کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 51 حدیث 209
٥١ – بَابُ مَنْ مَضْمَضَ مِنَ السَّوِيقِ وَلَمْ يَتَوَضَّاً
جس نے ستو کھانے کے بعد کلی کی اور وضو نہیں کیا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر کسی نے ستو کھانے کے بعد صرف کلی کر لی اور وضو نہیں کیا تو یہ جائز ہے۔
۲۰۹- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلى بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النَّعْمَانِ اخبرہ أَنَّه خرج مع رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خیبر، حتی اذا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ. وَهِيَ أَدْنَى خیبر فصلی الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بالسویق، فَأَمَرَ بِهِ فَثرِی ، فَاكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ ،فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّا.
اطراف الحدیث : ۲۱۵-۲۹۸۱-۴۱۷۵-۴۱۹۵ – ۵۳۸۴۔۵۴۵۵-۵۴۵۴-۵۳۹۰
سنن نسائی:186، سنن ابن ماجہ: 492، سنن الکبری نسائی: ۱۹۱ مصنف ابن ابی شیبہ ج 1 ص 48، صحیح ابن حبان : 1155، المعجم الکبیر 6456، السنن کبری للبیہقی ج ا ص 160، شرح السنته ا۱۷ مسند الحمیدی: ۴۳۷، مسند احمد ج ۳ ص ۴۶۲ طبع قدیم مسند احمد : ۱۵۸۰۰ – ج ۲۵ ص ۹۸ مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از یحیی بن سعید از بشیر بن یسار، جو بنو حارثہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہ بےشک حضرت سويد بن النعمان رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ وہ خیبر کے سال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے جب وہ مقام صہباء پر پہنچے جو خیبر کے بہت قریب ہے تو آپ نے عصر کی نماز پڑھی، پھر آپ نے کھانے کی چیزیں منگوائیں تو صرف ستو لائے گئے، آپ نے ستو کو بھگونے کا حکم دیا سوان کو بھگویا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور ہم نے کھایا، پھر آپ مغرب کے لیے کھڑے ہوئے، پس آپ نے کلی کی اور ہم نے کلی کی پھر آپ نے نماز مغرب پڑھی اور وضوء نہیں کیا۔
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ آپ نے ستو کھانے کے بعد کلی کی، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔
اس حدیث کے پہلے تین رجال کا تعارف ہوچکا ہے چوتھے بشیر بن یسار ہیں اور پانچویں حضرت سوید بن النعمان رضی اللہ عنہ انصاری، اوسی، مدنی ہیں، بیعت رضوان کے اصحاب سے ہیں، ان سے سات احادیث مروی ہیں، امام بخاری نے یہی ایک حدیث روایت کی ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ا ص ۱۵۷)
کھانا کھانے کے بعد کلی کرنے کا استحباب ضرورت کے وقت ذخیرہ اندوزوں سے طعام نکلوانا اور دیگر مسائل
(1) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانا کھانے کے بعد کلی کرنا مستحب ہے۔
(۲) اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے عصر کی نماز کے بعد ستو کھائے اور اس کے بعد پھر آپ نے مغرب کی نماز پڑھی اس سے معلوم ہوا کہ ایک وضوء سے کئی نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں۔
(۳) اس سے معلوم ہوا کہ شرکا سفر سے کھانے کی چیزیں جمع کر کے مل کر کھانا مستحسن ہے، کیونکہ جماعت میں رحمت اور برکت ہے۔
(۴) اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ذخیرہ اندوزوں سے ضرورت کے وقت طعام نکلوانا جائز ہے۔
(۵) امام کو چاہیے کہ اہل لشکر کی ضروریات میں غور کرے اور جس کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ ہو اس کو کھانا کھلوائے ۔
[…] حدیث کی تخریج اور شرح کے لیے صحیح البخاری : ۲۰۹ کا مطالعہ فرمائیں […]