٤٠ – بَابُ اسْتِعْمَالِ فَضْلِ وَضُوْءِ النَّاسِ

وضوء کے بچے ہوئے پانی کو استعمال کرنا

وضوء کے بچے ہوئے پانی سے مراد وہ پانی ہے جو وضوء کرنے کے بعد برتن میں بچ گیا ہو اور اس سے وہ پانی بھی مراد ہو سکتا ہے جو وضوء کرنے والے کے اعضاء سے ٹپک ٹپک کر قطرات کی صورت میں گر رہا ہو اور یہ وہ پانی ہے جس کو فقہاء اپنی اصطلاح میں مستعمل پانی کہتے ہیں:

امام ابوحنیفہ سے مستعمل پانی کے متعلق تین روایات ہیں:

(۱) امام ابو یوسف نے ان سے روایت کیا ہے کہ پانی نجاست خفیفہ کے ساتھ نجس ہے

(۲) حسن بن زیاد نے روایت کیا ہے کہ یہ نجاست غلیظہ کے ساتھ نجس ہے

(۳) امام محمد بن الحسن اور امام زفر نے روایت کیا ہے کہ پانی فی نفسہ طاہر ہے، مطہر نہیں ہے اور ماوراء النہر کے فقہاء محققین کا یہی مختار ہے اسیجابی نے کہا: یہی قول صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہے۔

علامہ عبد الوہاب بن احمد بن علی الشعرانی متوفی ۹۷۳ ھ لکھتے ہیں :

امام ابوحنیفہ جب وضوء کا پانی گرتے ہوئے دیکھتے تھے تو اس پانی سے جھڑنے والے ہر قسم کے گناہ دیکھتے تھے، کبائر صغائر اور مکروہات۔ اسی بناء پر مستعمل پانی کے متعلق ان کے تین قول ہیں، انہوں نے مستعمل پانی کو نجاست غلیظہ کہا کہ ہوسکتا ہے اس سے وضوء کرنے والے کے گناہ کبیرہ گرے ہوں اور نجاست خفیفہ کہا کہ ہو سکتا ہے اس سے گناہ صغیرہ گرے ہوں اور مستعمل پانی کو طاہر غیر مطہر کہا کہ ہو سکتا ہے کہ وضوء کرنے والے نے کوئی مکروہ تنزیہی یا خلاف اولی کام کیا ہو کیونکہ یہ حقیقت میں گناہ نہیں ہے اور اس کا کرنا جائز ہے ۔ (المیزان الکبری ج ۱ ص ۷۶ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۸ھ )

باب سابق کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ باب سابق وضوء کی صفت میں تھا اور یہ باب وضوء سے بچے ہوئے پانی کی صفت میں ہے۔

وَامَرَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَهْلَهُ أَنْ يَتَوَضَّؤُوا بِفَضْلِ سِواكه.

اور حضرت جریر بن عبد اللہ نے اپنے گھر والوں کو یہ حکم دیا کہ وہ مسواک کے بچے ہوئے پانی سے وضوء کریں۔

امام بخاری نے یہ حدیث کا ایک قطعہ ذکر کیا ہے پوری حدیث اس طرح ہے:

قیس بیان کرتے ہیں کہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ مسواک کرتے تھے اور اپنے گھر والوں کو حکم دیتے تھے کہ وہ مسواک کے بچے ہوئے پانی سے وضوء کریں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۸۱۷ – ج ا ص ۱۵۸ دار الکتب العلمیہ بیروت 1416ھ )

مسواک کے بچے ہوئے پانی سے مراد یہ ہے کہ مسواک کو نرم کرنے کے لیے کسی پانی کے برتن میں مسواک کو ڈال دیا جائے۔

۱۸۷ – حَدَّثَنَا ادَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةٌ قَالَ حَدَّثَنَا  الْحَكَمُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ يَقُولُ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالهَاجِرَةِ ، فاتی بِوَضُوْءٍ فَتَوَضَّاً ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَأخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضوئہ فَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهَرَ رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عنزة ( اطراف الحديث : ۳۷۲-495-499-501، 633، 3553، 5786، 5859)

( صحیح مسلم : 503،  الرقم المسلسل : ۱۱۰۳ – ۱۱۰۲ سنن نسائی: ۴۶۲ مسند ابوداؤد الطیالسی: ۱۰۴۴ حلیة الاولیاء ج ۷، ص ۱۸۹ – ۱۸۸ سنن دارمی:1409، مسند ابو یعلی : ۸۹۱ المعجم الكبير ج ۲۲ ص ۳۲۰ مسند احمد ج 4 ص ۳۰۷ طبع قدیم مسند احمد : ۱۸۷۴۴ – ج ۱ ۳ ص ۴۱ مؤسسة الرسالة بیروت)

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں آدم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں الحكم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کو نکل کر ہمارے پاس آئے، آپ کے پاس وضوء کا پانی لایا گیا، پس آپ نے وضوء کیا، لوگ آپ کے وضوء کے بچے ہوئے پانی کو لینے لگے پھر اس پانی کو اپنے اوپر ملتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعت نماز پڑھی اور عصر کی دو رکعت نماز پڑھی اور آپ کے سامنے نیزہ ( مرکوز ) تھا۔

