سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
علماء کا اجماع ہے کہ بخاری و مسلم کی احادیث صحیح ہیں مگر علماء کا یہ بھی اتفاق ہے کہ بخاری مسلم میں موجود اقوال، تفردات و تعلیقات صحیح ہوں یہ لازم نہیں۔( نعمۃ الباری شرح بخاری 7/615 وغیرہ)

پہلی بات: صحیح بخاری  4240 کے اندرامام زہری کا قول ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ  کی وفات کی خبر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہ دی گئی بلکہ راتوں رات دفن کیا گیا حضرت علی نے جنازہ پڑھایا۔

دوسری بات: یہ امام زہری کی ذاتی رائے ہے ورنہ  امام زہری کے علاوہ گیارہ راویوں نے بھی یہی حدیث بیان کی مگر زہری والا اضافہ نہ کیا۔ لہذا زہری کا اضافہ بغیر دلیل و سند کے ہے اور صحیح یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا جنازہ پڑھایا۔

1۔  سیدنا امام مالک، سیدنا امام جعفر، سیدنا امام زین العابدین جیسے عظیم الشان آئمہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کی وفات مغرب و عشاء کے درمیان ہوئی تو فورا حضرات ابوبکر، عمر ،عثمان، زبیر عبدالرحمن پہنچ گئے، سیدنا علی نے فرمایا: اے ابو بکر آگے بڑھیے جنازہ کی امامت کیجیے، حضرت ابوبکر نے فرمایا آپ کے ہوتے آگے بڑھوں؟ حضرت علی نے فرمایا جی بالکل اللہ کی قسم آپ کے علاوہ کوئی جنازہ کی امامت نہیں کرا سکتا تو سیدنا ابوبکر نے سیدہ فاطمہ کے جنازے کی امامت کرائی اور رات کو ہی دفنایا گیا۔(تاریخ الخمیس 1/278 الریاض النضرۃ  1/176، سمط النجوم 1/536)

2۔ سیدہ فاطمہ رات کےوقت وفات پاگئیں تو فورا حضرات ابوبکر، عمر ،عثمان، طلحہ، زبیر، سعید اور دیگر کئی صحابہ جن کےنام امام مالک نے گنوائے سب آئے، حضرت ابوبکر نے حضرت علی سے کہا آگے بڑھیے جنازہ پڑھیے، سیدنا علی  نے جواب دیا اللہ کی قسم آپ خلیفہ رسول کے ہوتے ہوئے میں آگے نہیں بڑھ سکتا، پس ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور جنازہ پڑھایا چار تکبیریں کہیں اور اسی رات دفنایا گیا (الكامل في ضعفاء الرجال 5/422,423، ذخیرۃ الحفاظ روایت نمبر  2492)
.
3۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں (بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث1/381)

4۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں۔(حلیۃ الاولیاء  4/96)

5۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا رات کےوقت وفات پاگئیں تو فورا ابوبکر عمر اور دیگر کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا آگے بڑھیے جنازہ پڑھیے،سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اللہ کی قسم آپ خلیفہ رسول کے ہوتے ہوئے میں آگے نہیں بڑھ سکتا پس ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور جنازہ پڑھایا چار تکبیریں کہیں (ميزان الاعتدال 2/488)

6۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں (الطبقات الكبرى 8/24)

7۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بنت رسول سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں (الطبقات الكبرى 8/24)

8۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں (البدایہ و النہایۃ 1/98، اتحاف الخیرۃ 2/460، حلیۃ الاولیاء 4/96، کنزالعمال 15/718)

9۔ بےشک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کی جب وفات ہوئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کندھوں سے پکڑ کر جنازہ پڑھانے کے لیے آگے کیا اور رات ہی میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کو دفنایا۔ (سنن کبری بیھقی روایت نمبر 6896)

پہلی بات: اہلتشیع الزام لگانے سے پہلے ثابت کریں کہ اگر وہ نبی کریم کو آخری نبی مانتے ہیں تو بتائیں نبی کریم ﷺ کی کونسی احادیث کی کتب سے نبی کریم کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور قرآن کی آیات کی شان نزول کونسی احادیث نبوی کی کتب سے بتاتے ہیں۔

دوسری بات: یہ اہلسنت عوام کو سمجھایا گیا ہے جو اہلتشیع حضرات کے شیطانی اثرات سے متاثر ہو جاتے ہیں۔