کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 37 حدیث نمبر 184
۳۷ – بَابُ مَنْ لَمْ يَتَوَضَّا الا مِنَ الْعَشْرِ الْمُثقِلِ
جس کے نزدیک صرف بھاری غشی سے وضو ، واجب ہوتا ہے
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ حصر کیسے صحیح ہوگا، جب کہ بھاری غشی کے علاوہ وضوء کے اور اسباب بھی ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حصر مخاطب کے اعتقاد کے اعتبار سے ہے گویا کہ مخاطب یہ سمجھتا تھا کہ مطلقا غشی سے وضو ٹوٹ جاتا ہے خواہ غشی خفیف ہو یا ثقیل ہو تو امام بخاری نے اس کا رد کرنے کے لیے حصر کے ساتھ عنوان قائم کیا کہ صرف بھاری غشی سے وضو ، واجب ہوتا ہے اور باب سابق کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں یہ بیان کیا تھا کہ قرآن مجید پڑھنے کے لیے وضوء کرنا لازم نہیں ہے اور اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ غشی خفیف کی وجہ سے وضو کرنا لازم نہیں ہے۔
١٨٤- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنِ امْرَاتِهِ فَاطِمَةَ ، عَنْ جَدَّتِها أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ زَوْج النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامُ يُصَلُّونَ، وَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ تُصَلَّی فَقُلْتُ مَا لِلنَّاسِ ؟ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا نَحْوَ السَّمَاءِ وَقَالَتْ سُبْحَانَ اللهِ، فَقُلْتُ أَيَّةٌ فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلانِى الْغَشْى، وَجَعَلْتُ اَصب فوق رَاسِي مَاءً فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللَّهَ وَاثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ مَا مِنْ شَيْءٍ كُنْتُ لَمْ آرَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّی الْجَنَّةَ وَالنَّارِ، وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَى انَّكُمْ تُفتَنُونَ فِی الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ. لَا ادرى ای ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ، يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ اَوِ الْمُوْقِنُ لا ادری أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ رسول اللهِ جَاءَ نَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَاجَبَنَا وَامَنَّا وَاتَّبَعْنَا ، فَيُقَالُ نَمْ صَالِحًا ، فَقَدْ عَلِمْنَا اِنْ كُنتَ لمُؤْمِنَا، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَى ذلک قَالَتْ أَسْمَاءُ، فَيَقُولُ لَا أَدرى سَمِعْتُ النَّاسَ یقولون شَيْئًا فَقُلْتُه.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے امام مالک نے حدیث بیان کی از ہشام بن عروه از زوجه خود فاطمه از جده خود حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اس وقت سورج کو گہن لگا ہوا تھا، پس اس وقت لوگ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور حضرت عائشہ بھی کھڑی ہوئی نماز پڑھ رہی تھیں، پس میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ تو حضرت عائشہ نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: سبحان اللہ ! میں نے پوچھا: یہ کوئی علامت ہے؟ انہوں نے اشارہ کیا: ہاں! میں کھڑی ہوگئی، حتی کہ مجھ پر غشی طاری ہو گئی اور میں اپنے سر کے اوپر پانی ڈالنے لگی، پس جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر مڑے تو آپ نے اللہ تعالی کی حمد وثناء کی، پھر آپ نے فرمایا: جس چیز کو بھی میں نے پہلے نہیں دیکھا تو اس چیز کو میں نے اپنی اس جگہ میں دیکھ لیا ہے، حتی کہ جنت اور دوزخ ( کو بھی) اور میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ تمہیں قبر کے اندر فتنہ میں مبتلا کیا جائے گا جو دجال کے فتنہ کی مثل ہوگا یا قریب ہوگا راوی کہتا ہے: مجھے یاد ہیں کہ حضرت اسماء نے کیا کہا تھا، تمہارے پاس کسی کو لایا جائے گا، پس کہا جائے گا: اس شخص کے متعلق تمہارا کیا علم ہے؟ پس رہا ایمان والا یا یقین والا راوی کہتا ہے: مجھے پتا نہیں، حضرت اسماء نے کیا کہا تھا، پس وہ کہے گا: یہ محمد رسول اللہ ہیں یہ ہمارے پاس دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے ہم نے ان کی دعوت قبول کی اور ہم ایمان لے آئے اور ہم نے (ان کی ) پیروی کی پس کہا جائے گا: تم آرام سے سو جاؤ، پس تحقیق یہ ہے کہ ہم کو معلوم تھا کہ تم ضرور ایمان لانے والے ہو اور رہا منافق یا شک کرنے والا راوی کہتا ہے: مجھے پتا نہیں کہ حضرت اسماء نے کیا کہا تھا وہ کہے گا: میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا تو میں نے بھی کہہ دیا۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۸۶ میں مطالعہ فرمائیں۔