کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 40 حدیث نمبر 189
۱۸۹ – حَدَّثَنَا عَلِيٌّ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ وھو الَّذِي مَج رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِی وَجْهِهِ وَهُوَ غُلَامٌ مِّنْ بِئرِهِمْ.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن عبد اللہ نے، حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی از صالح از ابن شہاب انہوں نے کہا: مجھے حضرت محمود بن الربیع رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: یہ وہی ہیں جن کے چہرے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کنویں کے پانی سے کلی کی تھی، وہ اس وقت نو عمر لڑکے تھے۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح کے لیے صحیح البخاری : ۷۷ کا مطالعہ فرمائیں۔
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی کوئی مطابقت نہیں ہے امام بخاری نے یہاں اس حدیث کو اس لیے ذکر کیا ہے کہ اس سے پہلی حدیث میں بھی آپ کے کلی فرمانے کا ذکر ہے ۔
وَقَالَ عُرْوَةُ ، عَنِ الْمِسْوَرِ وَغَيْرِهِ، يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ وَإِذَا تَوَضَّاَ النَّبِيُّ صَلَّى اللہ
اور عروہ نے کہا از مسور وغیرہ اور ان میں سے ہر ایک اپنے صاحب کی تصدیق کرتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضوء کرتے تو آپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَادُوا يَقْتَتِلُوْنَ عَلَى وَضُوْنِهِ. کے وضوء سے گرے ہوئے پانی کو لینے کے لیے صحابہ ایک دوسرے سے جھگڑتے۔
باب مذکور کی تعلیق کی حدیث متصل
یہ تعلیق ایک طویل حدیث کا قطعہ ہے اس حدیث کا اس تعلیق سے متعلق حصہ درج ذیل ہے:
پھر عروہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے اصحاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا’ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلغم تھوکتے تو وہ کسی نہ کسی شخص کے ہاتھ میں واقع ہوتا پھر وہ اس بلغم کو اپنے چہرے اور ہاتھ پر ملتا اور جب بھی آپ کسی کام کا حکم دیتے تو وہ اس کو بجالانے میں سبقت کرتے اور جب آپ وضوء کرتے تو وہ آپ کے وضوء کے گرے ہوئے پانی کو لینے کے لیے ایک دوسرے سے جھگڑتے اور جب آپ بات کرتے تو آپ کے پاس سب اپنی آوازیں پست کر دیتے اور آپ کی تعظیم کی وجہ سے وہ آپ کو نظر بھر کر نہیں دیکھتے تھے ۔ (صحیح البخاری: ۲۷۳۲-۲۷۳۱)
صلح حدیبیہ کے موقع پر عروہ بن مسعود ثقفی نے یہ واقعہ اس طرح مشرکین کے سامنے بیان کیا تھا، امام بخاری نے اس حدیث کو مسور اور مردان سے روایت کیا ہے، یہ دونوں ہجرت کے دو سال بعد پیدا ہوئے تھے اور یہ واقعہ چھ ہجری کا ہے اس وجہ سے ابوالفضل بن طاہر نے کہا ہے کہ یہ حدیث معلول ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۱۴ )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمزم کے ڈول میں کلی فرمانا
صحیح البخاری : ۴۳۲۸ میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ میں کلی کی اور حضرت ابو موسیٰ اور حضرت بلال نے اس پانی کو پیا اور صحیح البخاری : ۱۸۹ میں مذکور ہے کہ آپ نے حضرت محمود بن الربیع کے چہرے پر کلی کی ان صحابہ نے آپ کی کلی والے پانی سے تبرک حاصل کیا اور آپ نے قیامت تک کی تمام امت مسلمہ کو برکت پہنچانے کے لیے زمزم کے کنویں میں کلی کی اور اب تمام دنیا کے مسلمان زمزم کا پانی پی کر آپ کے لعاب دہن کی برکتوں سے مستفید ہو رہے ہیں:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمزم کی طرف آئے، ہم نے آپ کے لیے پانی کا ایک ڈول نکالا آپ نے اس کو پیا، پھر اس ڈول میں کلی فرمائی اور اس ڈول کو پھر زمزم کے کنویں میں ڈال دیا گیا۔ الحدیث
(مسند احمد ج ا ص ۳۷۲ طبع قدیم مسند احمد : ۳۵۶۷- ج ۵ ص ۴۶۷ مؤسسة الرسالة ألمعجم الكبير : ۱۱۱۶۵ تاریخ مکه لازرقی ج ۲ ص ۵۵ دار الاندلس بیروت حافظ زیلعی نے کہا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ نصب الرایہ ج ۳ ص ۱۰۴ دار الکتب العلمیة بیروت 1416ھ)
اس حدیث کی شرح میں شیخ ظفر احمد عثمانی دیوبندی لکھتے ہیں:
زمزم کے پانی کی برکت میں اور زیادہ برکت ہو گئی، اس کی لذت میں اور زیادہ لذت ہو گئی، اس کی شفاء میں اور زیادہ شفاء ہوگئی اس کے نور میں اور زیادہ نور ہو گیا، اس کے طہور میں اور زیادہ طہور ہو گیا کیونکہ آپ نے اس ڈول میں کلی فرمائی، پھر اس ڈول کو زمزم کے کنویں میں ڈال دیا گیا، دیکھو آپ نے اپنی امت پر کس قدر رحم فرمایا اور شفقت فرمائی کہ آپ اپنے بعد قیامت تک آنے والی امت کو اپنے پس خوردہ پانی کی برکت اور طہارت سے محروم ہونے پر راضی نہیں ہوئے، آپ پر ہمارے باپ دادا اور مائیں فدا ہوں اور اللہ کی صلوٰۃ اور سلام آپ پر ہمیشہ ہمیشہ نازل ہوتی رہے اور آپ کی تمام آل اور اصحاب اور احباب پر ۔
(اعلاء السنن ج نے ص ٬۳۲۲۵ دار الفکر بیروت ۱۴۲۱ھ )