کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 30 حدیث نمبر 166
٣٠ – بَابُ غَسْلِ الرّجُلَيْنِ فِي النَّعْلَيْنِ وَلَا يَمْسَحُ عَلَى النَّعْلَيْنِ
پیروں کو جوتوں میں دھونا اور جوتوں پر مسح نہ کرے
اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ جب پیر جوتوں میں ہوں تو ان کو دھونے کا کیا حکم ہے؟ باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت اس طرح ہے کہ باب سابق میں ایڑیوں کے دھونے کا حکم ہے اور اس باب میں پیروں کے دھونے کا حکم ہے اور ایڑیاں پیروں کی جز ہیں تو ان بابوں میں جزا اور کل کی مناسبت ہے۔
١٦٦- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ اَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا؟ قَالَ وَمَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْج؟ قَالَ رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيینِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النعالَ السبتَیة وَرَأَيْتُكَ تَصْبْغ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ اھل النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهِلَّ اَنْتَ حَتَّى كَانَ یوم التَّرْوِيَةِ . قَالَ عَبْدُاللَّهِ أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِي لَم اَر رسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ واما النعَالُ السبتيَّةُ ، فَإِنّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَر ویتوضا فِيْهَا، فَأَنَا أَحِبُّ أَنْ الْبَسَهَا ، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بھا، فَأَنَا يُحِبُّ أَنْ أَصْبُعَ بِهَا، وَأَمَّا الْأَهْلَالُ ، فَإِنِّي لَمْ ار رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلَّ حَتَّی تنبعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ.
اطراف الحدیث: ۱۵۱۴ – ۱۵۵۲ – 1609 – 2865-۵۸۵۱]
صحیح مسلم : ۱۱۸۷ الرقم المسلسل : ۷۲ ۲۷ سنن ابوداؤد: ۱۷۷۲ سنن نسائی: ۱۱۷ سنن ابن ماجہ :3626، شمائل ترمذی: ۷۴ ،صحیح ابن حبان:3763 سنن بیہقی ج ۵ ص ۷۶-۳۱ شرح السنته : ۱۸۷۰ مسند الحمیدی 651، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۸ ص ۴۴۳، مسند احمد ج ۲ ص ۱۸-۱۷ طبع قدیم مسند احمد : ۴۶۷۲- ج ۸ ص ۲۹۸)
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از سعید مقبری از عبید بن جریج، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابو عبد الرحمان ! میں نے آپ کو چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ کے اصحاب میں سے کوئی ایک بھی ان کاموں کو نہیں کرتا؟ حضرت ابن عمر نے کہا: اے ابن جریج ! وہ کون سے کام ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ آپ ( کعبہ کے) ارکان میں سے صرف دو رکن یمانی کو مکس کرتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ بغیر بالوں کے چمڑے کے جوتے پہنتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ زرد رنگ کے ساتھ رنگتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ مکہ میں ہوتے ہیں تو لوگ جب چاند دیکھ لیتے ہیں تو احرام باندھ لیتے ہیں اور آپ احرام نہیں باندھتے حتی کہ آٹھ ذوالحجہ ہوجائے، حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا: رہے ارکان ( کعبہ کے کونے ) تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف دو رکن یمانی کو مس کرتے ہوئے دیکھا ہے اور رہی بغیر بالوں کے چمڑے کی بات تو میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے چمڑے کے جوتے پہنتے تھے جن پر بال نہیں ہوتے تھے اور ان ہی جوتوں میں وضو کرتے تھے پس میں بھی محبت کرتا ہوں کہ ان جوتوں کو پہنوں اور رہا زرد رنگ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زردرنگ سے رنگتے ہوئے دیکھا ہے اور رہا احرام باندھنا تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت احرام باندھتے تھے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر چل پڑتی تھی۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: اور آپ جوتوں میں وضوء کرتے تھے کیونکہ اس حدیث سے متبادر یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیروں کو جوتوں میں ہی دھوتے تھے اور وہ جوتے بند نہیں ہوں گے، وہ جوتے ایسے ہوں گے جیسے ہماری کھلی ہوئی یا اسفنج ( SPONGE ( کی چپل ہوتی ہے، جس میں پیر کو آسانی سے دھویا جاسکے۔
