١٧٤ – وقال أَحْمَدُ بْنُ شَبیبٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِى حَمْزَةُ بنُ عَبْدِاللهِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَتِ الْكِلابُ تَبُولُ وَتَقْبِلُ وَ تُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فِي زَمَان رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُونُوا يَرْشُونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.

سنن ابو داؤد: 382،  صحیح ابن خزیمہ : 300

 امام بخاری روایت کرتے ہیں: اور احمد بن شبیب نے کہا:ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی از یونس از ابن شہاب انہوں نے کہا: مجھے حمزہ بن عبداللہ نے حدیث بیان کی از والد خود کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں کتے پیشاب کرتے تھے اور آتے جاتے رہتے تھے پس وہ اس کی وجہ سے پانی نہیں ڈالتے تھے۔

یہ وہ حدیث ہے، جس کو امام بخاری نے پہلے تعلیقاً ذکر کیا تھا اور اس حدیث سے اس پر استدلال کیا تھا کہ کتا پاک ہے اور اس کا ۔ جھوٹا پاک ہے اور اس کا مسجد سے گزرنا جائز ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) احمد بن شبیب بن سعید التمیمی البصری، یہ امام بخاری کے شیخ ہیں، انہوں نے اس حدیث کے علاوہ ان کی کوئی اور روایت ذکر  نہیں کی، یہ صدوق ہیں امام نسائی نے ان کی روایت ذکر کی یہ ۲۰۰ھ کے بعد مکہ میں فوت ہو گئے تھے۔

(۲) ان کے والد شبیب مذکوریہ یونس کے اصحاب میں سے تھے اور تجارت کے لیے مصر آتے جاتے رہتے تھے۔

(۳) یونس بن زید ایلی۔

(۴) ابن شہاب محمد بن مسلم الزہری ان دونوں کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔

(۵) حمزہ بن عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ  عنہ ابو عمارہ القرشی العدوی المدنی التابعی یہ ثقہ ہیں اور قلیل الحدیث ہیں۔

(۶) ان کے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی الله عنہما

(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۶۴ )

مسجد میں کتوں کے آنے جانے اور پیشاب کرنے کی توجیہ

چونکہ اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے اور پیشاب بھی کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مقرر رکھا اور مسجد کو دھونے کا حکم نہیں دیا،  اس سے امام بخاری نے یہ استدلال کیا ہے کہ کتے پاک ہیں اور بہ ظاہر اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کتوں کا پیشاب بھی پاک ہو، لیکن یہ بہت بعید ہے، کتوں کے پیشاب کرنے سے مسجد کی زمین نجس ہو جاتی تھی اور اس کو دھونے کا حکم اس لیے نہیں دیا جاتا تھا کہ زمین خشک ہونے کے بعد پاک ہو جاتی ہے اور چونکہ شروع میں مسجد میں دروازے نہیں تھے اس لیے کتے مسجد میں آتے جاتے تھے اور ظاہر ہے کہ کتے مسجد میں اس وقت آتے جاتے ہوں گے جب مسجد میں کوئی نمازی نہیں ہوتا ہوگا۔

کتوں کو طاہر کہنے والوں کا رد اور کتوں کے مسجد میں پیشاب کرنے کی مزید توجیہات

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث میں ان لوگوں کی کوئی دلیل نہیں ہے جو کہتے ہیں: کتے طاہر ہیں اور ان کا پیشاب بھی طاہر ہے کیونکہ اس پر اتفاق ہے کہ کتوں کا پیشاب نجس ہے، پہلے مسجد بند نہیں کی جاتی تھی اور کتے ان میں آتے جاتے تھے اور پیشاب بھی کرتے تھے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے پیشاب کرنے کا علم نہیں تھا اور نہ آپ کے اصحاب کو اس کا علم تھا اور نہ راوی کو یہ علم تھا کہ کتوں نے کس جگہ پیشاب کیا ہے

اور اگر اس کا علم ہوتا تو ضرور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ کو دھونے کا حکم دیتے ، جیسا کہ آپ نے اعرابی کے پیشاب کرنے کے بعد اس جگہ کو دھونے کا حکم دیا تھا یہ اس پر دلیل ہے کہ پیشاب جس کا بھی ہو وہ نجس ہے۔

علامہ خطابی نے کہا ہے : اس حدیث کی یہ تاویل ہے کہ کتے مسجد میں پیشاب نہیں کرتے تھے، بلکہ مسجد کی ملحقہ جگہوں میں پیشاب کرتے تھے اور راستہ عبور کرنے کے لیے مسجد میں آتے جاتے تھے کیونکہ یہ جائز نہیں ہے کہ کتوں کو رات میں مسجد میں آنے دیا جائے، حتی کہ وہ پیشاب کر کے مسجد کو نجس کریں ان کا مسجد میں آنا جانا نادر اوقات میں ہوتا تھا اور اس دور میں مسجد کے دروازے نہیں تھے جس سے کتوں کے آنے میں رکاوٹ ہوتی ۔ (معالم السفن اللخطابی مختصر المنذری ج ا ص ۲۲۶ دار المعرفة بیروت)

علامہ عینی فرماتے ہیں: میں کہتا ہوں کہ علامہ خطابی نے یہ تاویل فقہاء احناف کی مخالفت کی وجہ سے کی ہے کیونکہ ہمارے اصحاب یہ کہتے ہیں کہ جب زمین پر کوئی نجاست لگ جائے اور وہ دھوپ سے خشک ہو جائے اور ہوا سے اس کے اثرات نکل جائیں تو وہ زمین نماز پڑھنے کے لیے پاک ہو جاتی ہے اس میں امام شافعی، امام احمد اور امام زفر کا اختلاف ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ امام ابوداؤد نے اس حدیث کا یہ عنوان قائم کیا ہے : زمین کا خشک ہونے کے بعد پاک ہونا۔

