٥٨ – بَابُ صَبّ الْمَاءِ عَلَى الْبَوْلِ فِي الْمَسْجِدِ

مسجد میں پیشاب پر پانی بہانا

یعنی اس باب میں یہ حکم بیان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھی مسجد میں پیشاب کر دے تو اس پر پانی بہانے کا کیا حکم ہے؟ اس سے پہلے باب میں خصوصا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے متعلق یہ حکم تھا اور اس باب میں عام مساجد میں سے کسی مسجد کے متعلق یہ حکم ہے۔

۲۲۰ – حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَن الزُّهْرِي قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بنِ مَسْعُودٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ أَعْرَابِی فَبَالَ فِی الْمَسْجِدِ ، فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَهُ ، وَهَرِيقُوا عَلَى بَوَلِهِ سَجُلاً مِّن مَّاءٍ أَوْ ذَنُوبًا مِنْ مَّاءٍ ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِرِينَ ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِرِينَ. [ طرف الحديث : 6128]

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الز ہری انہوں نے کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا : ایک اعرابی کھڑا ہوا، پھر اس نے مسجد میں پیشاب کردیا، پس لوگ اس کو ڈانٹنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے فرمایا: اس کو چھوڑدو اور اس کے پیشاب کے اوپر ایک ڈول ڈال دو یا فرمایا: ایک پانی کا ڈول ڈال دو کیونکہ تم آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے اور مشکل میں ڈالنے کے لیے نہیں بھیجے گئے۔

(سنن ابوداؤد : 380، سنن ترمذی: ۱۴۷ سنن ابن ماجہ :۵۳۰، سنن نسائی: ۵۶ مسند الحمیدی: 938،  المنتقی : ۱۴۱ مسند ابو یعلی :۵۸۷۶، صحیح ابن خزیمہ: 298، سنن بیہقی ج ۲ ص ۲۴۸ شرح السنتہ : ۲۹۱ مسند احمد ج ۲ ص ۲۳۹ طبع قدیم مسند احمد : ۷۲۵۵ – ج 12 ص ۱۹۷ مؤسسة الرسامة بیروت)

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملے میں ہے: اس کے پیشاب کے اوپر پانی کا ایک ڈول ڈال دو۔

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں اور ان سب کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔

حدیث مذکور کا مکمل متن

اس حدیث کا مکمل متن ” سنن ابوداؤد ” اور ” سنن ترمذی “ میں ہے:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اس اعرابی نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر یہ دعا کی : اے اللہ! مجھ پر رحم فرما اور ( سیدنا) محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور ہمارے ساتھ اور کسی پر رحم نہ فرما تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے وسیع چیز کو محدود کر دیا، پھر تھوڑی دیر بعد اس اعرابی نے مسجد کے ایک گوشہ میں پیشاب کردیا، لوگ اس کو منع کرنے کے لیے اس کی طرف جھپٹے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کیا اور فرمایا: تم آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو اور مشکل میں ڈالنے کے لیے نہیں بھیجے گئے اس کے اوپر ایک ڈول ڈال دو یا فرمایا: پانی کا ایک ڈول ڈال دو۔

اس اعتراض کا جواب کہ مبعوث تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے پھر صحابہ کو کیوں مبعوث قرار دیا؟

اس حدیث میں صحابہ سے فرمایا ہے : تم آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو اور مشکل میں ڈالنے کے لیے نہیں بھیجے گئے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اور صحابہ کو نہیں بھیجا تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرنے والے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور آپ کی سیرت پر عمل کرنے والے تھے تو مجازا ان کو بھی فرمایا کہ تم آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو کیونکہ صحابہ تبلیغ کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام تھے یا اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو تبلیغ کرنے کا حکم دیتے تھے اور ان کو تبلیغ کرنے کے لیے بھیجتے تھے گویا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے تھے اور صحابہ کرام،  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔

آسان احکام پر فتویٰ دینا چاہیے

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علماء دین اور مفتیان کرام کو دین کے آسان احکام بیان کرنے چاہئیں اور مشکل احکام نہیں بیان کرنے چاہئیں، مثلا جب یہ کہا جائے گا کہ ایلو پیتھک دواؤں سے علاج کرنا اور ضرورت کے وقت ایک آدمی کا خون دوسرے آدمی میں منتقل کرنا جائز نہیں ہے تو یہ لوگوں کو مشکل میں ڈالنا ہے اس لیے اپنے زمانہ کے حالات اور عرف پر نظر رکھنی چاہیے اور آسان احکام بیان کرنے چاہئیں ۔

اس حدیث کے دیگر فوائد اور مسائل ہم صحیح البخاری: ۲۱۹ میں بیان کر چکے ہیں۔