اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌ – سورۃ نمبر 85 البروج آیت نمبر 6
sulemansubhani نے Wednesday، 16 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌ ۞
ترجمہ:
جب وہ ان کے کنارے بیٹھے تھے
البروج : ٦ کا معنی ہے : جن لوگوں نے اس خندق میں آگ بھڑکائی تھی وہ اس خندق کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے اور اس میں مؤمنوں کو ڈال رہے تھے۔
نجران یمن کے ثمال میں ایک شہر ہے، جو نجران بن زیدان کی طرف منسوب تھا، اس شہر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان زمانہ فترت میں یہ واقعہ پیش آیا، اس واقعہ کو امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ نے اس طرح روایت کیا ہے :
اصحاب اخدود کے واقعہ کی تفصیل میں صحیح حدیث
امام مسلم بن حجاج قشیری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت صہیب رومی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم سے پہلے لوگوں میں ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادوگر تھا، جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا : اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں، آپ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیجئے، میں اس کو جادو کی تعلیم دے دوں، بادشاہ نے اس کے پاس جادو سیکھنے کے لیے ایک لڑکا بھیج دیا، جب وہ جاتا تو اس کے راستے میں ایک راہب پڑتا تھا، وہ اس کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں سنتا تھا اور اسے اس کی باتیں اچھی لگتی تھیں اور جب وہ جادوگر کے پاس پہنچا تو ( تاخیر کے سبب) جادوگر اس کو مارتا لڑکے نے راہب سے اس کی شکایت کی، راہب نے اس سے کہا : جب تم کو ساحر سے خوف ہو تو کہہ دینا کہ گھر والوں نے مجھے روک لیا تھا اور جب گھر والوں سے خوف ہو تو کہہ دینا ساحر نے مجھے روک لیا تھا، یہ سلسلہ یونہی تھا کہ اسی اثناء میں ایک بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ بند کرلیا، لڑکے نے سوچا کہ آج میں آزمائوں گا کہ آیا ساحر افضل ہے یا راہب ؟ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا : اے اللہ ! اگر تجھ کو راہب کے کام ساحر سے زیادہ پسند ہیں تو اس جانور کو قتل کر دے تاکہ لوگ گزرنے لگیں، اس نے پتھر مار کر اس جانور کو قتل کر ڈالا اور لوگ گزرنے لگے، پھر اس نے راہب کے پاس جا کر اس کو خبر دی، راہب نے اس سے کہا : اے بیٹے ! آج تم مجھ سے افضل ہوگئے ہو، تمہارا مرتبہ وہاں تک پہنچ گیا جس کو میں دیکھ رہا ہوں، عنقریب تم مصیبت میں گرفتار ہو گے، جب تم مصیبت میں گرفتار ہو تو کسی کو میرا پتہ نہ دینا، یہ لڑکا مادرزا ادا اندھے اور برص والے کو ٹھیک کردیتا تھا، اور لوگوں کی تمام بیماریوں کا علاج کرتا تھا، بادشاہ کا ایک مصاحب اندھا تھا، اسی نے یہ خبر سنی تو وہ اس کے پاس بہت سے ہدیے لے کر آیا، اور کہا : اگر تم نے مجھے شفا دے دی تو میں یہ سب چیزیں تم کو دے دوں گا، لڑکے نے کہا : میں کسی کو شفاء نہیں دیتا، شفا تو اللہ دیتا ہے، اگر تم اللہ پر ایمان لے آئو گے تو میں اللہ سے دعا کروں گا، اللہ تم کو شفاء دے گا، وہ اللہ پر ایمان لے آیا اور اللہ نے اس کو شفاء دے دی، وہ بادشاہ کے پاس گیا اور پہلے کی طرح اس کے پاس بیٹھا، بادشاہ نے اس سے پوچھا : تمہاری بینائی کس نے لوٹائی ؟ اس نے کہا : میرے رب نے، بادشاہ نے کہا : کیا میرے علاوہ تیرا کوئی رب ہے ؟ اس نے کہا : میرا اور تمہارا رب اللہ ہے، بادشاہ نے اس کو گرفتار کرلیا اور اس وقت تک اس کو اذیت دیتا رہا جب تک کہ اس نے اس لڑکے کو پتہ نہ بتادیا، پھر اس لڑکے کو لایا گیا، بادشاہ نے اس سے کہا : اے بیٹے ! تمہارا جادو یہاں تک پہنچ گیا کہ تم مادرزاد اندھوں کو ٹھیک کرتے ہو، برص والوں کو تندرست کرتے ہو اور بہت کچھ کرتے ہو، اس لڑکے نے کہا : میں کسی کو شفاء نہیں دیتا، شفاء تو صرف اللہ دیتا ہے، بادشاہ نے اس کو گرفتار کرلیا اور اس کو اس وقت تک اذیت دیتا رہا جب تک کہ اس نے راہب کا پتہ نہ بتادیا، پھر راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جائو، راہب نے انکار کیا، اس نے آرا منگوایا اور اس کے سر کے درمیان میں رکھا اور اس کو چیر کردو ٹکڑے کردیئے، پھر اس مصاحب کو بلایا اور اس سے کہا کہ اپنے دین سے پھر جائو، اس نے انکار کیا، اس نے اس کے سر پر بھی آراء رکھا اور چیر کر اس کے دو ٹکڑے کردیئے، پھر اس لڑکے کو بلایا، اور اس سے کہا اپنے دین سے پھر جائو، اس لڑکے نے انکار کیا، بادشاہ نے اس لڑکے کو چند اصحاب کے حوالے کیا اور کہا : اس لڑکے کو فلاں فلاں پہاڑ پر لے جائو، اس کو لے کر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھو، اگر یہ اپنے دین سے پلٹ جائے تو فبہا ورنہ اس کو اس چوٹی سے پھینک دینا، وہ لوگ اس لڑکے کو لے گئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے، اس لڑکے نے دعا کی : اے اللہ ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لئے اسی وقت ایک زلزلہ آیا اور وہ سب پہاڑ پر سے گرگئے، وہ لڑکا بادشاہ کے پاس چلا گیا، بادشاہ نے پوچھا : جو تمہارے ساتھ گئے تھے ان کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا : اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا، بادشاہ نے اس کو پھر اپنے چند اصحاب کے حوالے کیا اور کہا : اس کو ایک کشتی میں سوار کرو، ہب کشتی سمندر کے وسط میں پہنچ جائے تو اگر یہ اپنے دین سے لوٹ آئے تو فبہا ورنہ اس کو سمندر میں پھینک دینا، وہ لوگ اس کو لے گئے، اس نے دعا کی : اے اللہ ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لینا، وہ کشتی فوراً الٹ گئی، وہ سب غرق ہوگئے، اور وہ لڑکا بادشاہ کے پاس چلا گیا، بادشاہ نے اس سے پوچھا : تمہارے ساتھ جو گئے تھے ان کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا : اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا، پھر اس نے بادشاہ سے کہا : تم اس وقت تک مجھے قتل نہیں کرسکو گے جب تک کہ میرے کہنے کے مطابق عمل نہ کرو، بادشاہ نے کہا : وہ کیا عمل ہے ؟ لڑکے نے کہا : تمام لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرو، اور مجھے ایک درخت پر سولی کے لیے لٹکائو، پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکالو، ایک تیر کو کمان کے چلہ میں رکھ کر کہو : اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر مجھے تیر مارو، جب تم نے ایسا کرلیا تو وہ تیر مجھے ہلاک کر دے گا، سو بادشاہ نے تمام لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا اور اس کو ایک درخت کے تنے پر لٹکایا، پھر اس کے ترکش سے ایک تیر لیا، پھر اس تیر کو کمان کے چلہ میں رکھا، پھر کہا : اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، تب وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں پیوست ہوگیا، اس لڑکے نے تیر کی جگہ کنپٹی پر اپنا ہاتھ رکھا اور مرگیا، تمام لوگوں نے کہا : ہم اس لڑکے رب پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، یہ خبر بادشاہ کو پہنچی اور اس سے کہا گیا : کیا تم نے دیکھا جس بات سے تم ڈرتے تھے، اللہ نے وہی تمہارے ساتھ کردیا، تمام لوگ ایمان لے آئے، بادشاہ نے گلیوں کی دہانوں پر خندقیں کھودنے کا حکم دیا، سو وہ خندقیں کھودی گئیں اور ان میں آگ لگائی گئی اور کہا : جو اپنے دین سے نہ پھرے اس کو اس خندق میں ڈال دو یا اس سے کہا گیا کہ آگ میں داخل ہوجا، سو لوگ آگ کی خندقوں میں داخل ہوگئے، اخیر میں عورت آئی، اس کے ساتھ ایک بچہ تھا، وہ اس میں گرنے سے جھجکی، اس کے بچہ نے کہا : اے ماں ! ثابت قدم رہو، تم حق پر ہو۔
( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٠٠٥، الرقم المسلسل : ٧٣٧٦، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٣٤٠، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١٦٦١ )
اصحاب الاخدود کے واقعہ کی تشریح
علامہ ابی مالکی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : اس حدیث میں مذکور ہے کہ راہب نے لڑکے سے کہا : جب تم کو ساحر سے خوف ہو تو کہنا : مجھے گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب گھر والوں سے خوف ہو تو کہنا : مجھے ساحرنے روک لیا تھا، اس پر یہ سوال ہوتا ہے کہ راہب نے اس کو جھوٹ کی تلقین کی، قاضی عیاض نے کہا : اس کا جواب یہ ہے کہ ضرورت کی وجہ سے جھوٹ بولنا جائز ہے، خصوصاً اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کے لیے اور جب کوئی شخص کسی کو دین سے روک رہا ہو تو اس موقع پر بھی جھوٹ بولنا جائز ہے، علامہ خطابی نے کہا : اس جواز کی دلیل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے راہب اور اس لڑکے کا یہ واقعہ ان کی مدح اور ثناء کے طور پر بیان کیا ہے اور ان کے اسی فعل کو مقرر رکھا ہے، اگر یہ فعل غلط ہوتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا غلط ہونا بیان کردیتے۔
اس حدیث میں ہے کہ جب اس لڑکے کو اذیت دی گئی تو اس نے راہب کا پتہ بتادیا، علامہ خطابی کہتے ہیں کہ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس لڑکے نے راہب کے قتل کی رہنمائی کیسے کی، جبکہ راہب نے اس سے یہ کہا بھی تھا کہ اگر تم کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائو، پھر بھی میرا پتہ نہ بتانا، اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لڑکا نابالغ تھا، اگر اس کو نابالغ مان لیا جائے تو جواب یہ ہے کہ لڑکے کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس راہب کو قتل کردیا جائے گا اور راہب نے اپنا پتہ بتانے سے منع کیا تھا لیکن لڑکے نے اس سے وعدہ نہیں کیا تھا، علاوہ ازیں لڑکا اذیت کے ہاتھوں مجبورہو گیا تھا۔
اس حدیث میں ہے کہ لڑکے نے بادشادہ کو یہ بتایا کہ وہ اس کو کس طریقہ سے قتل کرسکتا ہے، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس لڑکے نے اپنے قتل پر معاونت کی اور یہ جائز نہیں ہے، قاضی عیاض نے کہا : لڑکے نے یہ رہنمائی اس لیے کی تھی کہ تمام لوگوں میں اللہ پر ایمان لانے کی حقانیت ظاہر ہوجائے اور لوگ اس دلیل کو دیکھ کر اللہ پر ایمان لے آئیں، اور ایسا ہی ہوا، علامہ خطابی نے اس کے جواب میں کہا : وہ لڑکا نابالغ تھا یا اس نے اس وجہ سے رہنمائی کی کہ اس کو یقین تھا کہ وہ مآل کار قتل کردیا جائے گا۔
اس حدیث میں اس بچہ کا ذکر ہے جس نے طفولیت میں کلام کیا، اور یہ اس قسم کے چھ بچوں میں سے ایک ہے۔ قاضی عیاض نے کہا : اس حدیث میں مصائب پر اولیاء اللہ کا صبر کا بیان ہے، اور یہ کہ دین کی تبلیغ میں اللہ کے نیک بندوں پر مصائب آتے ہیں اور یہ کہ خطرہ کے وقت بھی اپنے دین کا اظہار کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اس سے دعا کرنی چاہیے اور اس حدیث میں اولیاء اللہ کی کرامات کا بیان ہے۔ ( اکمال اکمال المعلم ج ٩ ص ٤٧٤۔ ٤٧١، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
جان جانے کے خوف کے باوجود کلمہ کفرنہ کہنے کی عزیمت
