۰۰ – باب

۱۹۰ – حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَاحاتِمُ بنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الْجَعْدِ قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ ذَهَبَتْ بِي خَالَتِى إِلَى النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَارسُولَ اللهِ إِنَّ ابنَ اختی وَجِعْ، فَمَسَحَ رَأسِى وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ توضا،  فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوْئهِ ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ فنظرت إِلَى خاتِمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ ۔

اطراف الحدیث : 3540، 3541،5670،6352 -) (صحیح مسلم : ۲۳۴۵ الرقم المسلسل : ۵۹۷۲ سنن ترمذی: 3643،  شمائل ترمذی:16، السنن الکبری للنسائی: ۷۵۱۸)

باب

 امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبد الرحمان بن یونس نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حاتم بن اسماعیل نے حدیث بیان کی از الجعد، انہوں نے کہا: میں نے حضرت السائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میری خالہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! بے شک میرے بھانجے کے سر میں درد ہے آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی، پھر آپ نے وضوء کیا، پھر میں نے آپ کے وضو کا پانی پیا پھر میں آپ کی پشت کے پیچھے کھڑا ہوگیا، پھر میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت کو دیکھا، جو چھپر کھٹ ( مسہری ) کی گھنڈی کی مثل تھی ۔

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: میں نے آپ کے وضوء کے پانی سے پیا، یعنی وہ پانی جو آپ کے اعضاء شریفہ سے لگ کر قطرات کی صورت میں گرایا اس سے مراد وہ پانی ہے، جو وضوء کرنے کے بعد برتن میں بچ گیا۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(1) عبد الرحمان بن یونس ابو مسلم البغدادی یہ حفاظ حدیث میں سے ایک ہیں، یہ ۲۲۴ ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۲) حاتم بن اسماعیل الکوفی، یہ مدینہ میں رہے اور ہارون رشید کی خلافت میں مدینہ میں ۱۸۶ ھ میں فوت ہو گئے

(۳) الجعد بن عبد الرحمان بن اوس المدنی الکندی ان کو تصغیر کے ساتھ الجعید کہا جاتا ہے

(۴) حضرت السائب بن یز ید  رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا: جب میری عمر سات سال کی تھی تو میرے والد نے مجھے حجتہ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرایا، انہوں نے پانچ احادیث روایت کی ہیں اور ان سب کو امام بخاری نے روایت کیا ہے یہ 91 ھ میں مدینہ میں فوت ہو گئے تھے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۱۵ ۱۱۴)

مہر نبوت کا معنی اور مفہوم

اس حدیث میں مہر نبوت کا ذکر ہے اس سے مراد وہ چیز ہے، جو آپ کے خاتم النبین ہونے کی دلیل ہے کہ آپ کے بعد کوئی نیا نبی مبعوث نہیں ہوگا’ قاضی بیضاوی نے کہا : خاتم النبوۃ آپ کے دو کندھوں کے درمیان ایک نشان ہے کتب متقدمہ میں اس کی صفت بیان کی گئی ہے اور مہر نبوت اس بات کی علامت ہے کہ آپ وہی نبی ہیں، جس کا آسمانی کتابوں میں وعدہ کیا گیا تھا۔

مہر نبوت کے متعلق متعدد روایات

اس حدیث میں بیان ہے کہ آپ کی مہر نبوت چھپر کھٹ کی گھنڈی کی مثل تھی، اس کے متعلق اور بھی روایات ہیں:

حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت میں مہر نبوت کو دیکھا، وہ کبوتر کے انڈے کی طرح تھی ۔ ( صحیح مسلم: 2344،  الرقم المسلسل : ۵۹۷۰، سنن ترمذی : 3544،  شمائل ترمذی : ۱۷ مسند احمد ج ۵ ص ۹۰ – ۹۵ – ۹۸ – ۱۰۲ – ۱۰۷ المعجم الکبیر ۱۹۰۸ ،1918،  الکامل لابن عدی ج ۲ ص ۷۲۶)

عمر بن اخطب انصاری بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوزید! قریب آؤ! اور میری پشت پر ہاتھ پھیرو، میں نے آپ کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو میری انگلیاں مہر نبوت پر تھیں راوی نے پوچھا: مہر نبوت کیسی تھی؟ انہوں نے کہا: وہ بالوں کا گچھا تھا۔ (شمائل ترمذی: 20،  مسند احمد ج ۵ ص ۷۷ – 341، صحیح ابن حبان : ۲۰۹۶ المستد رک ج ۲ ص 606)

ابونضرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مہر نبوت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: وہ آپ کی پشت میں اُبھرا ہوا گوشت کا ٹکڑا تھا۔ (شمائل ترمذی : ۲۲ مسند احمد ج ۳ ص ۶۹)

