٤٤ – باب صَبّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوْءَهُ عَلَى الْمُغمى عَلَيْهِ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے وضوء کے پانی کو بے ہوش شخص پر ڈالنا

 

بے ہوشی، جنون اور نیند میں فرق یہ ہے کہ جنون میں عقل مسلوب ہوجاتی ہے اور بے ہوشی میں عقل مغلوب ہوجاتی ہے اور نیند میں عقل مستور ہو جاتی ہے باب سابق کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ دونوں بابوں میں وضوء کے بچے ہوئے پانی کا ذکر ہے باب سابق میں یہ بتایا تھا کہ عورت کے وضوء کے بچے ہوئے پانی سے وضوء کرنا جائز ہے اور اس باب میں یہ بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وضوء کے بچے ہوئے پانی کو بے ہوش شخص پر ڈال دیا۔

١٩٤ – حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودْنِي وانا مريضٌ لَا أَعْقِلُ ، فَتَوَضًا وَصَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئهِ فَعَقَلْتُ ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ لِمَنِ الْمِیرَاتُ إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةٌ ؟ فَنزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ.

اطراف الحدیث: ۴۵۷۷-5664 – 5676-6723 – 6743-7309-

صحیح مسلم : ۱۶۱۶ الرقم المسلسل : ۴۰۶۸ سنن ابوداؤد: 2886 سنن ترمذی: 2097،  سنن ابن ماجہ: ۲۷۲۸ سنن نسائی: ۱۳۸ ، السنن الکبری للنسائی: ۷۵۱۲ مسند ابوداؤد الطیالسی : ۱۷۰۹ سنن دارمی : ۷۳۳ صحیح ابن حبان : 1266، سنن بیہقی ج ا ص ۲۳۵ – ج ۶ ص ۲۱۲ شرح السنته : ۲۲۱۹، مسند احمد ج ۳ ص ۲۹۸ طبع قدیم مسند احمد : ۱۴۱۸۶ – ج ۲۲ ص ۹۴ مؤسسة الرسالة بیروت)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالولید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از محمد بن المنکدر انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے، میں اس وقت بیمار تھا اور مجھے ہوش نہیں تھا’ آپ نے وضوء کیا اور مجھ پر اپنے وضوء کا پانی ڈالا تو مجھے ہوش آگیا’ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میری وراثت کس کو ملے گی میرا وارث تو صرف کلالہ ہو گا ؟ پھر فرائض ( وراثت کے احکام) کی آیت نازل ہوگئی۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) ابوالولید الطیالسی ہشام بن عبد الملک

(۲) شعبہ بن الحجاج ان کا تعارف ہو چکا ہے

(۳) محمد بن المنکدر التیمی القرشی یہ مشہور تابعی ہیں، یہ علم اور زہد کے جامع تھے المنکدر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ماموں تھے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی ضرورت کا ذکر کیا تو حضرت عائشہ نے فرمایا: میرے پاس جو پہلی چیز آئے گی میں اس کو تمہارے پاس بھیجوں گی پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس دس ہزار درہم آئے، حضرت عائشہ نے وہ ان کے پاس بھیج دیئے، انہوں نے اس رقم سے ایک باندی خرید لی اس سے محمد پیدا ہوئے، جو بہت عبادت گزار اور پرسوز تھے یہ ۱۳۱ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۴) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ بعنہ ہت بڑے صحابی ہیں ۔

(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۲۹)

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: مجھے ہوش نہیں تھا، آپ نے وضوء کیا اور مجھ پر اپنے وضوء کا پانی ڈالا ۔

کلالہ اور فرائض کا معنی

اس حدیث میں کلالہ کا لفظ ہے کلالہ اس شخص کو کہتے ہیں، جس کا نہ والد ہو نہ اس کی اولاد ہو۔

اور اس حدیث میں وراثت اور فرائض کا لفظ ہے فرائض سے مراد ہے : کتاب اللہ میں وارثوں کے جو حصص مقدر ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء کے پانی سے شفاء اور برکت کا حصول

علامہ بدرالدین عینی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں کی برکت ہر بیماری کو زائل کردیتی ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۳۰ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1421ھ )

علامہ ابوالحسن ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں: اس حدیث میں صالحین کے پانی پر دم کرنے اور پانی کو ہاتھ لگانے اور اس سے ان کی برکت کی توقع کا ثبوت ہے۔ (شرح ابن بطال ج ا ص 304،  دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )

دیو بندی شارح سید احمد رضا بجنوری لکھتے ہیں:

(1) آں حضرت کے دست مبارک کی برکت سے ہر علت و مرض دور ہو جاتی تھی (۲) بزرگوں کے رقیہ، جھاڑ، پھونک وغیرہ سے بھی فائدہ اور برکت حاصل ہوسکتی ہے۔ (انوار الباری ج سے ص ۵۲۷ اداره تالیفات اشرفیہ ملتان )

شیخ تقی عثمانی لکھتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور علاج اپنے وضوء کا پانی ان پر ڈالا پہلے جو فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم آیا تھا’ وہ بطور تبرک تھا اور یہ بطور علاج ہے معلوم ہوا کہ دونوں طریقے جائز ہیں ۔ ( انعام الباری ج ۲ ص 324، مکتبة الحراء کراچی )

*

اس حدیث میں یہ دلیل بھی ہے کہ اکابر کو اصاغر کی عیادت کرنی چاہیے۔

 

باب مذکور کی یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۴۰۳۶- ج 4 ص ۴۵۷ پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں :

فرائض کا لغوی معنی

   مسلمان اور کافر کی ایک دوسرے کی وراثت میں ۔مذاہب

آثار صالحین سے تبرک حاصل کرنا

کلالہ کی تعریف ۔