کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 33 جز 2 حدیث نمبر 171
۱۷۱ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَن ابْن عَوْن عن ابْنِ سِيْرِينَ ، عَنْ أَنَسِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَلَقَ رَأْسَهُ ، كَانَ اَبُوْ طَلْحَةَ أَوَّلَ مَنْ أَخَذَ مِنْ شَعَرِه .
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن عبد الرحیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سعید بن سلیمان نے خبر دی، انہوں نے کہا : ہمیں عباد نے حدیث بیان کی، از ابن عون از ابن سیرین از حضرت انس رضی اللہ عنہ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر منڈایا تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ پہلے وہ شخص تھے، جنہوں نے آپ کے بال لیے۔
(صحیح مسلم : ۱۳۰۵ الرقم المسلسل : ۳۰۹۷ – 3096 سنن ابوداؤد: ۱۹۸۲- ۱۹۸۱ سنن ترمذی: 912، السنن الکبری للنسائی: 4116 ‘ مسند الحمیدی: 1220، صحیح ابن خزیمہ: ۲۹۲۸ صحیح ابن حبان : 3879، سنن بیہقی ج ا ص ۲۵ مسند احمد ج ا ص ۳۱۱ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۲۰۹۲ – ج ۱۹ ص ۱۴۴ مؤسسة الرسالة بیروت)
اس حدیث میں انسان کے بال کے ظاہر ہونے پر دوسری دلیل ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) محمد بن عبد الرحیم صاعقہ، ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۲) سعید بن سلیمان الضبی البزار الواسطی ،ان سے امام بخاری اور امام ابوداؤد نے روایت کی ہے انہوں نے 60 حج کیے تھے یہ ایک سو سال کی عمر گزار کر ۲۲۵ھ میں فوت ہو گئے
(۳) عباد بن عوام الواطی ابو سہل، یہ ثقہ اور صدوق تھے امام احمد نے کہا: یہ مضطرب الحدیث تھے اور محمد بن سعد نے کہا : یہ متشیع تھے، ہارون نے ان کو گرفتار کر کے پھر رہا کر دیا تھا یہ ۱۸۵ ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۴) عبداللہ بن عون، یہ تابعی تھے اور اپنے زمانہ میں سید القراء تھے ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۵) محمد بن سیرین
(۶) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ
(۷) حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ، یہ حضرت ام سلیم جو حضرت انس کی والدہ تھیں، ان کے خاوند تھے، حضرت ابوطلحہ کا نام زید بن سہل بن الاسود البخاری تھا یہ بدر، احد اور تمام مشاہد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے ۲۳ ھ میں مدینہ میں فوت ہوگئے ۔ حضرت عثمان بن عفان نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۵۵)یہ انصار کے نقباء میں سے تھے انہوں نے ،۹۲ احادیث روایت کی ہیں، امام بخاری اور امام مسلم دو حدیثوں پر متفق ہیں، امام بخاری ایک حدیث کے ساتھ منفرد ہیں اور امام مسلم دوسری ایک حدیث کے ساتھ منفرد ہیں، حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ جنگ حنین میں حضرت ابوطلحہ نے بیس کافروں کو قتل کیا تھا، جنگ احد میں وہ بہت بڑی آزمائش میں مبتلا ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے ان کا ایک ہاتھ شل ہو گیا تھا، حضرت انس نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد یہ چالیس سال زندہ رہے ( اور جنگ جمل میں شہید کیے گئے ۔ سعیدی غفرلہ ) ۔ ( خلاصه تذهیب الکمال ج ۱ ص 387، دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۲ھ )
احباب کو عطیات عطاء کرنا اور دیگر مسائل
(1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں اپنے سر کے بال تقسیم کیے اس سے معلوم ہوا کہ اپنے اصحاب کو عطیات دے کر انہیں خوش رکھنا چاہیے۔
(۲) جب اپنے اصحاب کو خوش کرنے کے لیے عطیات دیئے جائیں تو اس میں مساوات لازم نہیں ہے۔
(۳) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی وجہ سے سر کا منڈانا سنت یا مستحب ہے۔
(۴) حدیبیہ میں آپ کا سر خراش نے مونڈا تھا اور اس موقع پر معمر بن عبد اللہ نے آپ کا سر مونڈا تھا۔
(۵) اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک بالوں کی تعظیم ہے اور تیرک عطا کرنے کا جواز ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال سے تبرک حاصل کرنے اور اس کو حفاظت سے رکھنے کا ثبوت ہے۔ (فتح الباری ج 1 ص 712، دار المعرفہ بیروت)
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم میں
باب مذکور کی یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۳۰۴۹ – ج ۳ ص ۵۴۴ پر مذکور ہے اور اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
یوم نحر کو افعال حج کی ترتیب
علماء احناف کی موافقت حدیث
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کی تعظیم اور تکریم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک سے تبرک کے ثبوت میں فقہاء اسلام کی عبارات
موئے مبارک اور فضلات شریفہ کی طہارت اور بعض علماء کے تسامح اور علمی غلطیوں کا بیان
فضلات شریفہ کی طہارت پر دلائل ۔