معاہدہ ابراھیم کیا ہے؟
معاہدہ ابراھیم کیا ہے؟
لگتا ہے اس انکار کے بعد ایک بہت بڑی گلے کی ہڈی مسلم ممالک کے سربراہان کے گلے سے وقتی طور پر نکل گئ، دراصل بات وہی ہے ایک چال کفار چلتے ہیں اور ایک تدبیر مالک و مولا کی کام کرتی ہے۔ بس تو پھر ہوتا وہی ہے جو مالک چاہے۔ الحمدللہ۔
معاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) 2020ء میں طے پانے والے معاہدوں کا ایک سلسلہ ہے،
اس منصوبے کا آغاز 2019ء میں اس وقت ہوا جب پوپ فرانسس اور الازہر کے گرینڈ امام ڈاکٹر احمد الطیب نے ابوظہبی میں ملاقات کی اور “انسانی بھائی چارے” کی دستاویز پر دستخط کیے
اس ملاقات نے “ابراہیمی فیملی ہاؤس” کے خیال کو جنم دیا جو بعد ازاں “معاہدہ ابراہیمی” کی صورت میں 2020ء میں تیار ہوا، اس معاہدے اور منصوبے کو مزید تقویت اس وقت ملی جب سب سے پہلے متحدہ عرب امارت اور بحرین نے اس کو باقاعدہ قبول کرتے ہوئے ا-س°ر`ائی_ل کے ساتھ اس پر دستخط کئے جس کے تحت متحدہ عرب امارات (UAE) اور بحرین نے ا-س°ر`ائی_ل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے اور پھر کچھ عرصہ بعد سوڈان اور مراکش نے بھی ان معاہدوں پر دستخط کے ذریعے شمولیت اختیار کی۔
اس معاہدے کو مزید مضبوط اور دیرپا بنانے کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی ثالثی بھی قائم کی گئ اور 15 ستمبر 2020ء کو وائٹ ہاؤس میں دستخط کی تقریب رونما ہوئی جس کی شرائط میں شامل ہے کہ ابراہیمی مذاہب (اسلام، یہودیت، اور عیسائیت) کی مشترکہ میراث کو سب مل کر مشترکہ اجاگر کریں گے
معاہدے کے مطابق معاہدے میں جڑے لوگ تجارت، سیاحت، ٹیکنالوجی، اور سیکیورٹی تعاون کو باہمی مفادات کا خیال رکھتے ہو فروغ دے گے
معاہدے کے تحت ا-س°ر`ائی_ل-ی، عوام اور اس معاہدے میں جڑے ممالک کی عوام بنا روک ٹوک ایک دوسرے کے ممالک میں مذہبی و ثقافتی بآسانی سفر کر سکے گے،
(《مثال کے طور پر، مسلم زائرین کے لیے ا-س°ر`ائی_ل یروشلم کے مقدس مقامات مسجد اقصیٰ یا دیگر عیسائی مذہبی مقامات تک رسائی آسان بنانے کا پابند ہو گا، جبکہ یہودی اور عیسائی زائرین UAE یا دیگر معاہدے میں جڑے ممالک کے مذہبی اور ثقافتی مقامات کا دورہ بآسانی کر سکیں گے》)
معاہدے میں موجود ممالک بین المذاہب مکالمے و مباحثے کیلئے ڈسک بھی قائم کرنے کے پابند ہو گے
(《جس کے فوائد میں لکھا ہے کہ اس سے صرف سیاسی اور اقتصادی تعاون بڑھانا مقصود نہیں بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کو بھی فروغ دینا ہے》)
معاہدے کے تحت دستخط کرنے والے ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ ابراہیمی مذاہب کی مشترکہ اقدار، (مشترکہ چیزوں) کو اپنائیں گے اور مذہبی بنیادوں پر تناؤ کو کم کر کے باہمی تعاون بڑھائیں گے۔
متحدہ عرب امارات نے اس معاہدے کو تسلیم کرتے ہوئے باقاعدہ ابراہیمی فیملی ہاؤس (Abrahamic Family House) جیسے منصوبوں کی نہ صرف حمایت کی، بلکہ رول ماڈل کے طور پرابوظہبی میں موجود ثقافتی مرکز سعدیات نامی جزیرے پر اس کی تعمیر بھی 2022 میں مکمل کر لی، جہاں (مسجد، گرجا گھر، اور یہودی عبادت گاہ) ایک ہی جگہ پر تعمیر کیا گیا۔
مشہور برطانوی انجینئر ڈیوڈ ایڈجائی نے ابراہیمی فیملی ہاؤس (Abrahamic Family House) نامی کمپلیکس کو ڈیزائن کیا جس میں تینوں عبادت گاہوں کا ڈیزائن اور سائز اور بنیادی ڈھانچہ ایک جیسا رکھا گیا، درمیان میں ایک مشترکہ باغ اور کمیونٹی ایریا بنایا گیا تین عمارتیں الگ الگ عبادت گاہوں پر مشتمل ہے۔
مسجد کا نام “امام طیبہ مسجد” رکھا گیا۔
گرجا گھر کا نام “سینٹ فرانسس چرچ” رکھا گیا۔
اور یہودی کنیسا کا نام “موسیٰ بن میمون کنیسا” رکھا گیا۔ موجودہ صورتحال (جولائی 2025) ابراہیمی فیملی ہاؤس ابوظہبی میں ایک اہم ثقافتی اور مذہبی مقام بن چکا ہے یہ منصوبہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے علامتی نشان کے طور پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے دنیا کو پیش کیا جا چکا ہے۔
چونکہ فلسطین کو ان معاہدوں میں یکسر نظر انداز کیا گیا ہے اس لئے فلسطینی رہنماؤں نے ان معاہدوں کی مخالفت کی، فلسطینی رہنماؤں اور کچھ دیگر حلقوں کی جانب سے بھی تنقید کی گئ کہ اس سے فلسطینیوں کے مذہبی اور تاریخی حقوق، خاص طور پر یروشلم کے حوالے سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان سمیت کچھ دیگر دوست ممالک نے بھی شرط رکھی ہے کہ اگر ا-س°ر`ائی_ل دو آزاد ریاستی منصوبہ پر عمل کرتا ہے تو ہم “معاہدہ ابراھیم” پر بات کر سکتے ہیں۔
لیکن اگر آج کی یہ خبر سچی ہے کہ ا-س°ر`ائی_ل نے بذات خود اعلانیہ انکار کر دیا ہے یہ شرط ماننے سے، تو مسلم ممالک کے پاس اس “معاہدہ ابراھیم” کو دو ٹوک الفاظ میں ریجیکٹ کرنے کی وجہ بھی پیدا ہو گئ ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالی دین اسلام اور مسلمانوں کا حامئ و ناصر ہو۔ آمین۔
نوٹ: میں اپنی پوسٹ کی تحریریں اکثر بڑے پیجز پر دیکھتا ہوں، سو ان سے گلہ نہیں لیکن اتنا ضرور چاہوں گا کہ کاپی پیسٹ سے پہلے ایک لائیک اور کمنٹ یہاں اصلی پوسٹ پر بھی چھوڑ دیا کریں۔ بہت شکریہ۔