امام بخاری کے عنوان میں جوتوں پر مسح کی ممانعت کی توجیہ
امام بخاری نے اس باب کے عنوان میں کہا ہے : اور جوتوں پر مسح نہ کرے اس سے ان کا مقصود اس حدیث کو رد کرنا ہے:
عباد نے کہا: مجھے اوس بن ابی اوس الثقفی نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کیا اور اپنے جوتوں اور قدموں پر مسح کیا، عباد نے کہا: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے وضوء کی جگہ آئے، پس آپ نے وضوء کیا اور اپنے جوتوں اور قدموں پر مسح کیا۔
سنن ابوداؤد: ۱۶۰ امام ابوداؤد اس روایت میں منفرد ہیں ۔ )
اس طرح یہ حدیث ہے:
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کیا اور جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔
( سنن ابوداؤد : ۱۵۹ سنن ترمذی: 99، سنن ابن ماجه: ۱۵۵۹)
اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد امام ابوداؤ دفرماتے ہیں : عبد الرحمان بن مہدی اس حدیث کو روایت نہیں کرتے تھے کیونکہ حضرت مغیرہ سے معروف یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا ہے۔ (سنن ابوداؤد 42، دار الفکر بیروت 1421ھ)
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
اس حدیث کے پانچ رجال ہیں اور عبید بن جریج کے سوا باقی سب کا تعارف پہلے ہو چکا ہے، اور وہ مدنی اور ثقہ ہیں ابن تمیم کے آزاد کردہ غلام ہیں ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۶)
صرف حجر اسود اور رکن یمانی کی تعظیم کی وجہ
اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ ( کعبہ کے) ارکان میں سے صرف دو رکن یمانی کو مس کرتے ہیں۔ کعبہ کے ارکان اربعہ کعبہ کے چار کونے ہیں دورکن یمانی ہیں جو شمال کی سمت میں واقع ہیں، ایک کونے میں حجر اسود ہے اور دوسرے کونے میں رکن یمانی ہے ان کی تعظیم اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ یہ دو کونے قواعد ابراہیم پر ہیں اس کے مقابل جو دوکونے ہیں ان کو رکن عراقی اور رکن شامی کہا جاتا ہے یہ حقیقت میں کونے نہیں ہیں نہ قواعد ابراہیم پر ہیں، ان کے بعد جو کعبہ کا حصہ تھا اس کو قریش نے بناء کعبہ میں شامل نہیں کیا اور اس کو خارج کر دیا جو اب حطیم کہلاتا ہے اس لیے یہ ارکان در حقیقت کعبہ کے وسط میں ہیں اور کعبہ کے کونے نہیں ہیں اسی لیے ان کی تعظیم نہیں کی جاتی ۔
سائل کا مقصد یہ تھا کہ باقی صحابہ تو کعبہ کے چاروں کونوں کو مس کرتے ہیں اور ان کی تعظیم کرتے ہیں اور آپ صرف حجر اسود اور رکن یمانی کی تعظیم کرتے، جن کو سائل نے تغلیبا دو رکن یمانی کہا۔
فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ دو رکن یمانی کے مقابل جو دو رکن شامی ہیں، اب ان کی تعظیم نہیں کی جاتی کیونکہ وہ قواعد ابراہیم پر نہیں ہیں، اس کے برخلاف ان کے مقابل جو دو کونے ہیں، یعنی حجر اسود اور رکن یمانی وہ چونکہ قواعد ابراہیم پر ہیں اس لیے ان کی تعظیم کی جاتی ہے حجر اسود کو بوسہ بھی دیا جاتا ہے اور اس کو مس بھی کیا جاتا ہے اور رکن یمانی کو صرف مس کیا جاتا ہے علامہ حصکفی متوفی1088ھ نے لکھا ہے: امام محمد نے کہا ہے کہ رکن یمانی کو بوسہ دے، علامہ شامی نے لکھا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ اس کو بوسہ نہ دے امام محمد کا قول بہت ضعیف ہے۔ (ردالمختار مع الدر المختار ج ۳ ص ۴۵۳ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ )
کپڑوں اور ڈاڑھی کو زرد رنگ سے رنگنا
اس حدیث میں زر رنگ سے رنگنے کے متعلق سوال ہے حدیث کے الفاظ کپڑوں کو رنگنے اور بالوں کو رنگنے دونوں کو شامل ہیں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دونوں کا رنگنا ثابت ہے۔ کپڑوں کو رنگنے کے متعلق یہ حدیث ہے:
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی ڈاڑھی کو زرد رنگ سے رنگتے تھے حتی کہ ان کے کپڑے بھی زرد رنگ سے بھرجاتے تھے ان سے کہا گیا کہ آپ زرد رنگ کے ساتھ کیوں رنگتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زرد رنگ سے رنگتے ہوئے دیکھا ہے اور مجھے اس سے زیادہ اور کوئی چیز محبوب نہیں ہے اور وہ اپنے تمام کپڑوں کوحتی کہ اپنے عمامہ کو بھی زردرنگ سے رنگتے تھے ( آپ نے زیادہ تر سیاہ رنگ کا عمامہ باندھا ہے ) ۔ (سنن ابوداؤد : ۴۰۶۴ سنن نسائی: ۵۱۰۰ )
بالوں کو رنگنے کے متعلق یہ حدیث ہے:
حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بغیر بالوں کے چمڑے کی جوتی پہنتے تھے اور اپنی ڈاڑھی کو ورس اور زعفران ( زرد رنگ ) کے ساتھ رنگتے تھے اور حضرت ابن عمر بھی اسی طرح کرتے تھے۔ (سنن ابو داؤد : ۴۲۱۰، سنن نسائی :۵۲۵۹)
احرام باندھنے کے وقت میں اختلاف ائمہ اور امام ابوحنیفہ کے مذہب پر دلیل
احرام باندھنے کے وقت میں بھی اختلاف ہے، بعض کے نزدیک ذوالحجہ کا چاند دیکھتے ہی اس کے استقبال کے لیے حج کا احرام باندھ لیا جائے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آٹھ ذوالحجہ کو احرام باندھتے تھے اور جب ان کو لے کر سواری چل پڑتی تھی’ اس وقت تلبیہ پڑھتے تھے کیونکہ قبل از وقت احرام باندھنے کی کیا ضرورت ہے۔ امام شافعی امام مالک اور امام احمد نے کہا ہے: اس وقت احرام باندھے جب سواری اس کو لے کر چل پڑے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا: نماز پڑھنے کے بعد سواری پر بیٹھنے سے پہلے احرام باندھے۔
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے پوچھا کہ صحابہ کا احرام باندھنے کے وقت میں کیوں اختلاف ہے؟ تو حضرت ابن عباس نے اس کی وجہ بتائی’ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کرنے کے لیے نکلے جب آپ نے مسجد ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھ لی تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے حج کا احرام باندھ لیا اور تلبیہ پڑھا، جس کو لوگوں نے سنا، پھر آپ اونٹنی پر سوار ہوئے اور جب آپ کو لے کر اونٹنی چل پڑی تو آپ نے تلبیہ پڑھا اور جب لوگوں نے آپ سے تلبیہ سنا تو انہوں نے کہا: آپ نے احرام اس وقت باندھا جب اونٹنی پر سوار ہو کر روانہ ہوئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور جب آپ شرف البیداء پر پہنچے تو آپ نے تلبیہ پڑھا اور لوگوں نے اس کو سنا تو انہوں نے کہا: آپ نے احرام اس وقت باندھا جب آپ شرف البیداء کی بلندی پر چڑھے اور اللہ کی قسم ! آپ نے احرام اس وقت باندھا تھا، جب آپ مسجد ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تھے، پھر اس کے بعد آپ سواری پر بیٹھے اور جب وہ چل پڑی تو آپ نے تلبیہ پڑھا اور جب آپ شرف البیداء کی بلندی پر چڑھے تو پھر آپ نے تلبیہ پڑھا۔ (سنن ابوداؤد : ۱۷۷۰)
سعید بن جبیر نے کہا: جس نے حضرت ابن عباس کے قول پر عمل کیا وہ حج کے لیے جس جگہ دو رکعت نماز پڑھے تو وہیں نماز پڑھنے کے بعد احرام باندھ لے اور جب روانہ ہو تو تلبیہ پڑھے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۰-39 دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ )
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۷۱۴ – ج ۳ ص ۲۹۰ پر ہے وہاں اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے کی جگہ میں اختلاف روایات
رکن یمانی کی تعظیم کی وجہ
احرام کے لباس کو رنگنے کا جواز
خضاب کا حکم ۔