٦٣ – بَابُ غَسْلِ الدَّمِ

خون کو دھونا

اس باب کی باب سابق کے ساتھ یہ مناسبت ہے کہ باب سابق میں پیشاب کو دھونے کا بیان تھا اور اس باب میں خون کو دھونے کا ذکر ہے اور خون اور پیشاب دونوں نجس ہیں اور ان دونوں ابواب میں نجاست کو دھونے کا ذکر ہے۔

۲۲۷ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثنى قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى  عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةٌ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا تَحِيضُ فِي التَّوْبِ ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟قَالَ تَحْتُهُ ثُمَّ تَقَرُصُهُ بِالْمَاءِ ، وَتَنْضَحُهُ ، وَتُصَلّى فِيهِ۔

طرف الحدیث: ۳۰۷]

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن المثنی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی از ہشام انہوں نے کہا: مجھے فاطمہ نے حدیث بیان کی از حضرت اسماء رضی اللہ عنہا انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اس نے کہا: یہ بتائیے کہ ہم میں سے کوئی عورت اپنے کپڑوں میں حیض کا خون دیکھتی ہے وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: اس خون کو کھرچ دے، پھر اس کو پانی سے ملے پھر اس کو دھوئے، پھر ان کپڑوں میں نماز پڑھے۔

(صحیح مسلم:291،  الرقم المسلسل :۶۶۱ ، سنن ابوداؤد: ۳۶۲-۳۶۱، سنن ترمذی: ۱۳۸ سنن نسائی: 292،  سنن ابن ماجہ :۶۲۹، صحیح ابن خزیمہ: 275،المعجم الكبير : ۲۹۰ ج 24 سنن بیہقی ج ۲ ص 406،  مسند احمد ج 6 ص ۳۴۶ طبع قدیم مسند احمد :۲۶۹۳۲ – ج ۴۴ ص 499،  مؤسسة الرسالة بیروت)

 

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں اور ان سب کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے : پھر اس کپڑے کو دھوئے۔

حت، قرص‘ اور نضح‘ کا معنی

اس حدیث میں تحتہ “ کا لفظ ہے حت“ کا معنی ہے: درخت سے پتے جھاڑنا اور یہاں مراد ہے : خشک خون کو کھرچ کر

صاف کرنا اور تقرصه بالماء “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: پانی سے مل مل کر صاف کرنا۔

اور اس میں ” تنضحہ “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: دھونا، شیر خوار لڑکے کے پیشاب آلودہ کپڑوں کو صاف کرنے کے لیے بھی

حدیث میں ینضح “ کا لفظ ہے۔ فقہاء شافعیہ وہاں اس کا معنی پانی چھڑکنا کرتے ہیں اور ہم اس کا معنی پانی سے دھونا کرتے ہیں اور یہاں پر شوافع نے بھی ” تنضحہ“ کا معنی پانی سے دھونا کیا ہے اس لیے وہاں بھی اس کا معنی پانی سے دھونا کرنا چاہیے۔

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

علامہ خطابی مالکی نے کہا ہے : ” تنضحہ “ کا معنی ہے: اس کو دھوئے اور علامہ قرطبی مالکی نے کہا ہے: اس پر پانی چھڑکے علامہ عسقلانی فرماتے ہیں:

میں کہتا ہوں کہ اگر وہ کپڑا پاک ہے تو پانی چھڑکنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور اگر وہ کپڑا نجس ہے تو پانی چھڑکنے سے وہ پاک نہیں ہوگا اس لیے علامہ خطابی نے جو اس کا معنی دھونا کیا ہے وہ زیادہ اچھا ہے۔ (فتح الباری ج ا ص ۷۵۸ دار المعرفہ بیروت 1426ھ )

ہر مائع چیز سے نجاست کے ازالہ پر دلیل

علامہ خطابی نے کہا ہے: اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ نجاست صرف پانی سے زائل ہوتی ہے اور دیگر مائعات سے زائل نہیں ہوتی اور امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف یہ کہتے ہیں کہ ہر مائع طاہر سے نجاست زائل ہوجاتی ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے:

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ہم میں سے کسی ایک کے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جس میں اسے حیض آجا تا تھا، پس اگر اس کپڑے پر خون لگ جاتا تو وہ اس خون کو اپنے تھوک سے بھگوتی ، پھر اس کو اپنے تھوک سے رگڑ کر صاف کرتی ۔ (سنن ابوداؤد : ۱۵۸)

حافظ ابن حجر لکھتے ہیں : اگر تھوک خون کو زائل کرکے کپڑے کو پاک نہ کرتا تو تھوک لگانے سے نجاست اور زیادہ ہوجاتی اور تھوک پانی کا غیر ہے، اس سے ثابت ہوا کہ ہر مائع چیز سے نجاست زائل ہوجاتی ہے پھر حافظ ابن حجر لکھتے ہیں : اس کا جواب یہ ہے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ بعد میں پانی سے دھولیتی ہوں۔ (فتح الباری ج اص ۷۵۹ – ۷۵۸ دار المعرفة بیروت 1426ھ)

میں کہتا ہوں : اس حدیث میں بعد میں پانی سے دھونے کا ذکر نہیں ہے لہذا فقہاء احناف کا اس حدیث سے استدلال درست ہے اور حافظ ابن حجر کا حدیث میں احتمال نکال کر جواب دینا باطل اور مردود ہے۔

قلیل نجاست کی مقدار میں مذاہب فقہاء

علامہ ابوالحسن علی بن خلف بن عبد المالک ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :

نجاسات کو زائل کرنے میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث اصل ہے۔

اس حدیث میں” النضح ” کا لفظ ہے اور کلام عرب میں اس سے مراد دھونا ہوتا ہے اور اس پر دلیل کہ اس حدیث میں اس سے مراد دھونا ہے، وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم اپنے آپ سے خون کو دھوؤ اور نماز پڑھو اور علماء کے نزدیک یہ حدیث کثیر خون پر محمول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خون کے نجس ہونے میں یہ شرط عائد کی ہے کہ وہ بہا ہوا خون ہو اور وہ کثیر جاری خون سے کنایہ ہے، مگر خون کی جو مقدار معاف ہوتی ہے اس میں اختلاف ہے۔ فقہاء احناف نے یہ کہا ہے کہ خون اور باقی نجاسات میں درہم کی مقدار قلیل نجاست ہے اور درہم سے زیادہ مقدار کثیر نجاست ہے انہوں نے اس کا قیاس اس پر کیا ہے کہ جب پاخانہ کرنے کے بعد پتھر سے استنجاء کیا جائے تو مقعد کی کروٹوں اور اطراف میں ایک درہم کے برابر نجاست لگی رہتی ہے اور اتنی مقدار معاف ہوتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ایک درہم کی مقدار نجاست قلیل ہے اور اس سے زیادہ کثیر ہے۔

امام مالک نے کہا: قلیل خون معاف ہے اور باقی نجاسات کی قلیل مقدار کو دھویا جائے گا اور ابن وہب نے ان سے روایت کیا ہے کہ حیض کا قلیل خون بھی کثیر خون کی طرح ہے اور امام شافعی کے نزدیک تھوڑا خون بھی دھویا جائے گا مگر پسو کا خون معاف ہے کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں ہے۔

امام مالک نے جو کہا ہے کہ حیض کا قلیل خون بھی کثیر کی طرح ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء سے حیض کے خون کے متعلق فرمایا : اس کو کھرچو پھر اس کو پانی سے ملو اور آپ نے قلیل خون اور کثیر میں فرق نہیں کیا اور نہ آپ نے حیض کے خون کی مقدار کے متعلق کوئی سوال کیا اور آپ نے حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش سے فرمایا: تم اپنے خون کو دھوؤ اور نماز پڑھو اور اس حکم میں آپ نے درہم کی مقدار خون یا اس سے کم یا زیادہ کا فرق نہیں کیا۔

