١٧٥ – حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ،عَنِ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِي عَنْ عَدِيّ بنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا ارْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ فَقَتَلَ فَكُلْ ، وَإِذَا اكل فلا تَأْكُلْ ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ. قُلْتُ ارْسِلُ كَلْبی فَاجِدُ مَعَهُ كَلْبًا أَخَرَ ۚ قَالَ فَلَا تَأكُلُ ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى كَلْبِ اخَرَ .

اطراف الحدیث : ۲۰۵۴-۵۴۷۵ – 5476 – ۵۴۷۷ 5483، 5484، 5485،5486، 5487، 7397۔

صحیح مسلم: ۱۹۲۹ الرقم المسلسل : 4889،  سنن ابوداؤد : ۲۸۴۷ سنن ترمذی : 1465،  سنن نسائی: ۴۲۷۸، سنن ابن ماجہ : 3215،  سننن الکبری:4775، المنتقی : ۹۱۴ مسند ابوعوانہ ج ۵ ص ۱۲۸ معجم الکبیر : ۱۴۴ – ج ۱۷ سنن بیہقی ج ۱ ص ۲۳۶ مصنف ابن ابی شیبه ج ۵ ص  375، سنن دارمی : 2003،  مسند الحمیدی: 913، الاستذکار : ۲۱۸۵۵، مسند احمد ج 4 ص ۲۵۶ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۸۲۴۵ – ج ۳۰ ص۱۷۸ مؤسسة الرسالة بیروت)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: مجھے حفص بن عمر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از ابن ابی السفر از شعبی از حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: جب تم نے اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑا اور اس نے ( شکار ) کو قتل کر دیا تو تم کھا لو اور جب اس نے (اس میں سے کچھ ) کھالیا تو تم اس کو مت کھاؤ کیونکہ اس کتے نے اس کو اپنے لیے شکار کیا ہے میں نے کہا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں، پھر میں اس کے ساتھ ایک دوسرا کتا پاتا ہوں، آپ نے فرمایا: پھر تم مت کھاؤ کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے اور تم نے دوسرے کتے پر بسم اللہ نہیں پڑھی۔

اس حدیث سے امام بخاری نے اپنے موقف پر استدلال کیا ہے کہ کتے کا جھوٹا پاک ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) حفص بن عمر

(۲) شعبہ بن الحجاج

(۳) ابن ابی السفر الكوفی

(۴) الشعمی ، ان کا نام عامر ہے ان کا تعارف ہو چکا ہے

(۵) حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ، یہ ۴ھ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۶۶ احادیث روایت کی ہیں، امام بخاری اور مسلم ان میں سے تین حدیثوں پر متفق ہیں اور امام مسلم دو حدیثوں کے ساتھ منفرد ہیں یہ مختار کے زمانہ میں کوفہ آئے تھے اس وقت ان کی عمرہ 120 سال تھی اور ۱۰۰ھ میں قرقیسیا میں فوت ہو گئے ابو حاتم اسجستانی نے لکھا ہے کہ حضرت عدی بن حاتم کی عمر 180 سال تھی ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۶۶)

حدیث مذکور سے امام مالک کا کتے کے جھوٹے کی طہارت پر استدلال اور اس کا جواب

اس حدیث میں مذکور ہے کہ سدھائے ہوئے کتے کا کیا ہوا شکار جائز ہے، حالانکہ وہ شکار کو منہ سے پکڑ کر لاتا ہے اور اس سے اس کے منہ کا لعاب بھی شکار پر لگتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ شکار کو دھو کر کھانا’ اس سے معلوم ہوا کہ کتے کا جھوٹا پاک ہے اسی وجہ سے امام مالک نے کہا کہ اگر کتے کا لعاب نجس ہے تو شکاری کتے کا کیا ہوا شکار کھانا کیسے جائز ہوگا؟ الاسماعیلی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ سدھائے ہوئے کتے کا شکار کرنا ذکاۃ اور ذبح کے قائم مقام ہے اور اس میں اس کی نجاست کا ثبوت ہے، نہ نفی ہے اور اس کے لعاب کے نجس ہونے کی دلیل یہ ہے کہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ شکار کے خون کو دھو لینا کیونکہ جب وہ اپنی کچلیوں سے شکار کو زخمی کرے گا تو اس کا خون تو نکلے گا لیکن چونکہ مسلمانوں میں یہ مقرر اور معروف تھا کہ خون نجس ہے اور اس کو دھویا جاتا ہے، اس لیے خون دھونے کو آپ نے ان کے عرف کی طرف مفوض کردیا، اسی طرح آپ نے کتے کے لعاب کے دھونے کو بھی ان کے عرف کی طرف مفوض کردیا کیونکہ مسلمانوں کے نزدیک یہ مقرر اور معروف تھا کہ کتے کا جھوٹا نجس ہے اور آپ نے اس کے جھوٹے برتن کو پاک کرنے کے لیے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے۔

(فتح الباری ج ا ص ۷۱۷-۷۱۶ دار المعرفہ بیروت ۱۴۲۶ھ )

شکار کرنے کے بعض احکام

اس حدیث میں یہ فرمایا ہے کہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے اس سے یہ معلوم ہوا کہ شکاری کتے کے شکار کے حلال ہونے کی شرط یہ ہے کہ بسم اللہ پڑھ کر شکاری کتے کو شکار پر چھوڑا جائے دوسری شرط یہ ہے کہ وہ کتا سدھایا ہوا ہو تیسری شرط یہ ہے کہ کتا شکار کو اپنے مالک کے لیے رکھے اور خود اس میں سے نہ کھائے ۔

کھانے کی ضرورت اور دیگر فوائد اور ضروریات کے لیے شکار کرنا جائز ہے اور محض شغل اور کھیل کود کی وجہ سے شکار  کرنا حرام ہے۔