کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 54 حدیث 214
٥٤- بَابُ الْوُضُوْءِ مِنْ غَيْرِ حَدَثٍ
بغیر وضوء ٹوٹنے کے وضوء کرنا
اس عنوان سے مراد یہ ہے کہ جو شخص با وضوء ہو وہ دوبارہ وضوء کرے اور باب سابق سے اس کی مناسبت یہ ہے کہ دونوں باب احکام وضوء سے متعلق ہیں۔
٢١٤- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ انسا (ح)قَالَ وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّا عِنْدَ كُلّ صَلوةٍ،قلت كَيْفَ كُنتُمْ تَصْنَعُونَ؟ قَالَ يُجْزِى اَحَدَنَا الْوُضُوءُمالمْ يُحْدِثُ.
سنن ابوداؤد: 171، سنن ترمذی :۶۰، سنن نسائی: ۱۳۱ سنن ابن ماجه: ۵۰۹ مسند ابو یعلی : ۳۷۰۸ سنن دارمی: ۷۲۰ سنن بیہقی ج ا ص ۱۶۲ شرح السنتہ: ۰ ۲۳، مسند احمد ج ۳ ص ۱۳۲ طبع قدیم، مسند احمد: 12346 ج 19 ص 350،مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از عمرو بن عامر انہوں نے کہا: ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، ح (امام بخاری نے پھر دوسری سند کی طرف تحویل کی ) اور امام بخاری روایت کرتے ہیں اور ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی از سفیان انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن عامر نے حدیث بیان کی از حضرت انس رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت وضوء کرتے تھے میں نے پوچھا: آپ حضرات کس طرح کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے کسی ایک کو اس وقت تک وضوء کافی ہوتا تھا جب تک اس کا وضو نہ ٹوٹے۔
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: ہم میں سے کسی ایک کو وضوء اس وقت تک کافی ہوتا تھا جب تک اس کا وضوء نہ ٹوٹے۔
اس حدیث کے چند رجال ہیں ان سب کا تعارف پہلے ہوچکاہے۔
ایک وضوء سے متعدد نمازیں پڑھنے کے متعلق احادیث
ایک وضوء سے متعدد نمازیں پڑھنے کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں:
سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( پہلے ) ہر نماز کے لیے علیحدہ ضوء کرتے تھے اور جب فتح مکہ ہوئی تو آپ نے متعدد نماز میں ایک وضوء سے پڑھیں۔
سنن ترمذی : ۶۱ صحیح مسلم: 277، الرقم المسلسل : ۶۳۰ سنن ابوداؤد : ۱۷۲ سنن ابن ماجه: ۵۱۰ شرح معانی الآثار :۲۱۲)
سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن پانچ نمازیں ایک وضوء سے پڑھیں اور اپنے موزوں پر مسح کیا، حضرت عمر رضی اللہ نے آپ سے کہا: یا رسول اللہ ! آج آپ نے ایسا کیا ہے جو آپ اس سے پہلے نہیں کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا: اے عمر! میں نے یہ عمداً کیا ہے۔
( صحیح مسلم : ۲۷۷ – ۶۳۰ سنن ابوداؤد : ۱۷۲ سنن ترمذی:61، سنن نسائی: ۱۳۳ مسند احمد ج ۵ ص ۳۵۸-۳۵۱-۳۵۰ شرح معانی الآثار : ۲۱۳)
امام طحاوی نے کہا: بعض فقہاء نے ان احادیث کی بناء پر یہ کہا ہے کہ ہر نماز کے لیے وضوء کرنا واجب ہے اور اکثر علماء نے اس کے برخلاف یہ کہا ہے کہ وضوء صرف اسی وقت واجب ہے جب وضو ٹوٹ جائے (اور انسان اس عبادت کا ارادہ کرے جو بغیر وضوء کے جائز نہیں ہے۔ سعیدی غفرلہ ) اس کی دلیل یہ حدیث ہے:
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی ایک خاتون کے پاس گئے آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی تھے اس خاتون نے آپ کے سامنے ایک بھنی ہوئی بکری رکھی، آپ نے (اس سے ) کھایا اور ہم نے کھایا پھر ظہر کی نماز کا وقت آ گیا، پس آپ نے وضوء کیا اور نماز پڑھی، پھر آپ باقی کھانے کی طرف لوٹے، پس کھایا، پھر عصر کا وقت آ گیا، پس آپ نے نماز پڑھی اور وضوء نہیں کیا۔ (سنن ترمذی : ٬۸۰ شرح معانی الآثار :۲۱۵)
ہر نماز کے لیے علیحدہ وضوء کرنے کی فضیلت اور استحباب
امام ابو جعفر احمد بن محمد الطحاوی الحنفی المتوفی ۳۲۱ھ فرماتے ہیں:
اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ آپ نے ظہر اور عصر کی نمازیں اس وضوء سے پڑھیں، جو آپ نے ظہر کے وقت کیا تھا اور آپ نے ہر نماز کے لیے جو علیحدہ وضوء کیا تھا وہ بہ طور وجوب نہیں کیا تھا بلکہ بہ طور استحباب کیا تھا، اس پر یہ حدیث دلیل ہے:
ابو غطیف الہذلی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز ظہر پڑھی پھر وہ اپنے گھر کی مجلس میں چلے گئے، میں بھی آپ کے ساتھ آیا حتیٰ کہ عصر کی اذان ہوگئی انہوں نے پانی منگا کر وضوء کیا، پھر گھر سے نکلے اور میں بھی ان کے ساتھ نکلا پھر وہ اپنی مجلس میں لوٹ آئے اور میں بھی آ گیا، حتیٰ کہ مغرب کی اذان ہوگئی انہوں نے پھر پانی منگا کر وضوء کیا میں نے پوچھا: اے عبد الرحمان! یہ کیا وجہ ہے؟ کیا ہر نماز کے لیے وضوء کرنا واجب ہے؟ انہوں نے کہا: تم نے میرے عمل سے یہ سمجھا ہے ! یہ سنت نہیں ہے اگرچہ میرے لیے یہ کافی تھا کہ میں صبح کے وضوء سے تمام نمازیں پڑھوں جب تک کہ میں وضوء نہ تو ڑدوں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے وضوء کے اوپر وضوء کیا اللہ تعالی اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اس وجہ سے میں نے ہر نماز کے لیے نیا وضوء کرنے میں رغبت کی۔
(سنن ابوداؤد: ۶۲ سنن ترمذی: ۵۹ سنن ابن ماجه: ۵۱۲ شرح معانی الآثار :۲۱۶)
امام طحاوی نے کہا: پس ہو سکتا ہے کہ حضرت ابن بریدہ کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے جو وضوء کرتے تھے وہ بھی وضوء پر وضوء کرنے کی فضیلت پانے کے لیے کرتے ہوں اور اس پر دلیل یہ حدیث ہے:
ہر نماز کے لیے نیا وضوء کرنا یا صرف مسواک کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی
یحیی بن حبان، عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: آیا حضرت ابن عمر ہر نماز کے لیے وضوء کرتے تھے خواہ ان کا وضوء ہو یا نہ ہو ؟ انہوں نے کہا: مجھ سے اسماء بنت زید بن الخطاب نے بیان کیا کہ عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر نے ان کو حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے لیے وضوء کرنے کا حکم دیا گیا، خواہ وضوء ہو یا نہ ہو پھر جب آپ پر یہ امر دشوار ہوا تو پھر آپ کو ہر نماز کے لیے مسواک کرنے کا حکم دیا گیا اور حضرت ابن عمر یہ سمجھتے تھے کہ ان کو ہر نماز کے لیے وضوء کرنے کی طاقت ہے اس وجہ سے وہ ہر نماز کے لیے وضوء کرتے تھے۔ (سنن ابوداؤد : ۴۸ شرح معانی الآثار : ۲۱۸)
امام طحاوی فرماتے ہیں: اس حدیث میں یہ ثبوت ہے کہ پہلے ہر نماز کے لیے وضوء کرنے کا حکم تھا، پھر اس حکم کو منسوخ کر دیا گیا اور اب جب تک انسان وضوء نہ توڑے اس پر وضوء کرنا واجب نہیں ہے۔
اگر اس پر یہ اعتراض کیا جائے کہ پھر تم کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کو واجب کہنا چاہیے حالانکہ تم مسواک کے وجوب کے قائل نہیں ہو اس کا جواب یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہو اور امت کے لیے یہ حکم نہ ہو اور اس پر دلیل یہ حدیث ہے:
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ ( صحیح البخاری: 887، صحیح مسلم : ۲۵۲ سنن ابوداؤد : ۴۶ سنن ترمذی : ۲۲ سنن نسائی: ۵۳۰ ، سنن ابن ماجہ : 287، شرح معانی الآثار : ۲۱۹ مسند احمد ج ۱ ص ۱۲۰ – 80 ج ۲ ص ۴۳۳-۴۲۹-۴۰۰-۲۸۷،۳۹۹-۲۵۹-۲۵۰-۲۴۵ ج ۵ ص ۴۱۰ – ۱۹۳ ج ۱ ص ۴۲۹۔325، سنن بیہقی ج ا ص ۳۷ صحیح ابن خزیمہ ج ا ص ۱۷۴)
اس طرح امام طحاوی نے تحقیق سے ثابت کر دیا ہے کہ ہر نماز کے لیے نیا وضوء کرنا اب واجب نہیں ہے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ واجب تھا، اب آپ پر بھی واجب نہیں ہے، اب وضوء پر وضوء کرنا صرف مستحب اور باعث فضیلت ہے۔
( شرح معانی الآثار ج ا ص ۵۵-۵۱ ملخصا قدیمی کتب خانہ کراچی)
علامہ بدرالدین عینی اور علامہ ابن حجر عسقلانی نے بھی اپنی شرح میں امام طحاوی کی اس تحقیق کا خلاصہ ذکر کیا ہے۔
(عمدۃ القاری ج ۳ ص 169 – 167 فتح الباری ج ا ص ۷۴۶ )
ماشاءاللہ
جزاک اللہ خیرا
[…] حدیث سابق (صحیح البخاری :۲۱۶) کا ایک قطعہ […]