امام مالک کی جو دوسری روایت ہے کہ حیض کا قلیل خون معاف ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ قلیل خون کا معاف ہونا ضرورت کی وجہ سے ہے کیونکہ انسان کا غالب حال یہ ہے کہ اس کو پھنسی اور زخم ہوتا ہے اور اس پر پسو اور مچھر کا خون لگ جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بہنے والے خون کو حرام کر دیا’ اس سے معلوم ہوا کہ جو خون بہنے والا نہ ہو وہ معاف ہے اور تمام نجاستوں میں صرف بہنے والے خون کا استثناء کیا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر اللہ تعالی قلیل خون کو بھی حرام کر دیتا تو لوگ خون کو گوشت کی رگوں سے بھی تلاش کرکے نکالتے، لیکن ہم گوشت کو پکاتے ہیں اور ہنڈیا کے اوپر پیلا ہٹ ہوتی ہے اور انسان کا غالب حال یہ نہیں ہے کہ اس کے کپڑوں اور بدن پر پاخانہ یا پیشاب لگا ہو کیونکہ اس سے بچنا ممکن ہے،  اس لیے صرف خون کی قلیل مقدار معاف ہے اور باقی نجاستوں کی قلیل مقدار معاف نہیں ہے۔ (شرح ابن بطال ج اص ۳۴۶- 345 دار الکتب اعلامیه بیروت 1424ھ)

فقہاء احناف کے نزدیک قلیل نجاست کی مقدار

فقہاء احناف کے نزدیک باقی نجاستوں میں بھی قلیل مقدار معاف ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ پاخانہ کرنے کے بعد پتھر سے استنجاء کرنے کو کافی قرار دیا گیا ہے اور اس کے بعد پانی سے دھونے کو فرض یا واجب قرار نہیں دیا گیا، حالانکہ پتھر سے استنجاء کرنے کے بعد مکمل صفائی نہیں ہوتی اور تھوڑی سی نجاست لگی رہتی ہے۔

علامہ بدرالدین محمود بن احمد معینی حنفی لکھتے ہیں :

ہمارے فقہاء نے قلیل نجاست کی مقدار ایک درہم مقرر کی ہے کیونکہ صاحب الاسرار نے حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نجاست کی مقدار ایک درہم مقرر کی ہے اور ان کی اقتداء کرنا ہمارے لیے کافی حجت ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: انہوں نے نجاست کو ایک ناخن کے برابر مقرر کیا ہے اور “المحیط” میں مذکور ہے : ان کا ناخن ہماری ہتھیلی کے برابر ہے، پس یہ اس پر دلیل ہے کہ ایک درہم سے کم نجاست نماز سے مانع نہیں ہے اور” محیط” میں یہ بھی مذکور ہے کہ درہم کبیر ہتھیلی کی چوڑائی کی مثل ہے اور ” صلاۃ الاصل” میں مذکور ہے کہ درہم کبیر ایک مثقال تک پہنچتا ہے اور علامہ سرخسی کے نزدیک ان کے زمانہ کا درہم معتبر ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۱۱ – ۲۱۰ دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۱۵ھ )

قلیل نجاست کا معیار آیا درہم کی چوڑائی ہے یا اس کا وزن؟

علامہ برہان الدین محمود بن صدر الشریعہ ابن مازہ البخاری الحنفی المتوفی ۶۱۶ ھ لکھتے ہیں:

 یہ معلوم کرنا واجب ہے کہ ہمارے نزدیک نجاست کی قلیل مقدار معاف ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ  سے جب کپڑے میں قلیل نجاست کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: جب میرے اس ناخن کی مقدار کے برابر نجاست ہو تو وہ جواز صلوۃ سے مانع نہیں ہے کیونکہ قلیل نجاست سے بچنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ مکھی نجاستوں پر بیٹھتی ہے پھر وہ نمازی کے کپڑوں پر بیٹھتی ہے اور اس کے پروں اور پیروں میں نجاست ضرور ہوتی ہے اس لیے عموم بلوی کی وجہ سے قلیل نجاست کو معاف کردیا گیا اور صحیح آثار سے ثابت ہے کہ اکثر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پتھروں سے استنجاء کو کافی سمجھتے تھے اور پتھر اصل نجاست کو زائل نہیں کرتا اور اگر قلیل نجاست معاف نہ ہوتی تو وہ پتھروں سے استنجاء کو کافی قرار نہ دیتے۔

