کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 54 حدیث 215
٢١٥- حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي بِشَيْرُ بنُ يَسَارٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُوَيْدُ بْنُ النَّعْمَانِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّی إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ ، صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ علَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَا بِالْاَطْعِمَةِ ، فَلَم یؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيْقِ، فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَغْرِبِ، فَمَضْمَضَ ، ثُمَّ صَلَّى لَنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّاً.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں خالد بن مخلد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سلیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے یحیی بن سعید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے بشیر بن سیار نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت سوید بن النعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے حتی کہ جب مقام الصباء پر پہنچے تو ہمیں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھاچکے تو آپ نے کھانے کی چیزیں منگوائیں، پس صرف ستو لائے گئے، پس ہم نے کھایا اور پیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوگئے، پس آپ نے کلی کی پھر آپ نے مغرب کی نماز پڑھائی اور وضوء نہیں کیا۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح کے لیے صحیح البخاری : ۲۰۹ کا مطالعہ فرمائیں ۔
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مناسبت یہ ہے کہ آپ نے عصر اور مغرب کی نمازیں ایک وضوء سے پڑھیں اور حدیث : ۲۰۹ سے یہ ثابت کیا تھا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضوء نہیں ٹوٹتا۔
بیشک
جزاک اللہ خیرا