کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 46 حدیث 199
٤٦ – بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ التَّوْرِ
طشت سے پانی لے کر وضوء کرنا
باب کے عنوان میں “تور” کا لفظ ہے جس کا معنی طشت ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس حدیث میں اس کا معنی لوٹا ہو ۔ باب سابق میں ٹب میں بٹھا کر غسل کرانے کا ذکر تھا اور اس باب میں طشت یا لوٹے سے وضوء کرنے کا ذکر ہے۔
۱۹۹ – حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ عَمَى يُكْثِرُ مِنَ الْوُضُوءِ ، قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بنِ زَيْدٍ أخْبِرْنِي كَيْفَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یتوضًا فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَكَفَا عَلَى يَدَيْهِ فَغسَلَهُمَا ثَلَاتٌ مِرَارٍ ، ثمَّ اَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ ادْخَلَ يَدَهُ فَاغْتَرَفَ بِهَا، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَمَسَحَ بِهِ رَأْسَهُ ، فَادْبَرَ بِهِ وَأَقْبَلَ ثمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ فَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله علیہ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّا.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں خالد بن مخلد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سلیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن یحیی نے حدیث بیان کی از والد خود، انہوں نے کہا: میرے چچا بہت وضوء کرتے تھے انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے بتائیں آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح وضوء کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ انہوں نے پانی کا ایک تسلا منگایا اور اس سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیلا پھر دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا پھر اپنا ہاتھ تسلے میں داخل کیا، پس ایک چلو سے تین بار کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا پھر اپنا ہاتھ ( تسلے میں) داخل کیا، اس سے چلو میں پانی لیا، پھر تین بار اپنے چہرے کو دھویا پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دو دو بار دھویا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لیا، پس اپنے سر کا مسح کیا، پس اپنے ہاتھ کو پیچھے لے گئے اور آگے لائے، پھر اپنے دونوں پیروں کو دھویا پھر فرمایا: اس طرح میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضوء کرتے ہوئے دیکھا۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۱۸۵ میں گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