( سنن ابوداؤد ؛ ۳۸۳- ج ا ص ۱۵۷ دار الفکر بیروت 1416ھ )

نیز اس حدیث میں مذکور ہے کہ وہ اس پر پانی نہیں بہاتے تھے یہ بھی اس کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک زمین خشک ہونے کے بعد پاک ہو جاتی ہے اور خطابی کی تاویل کے مردود ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس حدیث میں مذکور ہے کہ کہتے مسجد میں پیشاب کرتے تھے اور انہوں نے کہا تھا: کتے مسجد کی ملحقہ جگہ میں پیشاب کرتے تھے ۔ اس حدیث کی سب سے عمدہ تاویل یہ ہے کہ یہ ابتداء اسلام کا واقعہ ہے جب کہ ممانعت سے پہلے ہر چیز اصل میں مباح تھی بعد میں مساجد کی تکریم کا اور ان کو پاک کرنے کا اور ان میں دروازے بنانے کا حکم دیا گیا ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۶۶ – ۶۵ دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)

کتوں کی طہارت پر علامہ ابن بطال مالکی کے دلائل

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی القرطبی المتوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث میں ہے کہ کتے مسجد میں آتے جاتے تھے اور وہ غالباً اپنی ناک بھی رگڑتے ہوں گے اور پانی کو چاٹتے ہوں گے اور وہ کھانے کا بچا کچھا بھی کھاتے ہوں گے، کیونکہ مسجد میں مسافر طلباء رہتے تھے اور وفود بھی آتے رہتے تھے اور مسجد اہل الصفہ کا مسکن تھا، اگر کتے نجس ہوتے تو ان کو مسجد میں داخل ہونے سے منع کر دیا جاتا کیونکہ اس پر اتفاق ہے کہ نجاست کو مسجد سے دور رکھا جائے

قرآن مجید میں ہے:

إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدالْحَرَام بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا (التوبة : ۲۸)

مشرکین محض نجس ہیں، سو اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں

حدیث میں ہے کہ کتے مسجد میں آتے جاتے تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کتے بار بار مسجد میں آتے جاتے تھے اور ان کو کوئی منع نہیں کرتا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ کتے نجس نہیں ہیں۔ (شرح ابن بطال ج ۱ص۲۷۶ دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۴ھ )

علامہ ابن بطال مالکی کے دلائل کے جوابات

علامہ ابن بطال نے کتے کے پاک ہونے پر جو دلائل دیئے ہیں، وہ سب ان کے گمان اور اندازوں پر مبنی ہیں، ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ کتوں کا آنا اسی وقت ہو سکتا تھا جب مسجد خالی ہو، نمازیوں کے ہوتے ہوئے کتے کیسے آسکتے تھے اس لیے کسی کے منع کرنے یا نہ کرنے کا کیا سوال تھا، نیز کتے کا صرف لعاب نجس ہے اس کا جسم نجس نہیں ہے اور یہ کسی حدیث میں تصریح نہیں ہے کہ کتے کا لعاب مسجد میں لگا تھا، اور حدیث میں جو کتوں کے مسجد میں پیشاب کرنے کا ذکر ہے اس کی توجیہ میں علامہ ابن بطال نے ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ نے علامہ ابن بطال کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ اصحاب صفہ مسجد میں کھاتے پیتے بھی تھے اور کتوں کی عادت ہے کہ وہ کھانے پینے کی چیزیں ڈھونڈ کر کھاتے ہیں اور جب کھائیں گے تو ان کا لعاب بھی گرے گا اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مسجد کی طہارت میں شک ہوگا اور پہلے مسجد کی طہارت کا یقین تھا اور یقین شک سے زائل نہیں ہوتا نیز اس حدیث سے کتوں کے طاہر ہونے پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس حدیث میں کتوں کے پیشاب کرنے کا بھی ذکر ہے اور کتوں کے پیشاب کی نجاست پر اتفاق ہے لہذا اس حدیث سے کتوں کے طاہر ہونے پر استدلال کرنا درست نہیں ہے، پھر اس پر یہ اعتراض کیا کہ بعض کے نزدیک کتوں کا کھانا جائز ہے، لہذا ان کے نزدیک کتوں کا پیشاب پاک ہوگا اور ابن وہب مالکی نے کہا ہے کہ آدمی کے سوا تمام حیوانات کا پیشاب پاک ہے۔ (فتح الباری ج ۱ ص ۷۱۶ ‘ دار الکتب العلمیہ بیروت 1426ھ )

ہم اس سے پہلے حدیث : ۱۵۶ کی شرح میں” المدونتہ الکبری ‘ ج ا ص ۲۰ کے حوالے سے لکھ چکے ہیں کہ امام مالک کے نزدیک تمام جانوروں کا پیشاب پاک ہے اور بہ ظاہر امام بخاری کا بھی یہی موقف ہے کہ کتے کا پیشاب پاک ہے اس لیے انہوں نے اس حدیث کو روایت کیا اور اس کے خلاف انہوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ کتوں کے مسجد میں پیشاب کرنے کی کوئی تاویل کی، اسی وجہ سے اس حدیث کی شرح میں علامہ عینی نے فرمایا: امام بخاری نے اس حدیث سے کتے کے پیشاب کی طہارت پر استدلال کیا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۶۵ دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ)