أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ ۞

ترجمہ:

اور اس نصیحت سے بڑا بدبخت دور رہے گا

الاعلیٰ : ١٣۔ ١١ میں فرمایا : اور اس نصیحت سے بڑا بدبخت دور رہے گا۔ جو بڑی آگ میں جائے گا۔ پھر وہ اس میں نہ مرے گا نہ جیئے گا۔

بڑی آگ کا مصداق

اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی دو قسمیں ہیں : مؤمنین اور کافرین، اور مؤمنین اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نصیحت کو قبول کرتے ہیں اور اس سے نفع حاصل کرتے ہیں، سو جو شخص آپ کی نصیحت کو مسترد کر دے، وہ کافر ہوگا اور بہت بڑا بدبخت ہوگا اور وہی بہت بڑی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔

بہت بڑی آگ کی تفسیر میں کئی قول ہیں : حسن بصری نے کہا : بہت بڑی آگ دوزخ کی آگ ہے اور چھوٹی آگ دنیا کی آگ ہے، ایک قول یہ ہے کہ جیسے گناہوں کے مختلف درجات ہوتے ہیں، سب سے بڑا گناہ شرک اکبر ہے، اس کے بعد شرک اصغر ہے، یعنی ریا کاری، اس کے بعد ماں باپ کی نافرمانی ہے، اس کے بعد قطع رحم ہے، پھر دیگر گناہ کبیرہ ہیں، اسی اعتبار سے دوزخ کے بھی مختلف درجات ہیں اور سب سے بڑا درجہ کفر اور شرک کرنے والوں کے لیے ہے، ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

اِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّا رِ ج (النسائ : ١٤٥ )

بے شک منافقین دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔

ایک سوال یہ ہے کہ اس آیت میں فرمایا ہے کہ ” اشقی “ یعنی بہت بڑا بدبخت دوزخ میں ہوگا تو جو شخص بہت بڑا بدبخت اور بہت بڑا مجرم نہ ہو، کیا وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں ” اشقی “ بہ معنی ” شقی “ ہے یعنی جو شخص کافر ہے، وہ دوزخ میں داخل ہوگا خواہ بڑا کافر ہو یا چھوٹا۔

القرآن – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 11