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا،  اس وقت آپ اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے میں گھوم کر آپ کے پیچھے آ گیا’ آپ سمجھ گئے کہ میرا کیا ارادہ ہے آپ نے اپنی پشت سے چادر گرادی تو میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان ملی ہوئی انگلیوں کے مجموعہ کی طرح مہر نبوت دیکھی اس کے گرد تل تھے وہ چنے کے برابر مسے تھے۔ (صحیح مسلم : 2346،  الرقم المسلسل : ۵۹۷۳ شمائل ترمذی : ۲۳، مسند احمد ج ۵ ص ۸۳ – ۸۲)

مہر نبوت کے متعلق متعدد روایات کا حاصل

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ۵۴۴ ھ نے کہا ہے کہ مہر نبوت کی متعدد تفسیریں ہیں حضرت السائب بن یزید نے کہا: وہ چھپر کھٹ کی گھنڈی کی طرح ہے حضرت جابر بن سمرہ نے کہا : وہ کبوتر کے انڈے کی طرح ہے حضرت عمر بن اخطب نے کہا: وہ بالوں کے گچھے کی طرح ہے، حضرت ابو سعید خدری نے کہا : وہ گوشت کے ابھرے ہوئے ٹکڑے کی طرح ہے حضرت عبداللہ بن سرجس نے کہا: وہ چنے کے برابر مسوں کے مجموعہ کی طرح ہے اور ان سب کا مال ایک ہی ہے کہ وہ کبوتر کے انڈے کے برابر اُبھرا ہوا گوشت تھا۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج 7 ص 314- 313- دارالوفا، 1419ھ)

علامہ یحیی بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ ھ نے بھی قاضی عیاض کی عبارت کا خلاصہ نقل کیا ہے۔

صحیح مسلم بشرح النووی ج ۱۰ ص ۶۱۷۹ – ۶۱۷۸ مکتبه نزار مصطفی الباز مکه مکرمه 1417ھ )

مہر نبوت کی حکمت

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب میں ایمان اور حکمت کو بھر دیا گیا، جیسا کہ احادیث صحیحہ میں ہے تو اس پر مہر لگادی گئی، جیسا کہ جو برتن مشک اور موتیوں سے بھرا ہوا ہو تو اس پر مہر لگا دی جاتی ہے، تا کہ اس مہر کی وجہ سے دشمن اس برتن تک رسائی نہ حاصل کر سکے، کیونکہ جس چیز پر مہر لگا دی جائے وہ محفوظ ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کسی چیز کی حفاظت کی یہی تدبیر کی ہے اور مہر کی وجہ سے کسی چیز کے متعلق انسانوں کا شک اور جھگڑ ختم ہو جاتا ہے اور ان کو یقین ہو جاتا ہے کہ یہ وہی چیز ہے پس جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب میں مہر لگا دی تو آپ کا قلب مطمئن ہو گیا اور اس میں نور باقی رہا اور قلب کی قوت پشت میں نافذ ہوگئی پھر آپ کے کندھوں کے درمیان کبوتر کے انڈے کے برابر ابھرا ہوا گوشت ظاہر ہوگیا، اسی وجہ سے میدان حشر میں آپ کا نمایاں ظہور ہوگا اور تمام رسولوں میں سب سے پہلے آپ کو شفاعت عطا کی جائے گی اور آپ مقام محمود پر فائز ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء میں ثناء صدق کے ساتھ آپ کو مخصوص کیا ہے اور آپ کے سوا کسی اور نبی نے صدق کی ثنا نہیں کی جیسا کہ اس آیت میں ہے:

وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ ربهم . (یونس : ٢)

اور ایمان والوں کو یہ خوش خبری دیں کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس قدم صدق ہے۔

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا: قدم صدق سے مراد سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جو قیامت کے دن تمہاری شفاعت کرنے والے ہیں، اسی طرح حسن بصری، قتادہ اور زید بن اسلم نے اس آیت کی تفسیر کی ہے۔

(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۱۷ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1421ھ )

حضرت السائب بن یزید رضی اللہ عنہ کا تذکرہ اور بعض دیگر مسائل

اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت السائب بن یزید کے سر پر ہاتھ پھیرا، اس سے معلوم ہوا کہ بچے کے سر پر ہاتھ پھیرنا چاہیے۔

حضرت السائب بن یزید ۲ ھ میں پیدا ہوئے اور حجتہ الوداع میں حاضر ہوئے تھے اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے آ رہے تھے تو یہ دوسرے بچوں کے ساتھ آپ کے استقبال کے لیے ثنیۃ الوداع کی طرف نکلے تھے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۱۷)