اللہ عزوجل نے اس آیت میں اس امت کے مؤمنین کو یہ بتایا ہے کہ ان سے پہلے موحدین کو اللہ کی راہ میں کتنی مشکلات اور سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کے سامنے اس لڑکے کا ذکر کیا تاکہ اگر ان کو دین کی راہ میں تکلیفوں اور ایذائوں کو برداشت کرنا پڑے تو وہ ان پر صبر کریں اور ان کے اندر حوصلہ پیدا ہو اور وہ اس لڑکے کو اپنے لیے اسوہ، نمونہ اور اپنا آئیڈیل بنائیں، اور دین حق پر مضبوطی سے جمے اور ڈٹے رہیں اور دین حق کی تبلیغ میں اپنی جان کی بھی پرواہ نہ کریں اور جس طرح اس لڑکے نے اپنی کم سنی کے باوجود حق کی راہ میں صبر کیا، اسی طرح اس راہب نے بھی صبر کیا، حتیٰ کہ اس کو آری سے کاٹ ڈالا گیا، اسی طرح اور بہت لوگ جو اللہ پر ایمان لائے تھے اور ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہوچکا تھا، انہوں نے عزم اور ہمت سے کام لیا، حتیٰ کہ ان کو آگ میں ڈال دیا گیا اور ان کے پائے استقلال میں جنبش نہیں آئی۔
قاضی ابوبکر بن العربی مالکی متوفی ٥٤٣ ھ نے کہا ہے کہ ایمان بچانے کے لیے جان دینے کا عمل منسوخ ہوچکا ہے ( دل میں ایمان رکھ کر زبان سے کلمہ ٔ کفر کہہ دینا چاہیے تاکہ جان بچائی جاسکے)
( احکام القرآن ج ٤ ص ٣٧٤، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٠٨ ھ)
میں کہتا ہوں کہ صحیح یہ ہے کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہے اور جس شخص میں حوصلہ اور ہمت ہو اور وہ جان جانے کی پرواہ کیے بغیر دین حق پر جم سکے اور ڈٹ سکے، اس کے حق میں یہی افضل اور اولیٰ ہے اور یہی عزیمت ہے کہ وہ کلمہ ٔ کفر نہ کہے خواہ اس کی جان چلی جائے۔
قرآن مجید میں ہے، حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا :
یٰـبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ اَصَابَکَط اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ۔ (لقمان : ١٧)
اے میرے پیارے بیٹے ! تم نماز قائم رکھنا اور نیک کاموں کا حکم دیتے رہنا اور برائی سے روکتے رہنا اور ( اس معاملہ میں) تم پر جو مصیبت آئے اس پر صبر کرنا، بیشک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔
نیز حدیث میں ہے :
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے عظیم جہاد ظالم حکم ران کے سامنے کلمہ حلق کہنا ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٧٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠١١)
محمدبن سنجر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خادمہ حضرت امیمہ (رض) سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرا رہی تھی، آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے نصیحت کیجیے، آپ نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کے سامنے بالکل شرک نہ کرنا، خواہ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں یا تم کو آگ میں جلا دیا جائے۔
(المعجم الکبیر ج ٢٤ ص ١٩٠، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٧ ص ٣٠٤، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رھاوی ہے، امام بخاری وغیرہ نے اس کی توثیق کی ہے اور اکثر نے اس کی تضعیف کی ہے)
جان جانے کے خطرہ سے کلمہ ٔ کفر کہنے کی رخصت، جب کہ دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو
ہاں ! اگر کوئی شخص اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ ٔ کفر کہہ دے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو تو اس کو جانے بچانے کے کلمہ ٔ کفر کہنے کی رخصت ہے، البتہ عزیمت پہلی صورت ہے، قرآن مجید میں ہے :
مَنْ کَفَرَ بِ اللہ ِ مِنْْم بَعْدِ اِیْمَانِہٖٓ اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَقَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّم بِالْاِیْمَانِ وَلٰـکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْہِمْ غَضََبٌ مِّنَ اللہ ِج وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (النحل : ١٠٦)
جس نے اللہ پر ایمان لانے کے بعد کفر کیا، سو اس کے جس کو کفر پر مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو، ہاں ! جو لوگ کھلے دل کے ساتھ کفر کریں تو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
