کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 52 حدیث 211
٥٢ – بَابُ هَلْ يُمَضْمِضُ مِنَ اللَّبَنِ
کیا دودھ پینے کے بعد کلی کرے
۲۱۱- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ وَقُتَيْبَةٌ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِاللہ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاس أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ وَقَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحیی بن بکیر اور قتیبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں اللیث نے حدیث بیان کی از عقیل از ابن شہاب از عبیداللہ بن عبدالله از عتبه از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر کلی کی اور فرمایا: اس کی چکنائی ہے۔
تَابَعَهُ يُونُسُ ، وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنِ الزهري . [ طرف الحديث : 5609]
یونس اور صالح بن کیسان نے عقیل کی متابعت کی ہے ازالزہری۔
(صحیح مسلم : 777،358، سنن ابوداؤد: 196، سنن نسائی : ۱۸۷ سنن ترمذی: ۸۹، سنن ابن ماجہ: ۴۹۸، صحیح ابن خزیمہ: ۴۷، مسند ابو یعلی :2418، سنن بیہقی ج ا ص 160، شرح السنة : ۱۷۰ مصنف عبد الرزاق : 649، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۵۷، صحیح ابن حبان : ۱۱۵۸ مسند احمد ج ا ص ۲۲۳ طبع قدیم مسند احمد : ۱۹۵۱ – ج ۳ ص ۴۱۹ مؤسسة الرسالة بیروت)
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر کلی کی۔
اس حدیث میں سات رجال ہیں، ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔
اس حدیث میں دودھ پینے کے بعد منہ کو صاف کرنے کی ترغیب ہے اور اس سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ ہاتھوں کو صاف کرنا بھی مستحب ہے۔