باب کے عنوان سے مطابقت حدیث کے اس جملہ میں ہے: لوگ آپ کے وضوء کے بچے ہوئے پانی کو لینے لگے یعنی جو پانی آپ کے اعضاء سے لگ کر گرتا تھا، اس سے تبرک حاصل کرنے کے لیے اس پانی کو اپنے جسم پر ملتے تھے۔

اس حدیث کے چار رجال ہیں :

(۱) آدم بن ابی ایاس

(۲) شعبہ بن الحجاج

(۳) احکم بن عتیبہ

(۴) حضرت ابو جحیفہ وہب بن عبد اللہ الثقلی الکوفی، ان کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۱۰)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء سے بچے ہوئے پانی کی طہارت اور برکت

اس حدیث میں مذکور ہے کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء کے بچے ہوئے پانی کو لینے لگے پھر اس پانی کو اپنے اوپر ملتے ۔

علامہ یحیی بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

اس حدیث میں آثار صالحین سے تبرک حاصل کرنے کا ثبوت ہے اور ان کے وضوء ان کے طعام ان کے مشروب اور ان کے لباس کی بچی ہوئی چیزوں کو استعمال کرنے کا ثبوت ہے۔ (صحیح مسلم بشرح النووی ج ۳ ص ۱۷۳۵ مکتبه نزار مصطفی مکه مکرمه 1417ھ )

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں :

گویا کہ آپ کے وضوء سے جو پانی بچا تھا، اس کو صحابہ نے تقسیم کر لیا تھا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء سے لگ کر جو وضوء کا پانی گرا تھا، اس کو صحابہ نے حاصل کیا تھا اور اس حدیث میں وضوء کے مستعمل پانی کے طاہر ہونے کی واضح دلیل ہے۔

(فتح الباری ج ا ص 729، دار المعرفة بیروت (1426ھ )

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

اس حدیث میں وضوء کے مستعمل پانی کے طاہر ہونے پر واضح دلیل ہے اور اس پانی سے مراد وہ پانی ہے جو آپ کے اعضاء سے لگ کر گرا تھا، اور اگر اس سے مراد وہ پانی ہو جو آپ کے وضوء کے بعد برتن میں بچ گیا تھا تو اس سے مراد یہ ہے کہ صحابہ اس پانی کو به طور تبرک لے رہے تھے یہ پانی طاہر تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھ لگنے کی وجہ سے اس کی طہارت زیادہ ہو گئی تھی، نیز اس حدیث میں آثار صالحین سے تبرک حاصل کرنے کا ثبوت ہے اور یہ سفر کا واقعہ ہے سو اس میں یہ دلیل ہے کہ سفر میں چار رکعت نماز کو قصر کر کے دو رکعت پڑھا جاتا ہے اور جب صحراء میں نماز پڑھی جائے تو امام کے سامنے نیزہ کو بہ طور سترہ گاڑ دینا چاہیے۔

عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۱۱ دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ )

ملاعلی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

اس پانی سے مراد برتن میں بچا ہوا پانی بھی ہو سکتا ہے اور وہ پانی بھی مراد ہو سکتا ہے جو آپ کے اعضاء مبارکہ سے لگ کر گرا تھی

حضرت سائب بن یزید نے اس پانی کو پیا تھا۔ (صحیح البخاری :190 صحیح مسلم: 2345، سفلنن ترمذی: ۳۶۴۳)

یہ زیادہ مناسب ہے، کیونکہ حضرت سائب نے اس پانی کو تبرک کے قصد سے پیا تھا اور اس صورت میں یہ حدیث مستعمل پانی کی طہارت پر دلیل ہوگی اور اس کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ پانی انہوں نے دوا اور علاج کے طور پر پیا تھا، یعنی یہ مستعمل پانی نجس ہی تھا۔ ( یہ جواب مردود ہے کیونکہ حضور کے جسم سے لگ کر گرنے والا پانی نجس نہیں ہوسکتا۔سعیدی غفرلہ ) یا اس مستعمل پانی کا پاک ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواص میں سے ہے یا یہ ابتداء کا واقعہ ہے اور مستعمل پانی کا طاہر نہ ہونا بعد کا حکم ہے اور امام ابوحنیفہ کے مذہب کے مطابق فتویٰ اس پر ہے کہ مستعمل پانی پاک ہے اور علامہ ابن حجر مکی نے اپنی شرح میں یہ کہا ہے کہ جو پانی آپ کے اعضاء سے لگ کر بہا ہو، وہ نجس نہیں ہے اسی وجہ سے ہمارے اکثر اصحاب کا مختار یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات بھی طاہر ہیں۔

( مرقاة : ۴۷۶ – ج ۲ ص ۱۷۳ مکتبہ حقانیہ پشاور )

شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ۱۰۵۲ھ نے بھی اس حدیث کی شرح میں بعینہ یہی تقریر کی ہے نیز انہوں نے لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن سے لگنے کی وجہ سے وہ مستعمل پانی نجس نہیں ہوا حالانکہ بعض علماء نے آپ کے فضلات کو بھی پاک کہا ہے کیونکہ آپ کا وجود سر تا پا ظاہر و باطن مزکی و مطہر ہے یعنی پاک کرنے والا ہے۔ ( اشعتہ اللمعات ج ا ص ۲۶۲ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۰۲۲ – ج ا ص ۱۳۱۶ پر ہے وہاں اس کی شرح کا عنوان ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسالہ سے تبرک حاصل کرنے کا بیان ۔