۲۹ – بَابُ غَسْلِ الْأَعْقَابِ

ایڑیوں کو دھونا

یہ باب ایڑیوں کو دھونے کے بیان میں ہے اور ان دونوں بابوں میں مناسبت یہ ہے کہ یہ دونوں باب وضوء کے احکام میں ہیں۔

وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَغْسِلُ مَوْضِعَ الْخَاتَمِ إِذَا توضا۔

اور ابن سیرین جب وضوء کرتے تھے تو انگوٹھی کی جگہ کو دھوتے تھے۔

امام بخاری نے اس حدیث کو تعلیقاً ذکر کیا ہے اور امام ابن ابی شیبہ نے اس حدیث کو سند صحیح متصل کے ساتھ روایت کیا ہے:

ہشیم خالد سے، وہ ابن سیرین سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ وضوء کرتے تھے تو اپنی انگوٹھی کو حرکت دیتے تھے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ : ۴۲۴ – ج ۱ ص ۴۴ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1416ھ)

اگر انگوٹھی تنگ ہو تو اس کو حرکت دینا اور گھمانا وضوء کی سنت ہے کیونکہ یہ انگلیوں میں خلال کرنے کے قائم مقام ہے اور اگر انگوٹھی ڈھیلی اور کھلی ہو تو اس کو حرکت دینے کی ضرورت نہیں ہے امام ابوحنیفہ امام شافعی اور امام احمد کا یہی مسلک ہے۔

١٦٥ – حَدَّثَنَا آدَمُ مِّنْ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّرُونَ مِنَ الْمِطْهَرَةِ قَالَ أَسْبِعُوا الْوُضُوءَ، فَإِنَّ أَبَا الْقَاسِم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ.

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں محمد بن زیاد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ہمارے پاس سے گزر رہے تھے اور لوگ لوٹے سے وضوء کررہے تھے حضرت ابوہریرہ نے کہا: مکمل وضوء کرو، کیونکہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (بے دھلی ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہو۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۶۰ میں گزر چکی ہے۔