٤١ – بَابُ مَنْ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ غَرْفَةٍ وَّاحِدَةٍ

جس نے ایک چلو پانی سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا

باب سابق اور اس باب میں مناسبت یہ ہے کہ دونوں کا تعلق وضوء سے ہے۔

۱۹۱ – حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ  قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ ، عنْ عَبْدِ اللہ بن زَيْدٍ أَنَّهُ أَفْرَغَ مِنَ الْإِنَاءِ عَلَى يَدَيْهِ فَعَسَلَهُمَا، ثُمَّ غَسَلَ أَوْ مَضْمَضَ وَاسْتَنشَقَ مِنْ كَفَةٍ وَاحِدَةٍ فَفَعَلَ ذلِكَ ثَلَاثًا فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَا أَقْبَلَ وما أَدْبَرَ وَغَسَلَ رَجُلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَينَ، ثُمَّ قَالَ هَكَذَا وضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں خالد بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عمرو بن یحیی نے حدیث بیان کی از والد خود از حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہ انہوں نے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا، پس دونوں ہاتھوں کو دھویا پھر انہوں نے ایک چلو سے دھویا یا کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پس یہ تین مرتبہ کیا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھو یا پھر دو دو مرتبہ دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا پھر سر پر مسح کیا آگے سے ہاتھ سر کے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے ہاتھ آگے لائے اور اپنے دونوں پیروں کوٹخنوں تک دھویا، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضوء اسی طرح تھا۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح کے لیے صحیح البخاری:۱۸۵ کا مطالعہ فرمائیں اور ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی تحقیق صحیح البخاری : ۱۴۰ میں مطالعہ فرمائیں۔