حافظ بیہقی متوفی ۴۵۸ھ حضرت السائب بن یزید سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے مدینہ آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا، میں بھی بچوں میں آپ کے ساتھ تھا۔ (صحیح البخاری : ۳۰۸۲) حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو عورتیں، بچے اور بچیاں مل کر یہ گارہے تھے : ” طلع البدر علينا، من ثنيات الوداع،وجب الشكرعلينا، ما دعا لله داع۔

میں کہتا ہوں کہ ہمارے علماء یہ کہتے ہیں کہ جب آپ مکہ سے مدینہ آئے تھے اس وقت یہ اشعار پڑھے گئے تھے، لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب آپ غزوہ تبوک سے مدینہ پہنچے تھے ۔ (دلائل النبوۃ ج ۵ ص 266 – 265)

شیخ ابن قیم جوزی متوفی ۷۵۱ ھ نے بھی اسی طرح لکھا ہے انہوں نے مزید یہ لکھا ہے کہ جو شخص مکہ سے مدینہ آئے تو اس راستہ میں ثنیات الوداع نہیں ہے یہ مقام اس راستہ میں ہے، جب کوئی شخص شام سے مدینہ آئے ۔ (زاد المعاد ج ۳ ص ۴۶۹)

حضرت السائب نے کہا: میں نے آپ کے وضوء کے پانی سے پیا اس میں یہ دلیل ہے کہ وضوء کا مستعمل پانی پاک ہے اس سے مراد وہ پانی ہے، جو آپ کے اعضاء شریفہ سے لگ کر قطرات کی صورت میں گرا تھا۔

وضوء کے مستعمل پانی کے متعلق امام ابوحنیفہ کے قول کو حافظ ابن حجر کا رد کرنا

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

امام بخاری نے اس باب میں جو احادیث ذکر کی ہیں ان سے استدلال کر کے وہ اس شخص کے قول کا رد کرنا چاہتے ہیں، جو وضوء کے مستعمل پانی کو نجس کہتا ہے اور وہ ابو یوسف کا قول ہے امام شافعی نے ” کتاب الام” میں لکھا ہے: امام ابو یوسف اور امام محمد نے اس قول سے رجوع کر لیا اور امام ابوحنیفہ سے وضوء کے مستعمل پانی کے متعلق تین روایات ہیں: (۱) یہ طاہر ہے، مطہر نہیں ہے (۲) یہ نجاست خفیفہ کے ساتھ نجس ہے (۳) یہ نجاست غلیظہ کے ساتھ نجس ہے اور یہ احادیث امام ابوحنیفہ کا رد کرتی ہیں کیونکہ نجس چیز سے تبرک حاصل نہیں کیا جاتا اور نہ نجس چیز کو پیا جاتا ہے۔ (فتح الباری ج ۱ص۷۳۱-۷۳۰ ملخصاً دار المعرفہ بیروت 1426ھ )

حافظ بدرالدین عینی کا امام ابو حنیفہ کی طرف سے دفاع کرنا

علامہ بدرالدین محمود بن عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ حافظ عسقلانی کی اس عبارت کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

میں کہتا ہوں : اس قائل نے اس تشنیع سے امام ابوحنیفہ پر رد کا ارادہ کیا ہے،اور اس کا رد بہت بعید ہے، کیونکہ جس پانی کو حضرت السائب نے پیا تھا، ضروری نہیں ہے کہ وہ وضوء کا مستعمل پانی ہو، وہ وضوء کے برتن میں بچا ہوا پانی بھی ہو سکتا ہے اور اگر بالفرض یہ پانی وہ تھا جو آپ کے اعضاء شریفہ سے لگ کر گرا تھا تو امام ابو حنیفہ آپ کے مستعمل پانی کو نجس نہیں کہتے وہ اس سے بری ہیں، وہ آپ کے  مستعمل پانی کو نجس کیسے کہہ سکتے ہیں، وہ تو آپ کے پیشاب کو بلکہ آپ کے تمام فضلات کو طاہر کہتے ہیں اس کے باوجود ہم بتا چکے ہیں کہ یہ صحیح نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک وضوء کا مستعمل پانی نجس ہے کیونکہ فقہاء احناف کا فتویٰ اس قول پر ہے کہ وضوء کا مستعمل

پانی طاہر، غیر مطہر ہے لہذا اس معاند کا شور و شغب منقطع ہو گیا۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۱۸ دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ )

یہ دوسری جگہ ہے جہاں علامہ عینی نے یہ تصریح کی ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام فضلات طاہر میں اور سخت حیرت ہے کہ شیخ انور شاہ کشمیری اور احمد رضا بجنوری نے لکھا ہے کہ مجھے ابھی تک عینی کی یہ عبارت نہیں ملی۔

باب مذکور کی یہ حدیث شرح صحیح مسلم : 5966 – ج ۲ ص ۸۰۵ پر مذکور ہے وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی صرف دو سطروں میں مہر نبوت کی مختلف احادیث میں تطبیق دی ہے۔