کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 33 جز 2 حدیث نمبر 170
… – وَسُورِ الْكِلابِ ومَمَرِهَا فِي الْمَسْجِدِ
کتوں کا جھوٹا اور ان کا مسجد میں گزرنا
اس کا عطف بھی عنوان پر ہے اس باب کے دو جز ہیں، یعنی جس پانی سے انسان کا بال دھویا گیا ہو اس کا حکم اور کتے کے جھوٹے پانی اور ان کے مسجد میں گزرنے کا حکم ۔
امام بخاری فرماتے ہیں:
وَقَالَ الزُّهْرِي إِذَا وَلَغ الْكَلْبُ فِي إِنَاءٍ لَيْسَ لَهُ وَضُوءٌ غَيْرُهُ يَتَوَضَّاً بِهِ. وَقَالَ سُفْيَانُ هَذَا الْفِقَهُ بعينه ، يقول الله تَعَالَى (فلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا)( النساء:٤٣) وَهَذَا مَاء وَفِي النَّفْسِ مِنْهُ شَيْءٌ يَتَوَضَّاُ به ويتيمم۔
اور زہری نے کہا: جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے اور انسان کے پاس کوئی اور پانی نہ ہو جس سے وہ وضوء کرے تو وہ اس پانی سے وضو کرے سفیان نے کہا: یہ بعینہ فقہ ہے، کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے:” پس تم پانی نہ پاؤ تو تیمم کرو ( النساء: ۴۳) اور یہ پانی ہے اور اس سے دل میں کچھ تردد ہے تو اس پانی سے وضوء کرے اور تیمم کرے۔
یہاں سفیان سے مراد سفیان ثوری ہے، انہوں نے کہا: جب کتے کے جھوٹے کے سوا اور کوئی پانی نہ ہو تو اس سے وضوء کرے اور چونکہ دل میں اس سے کچھ تردد ہے تو اس کے بعد تیمم بھی کرے۔
۱۷۰ – حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ قُلْتُ لِعُبَيْدَةَ عِندَنَا مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْنَاهُ مِنْ قَبْلِ أَنَسٍ ، أَوْ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ أَنَسٍ ، فَقَالَ لان تَكُونَ عِندِى شَعَرَةٌ مِنْهُ أَحَبُّ إِلَى مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فیھا۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں مالک بن اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں اسرائیل نے حدیث بیان کی از عاصم از ابن سیرین، انہوں نے کہا: میں نے عبیدہ سے کہا: ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال ہے، جو ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یا حضرت انس کے گھر والوں کی طرف سے ملا تھا تو انہوں نے کہا: میرے پاس آپ کا ایک ہال ہو یہ مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہے۔
اس حدیث کو صرف امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) مالک بن اسماعیل ابو غسان النبدی، یہ حجت اور عابد تھے ان سے امام مسلم اور سنن اربعہ کے مصنفین نے روایت کی ہے219 ھ میں فوت ہو گئے تھے
(۲) اسرائیل بن یونس، ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۳) عاصم بن سلیمان البصری یہ ثقہ اور حافظ ہیں، ۱۴۲ھ میں فوت ہو گئے تھے
(۴) محمد بن سیرین ، ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۵) عبیدہ بن عمرو السلمانی، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایمان لے آئے تھے اور آپ سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی، ان سے بہت سے محدثین نے روایت کی ہے یہ 72ھ میں فوت ہوگئے تھے۔
(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۵۵)
امام بخاری نے اس باب کے دو عنوان قائم کیے تھے: ایک اس پانی کا حکم بیان کرنا جس سے انسان کے بال کو دھویا گیا ہو دوسرا کتے کے جھوٹے کا حکم بیان کرنا زہری کے قول سے انہوں نے کتے کے جھوٹے کا حکم بیان کیا اور حدیث : ۱۷۰ سے انسان کے بال کا حکم بیان کیا۔
انسان کے سر سے بال الگ ہونے کے بعد ان کے طاہر ہونے پر دلائل
علامہ ابوالحسن علی بن خلف بن عبد الملک ابن بطال البكرى القرطبی المالکی المتوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں :
المہلب نے کہا ہے کہ امام بخاری نے اس عنوان سے امام شافعی کے اس قول کو رد کرنے کا اشارہ کیا ہے کہ انسان کا بال جب اس کے جسم سے الگ ہوجائے تو وہ نجس ہو جاتا ہے اور اگر وہ پانی میں گر جائے تو وہ پانی بھی نجس ہو جاتا ہے پھر عطا کے قول اور حدیث ۱۷۰ سے یہ استدلال کیا کہ انسان کا بال طاہر ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالوں کو بہ طور تبرک صحابہ میں تقسیم کیا اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ جب انسان کے بال اور اس کے ناخن اس کے جسم سے الگ ہو جائیں تو وہ طاہر ہیں، کیونکہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنی ٹوپی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بال سی کر رکھا ہوا تھا’ جنگ یمامہ میں ان کے سر سے ٹوپی گرگئی تو ان کو بہت صدمہ ہوا اور انہوں نے عین حالت جنگ میں وہ ٹوپی اٹھائی ان کے اصحاب کو یہ بہت ناگوار ہوا کیونکہ اس وقفہ میں کئی مسلمان شہید ہوگئے’ حضرت خالد نے کہا: میں نے اس ٹوپی کی قیمت کی وجہ سے اس کو نہیں اٹھایا، بلکہ میں نے اس وجہ سے اس ٹوپی کو اٹھایا ہے کہ مبادا یہ ٹوپی مشرکین کے ہاتھوں میں آجائے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بال مبارک ہو۔
( شرح ابن بطال ج ۱ ص ۲۶۹ – دار الكتب العلمیہ، بیروت، 1424ھ )