 پھر نجاست کی دو قسمیں ہیں: غلیظہ اور خفیفہ سونجاست غلیظہ جب درہم کی مقدار کے برابر ہو یا اس سے کم ہو تو جواز صلوۃ سے مانع نہیں ہے اور اگر ایک درہم کی مقدار سے زیادہ ہو تو پھر جواز صلوۃ سے مانع ہے اور اعتبار درہم کبیر کا ہے درہم صغیر کا اعتبار نہیں ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ نے ” الجامع الصغیر” میں لکھا ہے: درہم کبیر دراہم میں بڑا ہوتا ہے اور انہوں نے یہ بیان نہیں کیا کہ درہم کبیر کی چوڑائی کا اعتبار ہے یا اس کے وزن کا۔

دوسرے مقام پر امام محمد نے فرمایا: درہم کبیر وہ ہے جو ہتھیلی کی چوڑائی کے برابر ہو، جیسے الدرہم اشبلیلی اور کتاب الصلوۃ میں انہوں نے ذکر کیا کہ درہم کبیر کے وزن کا اعتبار ہے۔

امام ابو جعفر رحمہ اللہ نے امام محمد کے ان الفاظ میں تطبیق دی ہے انہوں نے کہا: امام محمد نے جہاں درہم کی چوڑائی کا اعتبار کیا ہے اس سے نجاست رقیقہ کی مقدار مراد ہے اور جہاں انہوں نے درہم کے وزن کا اعتبار کیا ہے اس سے ان کی مراد نجاست غلیظہ کی مقدار ہے اور یہی صحیح مذہب ہے کہ نجاست رقیقہ میں درہم کی چوڑائی قلیل نجاست ہے اور نجاست غلیظہ میں درہم کا وزن قلیل نجاست ہے اور درہم کا اعتبار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ناخن کے برابر نجاست کو قلیل نجاست قرار دیا اور ان کا ناخن درہم کبیر کی مقدار کے برابر تھا اور حدث (وضو توڑنے ) کی جگہ کا اعتبار ہے کیونکہ شریعت نے نجاست کی اس مقدار کو معاف کر دیا ہے جو وضوء توڑنے کی جگہ ( مقعد ) میں لگی ہوتی ہے کیونکہ پتھر سے استنجاء کرنے کے بعد طہارت کا حکم لگایا جاتا ہے اور پتھر نجاست کو زائل کرتا ہے، اس کے اثر کو زائل نہیں کرتا، یہ اس کی دلیل ہے کہ موضع حدث ( مقعد ) میں جو نجاست لگی ہوتی ہے، شریعت نے اس کو معاف کردیا اور موضع حدث ( مقعد ) درہم کبیر کی مقدار کے برابر ہے، لیکن انہوں نے موضع حدث ( وضو، توڑنے کی جگہ یعنی مقعد ) کے ذکر کو قبیح جانا پس انہوں نے اس کا دریم سے کنایہ کیا، اسی طرح ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے کہا ہے۔(المحیط البرہانی ج ۱ص ۳۷۲-371 ادارۃ القرآن’ کراچی 1424ھ )

باب مذکور کی حدیث کے دیگر مسائل

اس حدیث سے جو دیگر مسائل معلوم ہوئے وہ یہ ہیں:

(۱) خون بالا جماع نجس ہے

(۲) نجاست کو زائل کرنے میں عدد شرط نہیں بلکہ صفائی شرط ہے

(۳) عورت اپنے کپڑوں میں جب خون لگا ہوا دیکھے تو اس کو پانی سے دھوکر صاف کرے پھر ان کپڑوں سے نماز پڑھ سکتی ہے۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۸۳ – ج ۱ ص ۹۷۷ پر مذکور ہے اس کی شرح کا عنوان ہے:

نجاست کو زائل کرنے کے متعلق ائمہ مذاہب کی آراء۔