اس کی تائید میں حسب ذیل احادیث ہے :
امام ابو الحسن علی بن احمد الواحدی المتوفی ٤٦٨ ھ لکھتے ہیں :
یہ آیت حضرت عمار بن یاسر (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے کیونکہ مشرکین نے حضرت عمار کو ان کے والد یاسر کو اور ان کی ماں سمیہ کو اور حضرت صہیب کو، حضرت بلال کو، حضرت خباب کو اور حضرت سالم کو پکڑ لیا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا۔ حضرت سمیہ کو انہوں نے دو اونٹوں کے درمیان باندھ دیا اور نیزہ ان کی اندام نہانی کے آر پار کردیا اور ان سے کہا : تم مردوں سے اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے اسلام لائی ہو، سو ان کو قتل کردیا اور ان کے خاوند یاسر کو بھی قتل کردیا، یہ دونوں وہ تھے جن کو اسلام کی خاطر سب سے پہلے شہید کیا گیا اور رہے عمار تو ان سے انہوں نے جبریہ کفر کا کلمہ کہلوایا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر دی گئی کہ حضرت عمار نے کلمہ کفر کہا ہے تو آپ نے فرمایا : بیشک عمار سر سے پائوں تک ایمان سے معمو ہے، اس کے گوشت اور خون میں ایمان رچ چکا ہے، پھر حضرت عمار (رض) ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس روتے ہوئے آئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی آنکھوں سے آنسو پونچھ رہے تھے اور فرما رہے تھے : اگر وہ دوبارہ تم سے جبراً کلمہ کفر کہلوائیں تو تم دوبارہ کہہ دینا۔
( اسباب نزول القرآن رقم الحدیث : ٥٦٧، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، المستدرک ج ٢ ص ٣٥٧، تفسیر عبد الرزاق رقم الحدیث : ٢١٩٤٦ )
محمد بن عمار بن یاسر (رض) بیان کرتے ہیں کہ مشرکین نے عمار بن یاسر (رض) کو پکڑ لیا اور ان کو اس وقت تک نہیں چھوڑا حتیٰ کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برا کہا اور ان کے معبودوں کو اچھا کہا، تب ان کو چھوڑ دیا۔ حضرت عمار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے پوچھا : تمہارے ساتھ کیا ہوا ؟ حضرت عمار نے کہا : بہت برا ہوا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! انہوں نے مجھے اس وقت تک نہیں چھوڑا حتیٰ کہ میں آپ کو برا کہوں اور ان کے بتوں کو اچھا کہوں۔ آپ نے پوچھا : تم اپنے دل کو کیسا پاتے ہو ؟ انہوں نے کہا : میر ادل ایمان کے ساتھ مطمئن ہے۔ آپ نے فرمایا : اگر وہ تمہیں دوبارہ مجبور کریں تو دوبارہ کہہ دینا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور امام بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔
( المستدرک ج ٣ ص ٣٩٢، طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ٣٤١٣ طبع جدید، حلیۃ الاولیاء ج ١ ص ١٤٠ )
حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنہوں نے سب سے پہلے اسلام کا اظہار کیا، وہ سات افراد تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابو بکر، حضرت بلال، حضرت خباب، حضرت عمار، حضرت سمیہ ( حضرت عمار کی والدہ) اور حضرت صہیب۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع آپ کے چچا نے کیا۔ حضرت ابوبکر کا دفاع ان کی قوم نے کیا، باقی پانچوں کو مشرکین نے پکڑ لیا اور ان کو لوہے کی زد میں پہنا کر دھوپ میں تپانا شروع کردیا، حتیٰ کہ انہوں نے اپنی پوری کوشش سے ان کو عذاب پہنچایا، پھر حضرت بلال کے سوا سب نے جان بچانے کے لیے ان کی موافقت کرلی پھر ان میں سے ہر ایک کے پاس ایک قوم آئی اور ان کو ایک چمڑے پر ڈال کرلے گئی، پھر شام کو ابو جہل آیا اور حضرت سمیہ کو گالیاں دینے لگا پھر اس نے ان کی اندام نہانی میں نیزہ مارا جو ان کے منہ کے پار ہوگیا۔ وہ اسلام کی راہ میں شہید ہونے والی سب سے پہلے خاتون تھیں۔ حضرت بلال نے کفار کی موافقت کرنے کے مقابلہ میں اللہ کی راہ میں جان دینے کو آسان سمجھا، کفار نے ان کے گلے میں رسی ڈال کر بچوں کو تھما دی، وہ ان کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے تھے اور حضرت بلال (رض) احد، احد ( اللہ ایک ہے) پکارتے تھے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣ ص ٤٨۔ ٤٧، مسند احمد ج ١ ص ٤٠٤ طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث : ٣٨٣٢ طبع جدید، عالم الکتب سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٥٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٠٨٣، دلائل النبوۃ للبہیقی ج ٢ ص ٢٨٢۔ ٢٨١، اس حدیث کی سند صحیح ہے)
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : میرے پاس سے منتشر ہو جائو، پس جس شخص کے پاس طاقت ہے وہ آخررات تک ٹھہرے جائے اور جس کے پاس طاقت نہیں ہے وہ رات کے پہلے حصہ میں چلا جائے اور جب تم یہ سن لو کہ میں اس جگہ ٹھہر گیا ہوں تو مجھ سے آ کر مل جانا۔ جب صبح ہوئی حضرت بلال، حضرت خباب، حضرت عمار اور قریش کی ایک کنیز جو اسلام لا چکی تھی، ان سب کو ابو جہل اور دوسرے مشرکین نے پکڑ لیا۔ انہوں نے حضرت بلال سے کہا : تم کفر کرو۔ انہوں نے انکار کیا تو انہوں نے ان کو لوہے کی زد ہیں پہنا کر انہیں دھوپ میں تپایا، وہ ان کو گھسیٹ رہے تھے اور وہ احد، احدکہہ رہے تھے۔ حضرت خباب کو وہ کانٹوں میں گھسیٹ رہے تھے اور رہے حضرت عمار نے انہوں نے جان بچانے کے لیے کلمہ کفر کہہ لیا اور قریش کی اس کنیز کے جسم میں ابو جہل نے چار کیلیں ٹھونکیں، پھر اس کو گھسیٹا، پھر ان کو اندام نہانی میں نیزہ مار کر ان کو شہید کردیا، پھر حضرت بلال، حضرت خباب اور حضرت عمار، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جا ملے اور آپ کو یہ واقعہ سنایا۔ آپ نے حضرت عمار سے پوچھا : جب تم نے کلمہ کثر کہا تھا تو تمہارے دل کی کیفیت کیا تھی ؟ کیا تم نے کھلے دل سے کلمہ کفر کہا تھا ؟ انہوں نے کہا : نہیں، حضرت ابن عباس نے فرمایا : پھر یہ آیت نازل ہوئی :” اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَقَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّم بِالْاِیْمَانِ “ (النحل : ١٠٦) ۔
(تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٢٦٦٦، الدر المنثور ج ٥ ص ١٧١۔ ١٧٠)
البروج : ٤ میں فرمایا ہے : خندقوں والے ہلاک کیے جائیں۔
خندق کھودنے والوں کا انجام
یہ دعا ئیہ کلمہ ہے، اس پر یہ اعتراض ہے کہ دعا تو عاجز انسان کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ عاجز نہیں ہے، ہر چیز قاد رہے، پھر اس کا یہ فرمانا کس طرح صحیح ہوگا کہ خندقوں والے ہلاک کردیئے جائیں یا ان کو اللہ کی رحمت سے دور کردیا جائے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں مؤمنوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ انہیں اصحاب الاخدود کے متعلق یہ دعا کرنی چاہیے، اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اصحاب الاخدود سے مراد خندقیں والے نہیں ہیں، بلکہ خندقوں میں جلنے والے مؤمنین ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یہ خبر دی ہے کہ ان کو قتل کردیا گیا یعنی آگ میں جلا دیا گیا۔
ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں ان ظالموں کے انجام کی خبر دی ہے، کیونکہ روایت ہے کہ جن مؤمنوں کو خندق میں ڈالا گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان مؤمنوں کی روحوں کو آگ میں پہنچنے سے پہلے قبض فرما لیا اور آگ نے خندق سے نکل کر ان لوگوں کو جلاڈالا، جو خندق کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے، ایک قول یہ ہے کہ مؤمنین نجات پا گئے اور خندق کے کنارے بیٹھے ہوئے کفار جل گئے۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ٢٥٣، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 85 البروج آیت نمبر 6