتھوں کا دھونا سنت ہے اس کو واجب اس لیے نہیں قرار دیا کہ ہاتھوں پر لگنے والی نجاست یقینی نہیں محتمل ہے۔

(۳) عام اہل علم نے کہا ہے کہ ہاتھوں کا دھونا مستحب ہے کیونکہ پہلے پانی کی طہارت کا یقین تھا اور اب یہ شک ہو گیا کہ ہو سکتا ہے کہ اس کے ہاتھوں پر نجاست لگ گئی ہو اور اس پانی میں ہاتھ ڈالنے سے وہ پانی نجس ہوگیا ہو، لیکن یقین شک سے زائل نہیں ہوتا اس لیے ہاتھوں کا دھونا ضروری نہیں ہے اور چونکہ اس پانی کی طہارت کا پہلے یقین تھا، اس لیے اس میں اگر ہاتھ ڈال بھی دیئے گئے پھر بھی وہ پانی پاک ہی قرار دیا جائے گا۔

(۴) اس حدیث میں فرمایا ہے : کیونکہ اس کو پتا نہیں ہے کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری؟ رات کا ذکر غالب احوال کے اعتبار سے ہے ورنہ دن میں بھی سو کر اٹھے تو اس کا یہی حکم ہے کہ وہ پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھوں کو دھولے۔

(۵) اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کم پانی میں نجاست مؤثر ہو جاتی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پانی کا دومٹکوں کی مقدار ہونا پانی کی طہارت کا معیار نہیں ہے ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما دیتے کہ اگر دو مٹکوں کی مقدار پانی ہو تو اس میں ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے اور فقہاء شافعیہ کا دو مشکوں کی مقدار پانی کو طہارت کا معیار قرار دینا صحیح نہیں ہے۔

(6) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبادات میں احتیاط پر عمل کرنا چاہیے اسی لیے آپ نے نجاست کے وہم کی بناء پر ہاتھ دھونے کا حکم دیا۔

(۷) نجاست متوهمہ میں آپ نے دھونے کا حکم دیا ہے اور پانی کے چھڑکنے کو کافی نہیں قرار دیا تو نجاست محققه مثلا شیر خوار بچے کے پیشاب میں تو پانی کا چھڑکنا بہ طریق اولی کافی نہیں ہوگا، بلکہ اس کا بھی دھونا ضروری ہوگا، جب کہ فقہاء شافعیہ یہ کہتے ہیں کہ شیر خوار لڑکے کا پیشاب اگر کپڑے پر لگ جائے تو اس پر پانی کا چھڑک دینا کافی ہے دھونا ضروری نہیں ہے۔

(۸) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبادات میں احتیاط پر عمل کرنا چاہیے اور یقینی طہارت پر عمل کرنا چاہیے اس طرح تین دن قربانی کے لیے یقینی ہیں اور چوتھے دن قربانی کرنا مشکوک ہے، پس احتیاط یہ ہے کہ تین دنوں میں قربانی کی جائے اور چوتھے دن قربانی نہ کی جائے۔