اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِىۡ يَوۡمٍ ذِىۡ مَسۡغَبَةٍ – سورۃ نمبر 90 البلد آیت نمبر 14
sulemansubhani نے Saturday، 2 August 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِىۡ يَوۡمٍ ذِىۡ مَسۡغَبَةٍ ۞
ترجمہ:
یا بھوک کے دن کھانا کھلانا
البلد : ١٤ میں فرمایا : یا بھوک کے دن کھانا کھلایا۔
بھوکے مسلمان کو کھانا کھلانے کی فضلیت میں آیات اور احادیث
اس آیت میں ” مسغبۃ “ کا لفظ ہے، یہ اسم مصدر ہے، اس کا معنی ہے : بھوک، بھوکا ہونا، ” سغب “ کا معنی ہے، ایسی بھوک یا پیاس جس میں تھکان سی محسوس ہو، جیسے جب جسم میں گلو کوز کم ہونے کے وقت کیفیت ہوتی ہے۔
( القاموس المحیط ص ٩٧، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ، ١٤٢٤ ھ)
قحط، تنگ دستی اور شدید ضرورت کے وقت مال نکالنا انسان کے نفس پر سخت مشکل اور دشوار ہوتا ہے، جیسے قرآن مجید میں ہے :
وَاٰتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِی الرِّقَابِ ج (البقرہ : ١٧٧)
اور مال سے اپنی محبت کے باوجود رشتہ دراروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوالیوں اور گردن چھڑانے کے لیے مال دے۔
وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا۔ (الدھر : ٨)
اور وہ کھانے کی ضرورت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : اسلام کے کون سے حکم پر عمل کرنا سب سے افضل ہے ؟ فرمایا : تم جس شخص کو پہچانتے ہو خواہ پہچانتے ہو، اس کو کھانا کھلائو اور سلام کرو۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥١٩٤، سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٠٠٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٢٥٣ )
کھانا کھلانے میں فضلیت ہے، لیکن جب انسان خود بھوکا ہونے کے باوجود دوسرے کو کھلائے تو اس میں زیادہ فضلیت ہے۔
جبان بن ابی جمیلہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو صدقہ سب سے زیادہ سرعت کے ساتھ آسمان پر چڑھتا ہے، وہ یہ ہے کہ انسان بہت عمدہ کھانا تیار کرے اور پھر اپنے ( مسلمان) بھائیوں کو کھلائے۔
( کنز العمال ج ٦ ص ٤٢٤، رقم الحدیث : ١٦٣٦٩ )
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ کسی بھوکے پیٹ والے کو سیر ہو کر کھانا کھلانے سے زیادہ کوئی عمل افضل نہیں ہے۔
( الفردوس بما ثور الخطاب رقم الحدیث : ٦٣٤٧، کنز العمال رقم الحدیث : ١٦٣٧٠، شعب الایمان رقم الحدیث : ٣٣٦٧ )
محمد بن مکندر بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مغفرت کے موجبات سے یہ ہے کہ بھوکے مسلمان کو کھانا کھلایا جائے۔ ( شعب الایمان رقم الحدیث : ٣٣٦٤، کنز الایمان رقم الحدیث : ١٦٣٧٢، المستدرک ج ٢ ص ٥٢٤، رقم الحدیث : ٣٩٣٥)
حضرت عبد اللہ بن عمر و بن الاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے ( مسلمان) بھائی کو روٹی کھلائی حتی کہ وہ سیر ہوگیا اور اس کو پانی پلایا حتیٰ کہ وہ سیر ہوگیا، اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کی سات خندقوں سے دور کر دے گا، ہر خندق کی مسافت پانچ سو سال ہے۔ ( شعب الایمان رقم الحدیث : ٣٣٦٨، کنز العمال رقم الحدیث : ١٦٣٧٣)
حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی بھوکے مسلمان کو کھلانا کھلایا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھلوں سے کھلائے گا اور جس شخص نے کسی بےلباس مسلمان کو لباس پہنایا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا سبز لباس پہنائے گا اور جس شخص نے کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلایا، اللہ تعالیٰ اس کو رحیق ( شراب طہور) سے پلائے گا۔
( شعب الایمان رقم الحدیث : ٣٣٧٠)
حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلایا حتیٰ کہ وہ سیر ہوگیا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے دروازوں میں سے اس دروازے میں داخل کرے گا، جس میں سے صرف اس جیسے مسلمان داخل ہوں گے۔ ( المعجم الکبیرج ٢٠۔ رقم الحدیث : ١٦٢، کنز العمال رقم الحدیث : ١٦٣٧٤)
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہارے گناہ زیادہ ہوں تو پانی کے گھاٹ پر لوگوں کو پانی پلائو، تمہارے گناہ اس طرح جھڑ جائیں گے جس طرح تیز آندھی سے درخت کے پتے گرتے ہیں۔
( تاریخ بغداد ج ٦ ص ٤٠٣، کنز العمال رقم الحدیث : ١٦٣٧٧)
ابو جنید الفہری اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کسی پیاسے کو پانی پلا کر اس کو سیر کردیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دے گا اور اس سے کہا جائے گا اس دروازے سے داخل ہو اور جس نے کسی بھوکے کو کھانا کھلا کر اس کو سیر کردیا، اس کے لیے جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا : جس دروازے سے چاہو داخل ہو جائو۔
( المعجم الکبیر ج ٢٢۔ رقم الحدیث : ٩٣٩، کنز العمال رقم الحدیث : ١٦٣٨٢، اس حدیث کی سند ضعیف ہے)
القرآن – سورۃ نمبر 90 البلد آیت نمبر 14