٦٦ – بَابُ ابْوَالِ الْإِبِلِ وَالدَّوَاب وَالْغَنَمِ وَمَرَابِضِها

 اونٹوں، چوپایوں اور بکریوں کے پیشاب کا حکم اور ان کے باڑوں کا حکم

اس سے پہلے باب میں منی کا حکم بیان کیا تھا اور وہ نجس ہے اور اس باب میں ان جانوروں کے پیشاب کا حکم بیان کیا ہے اور وہ بھی نجس ہیں۔ امام بخاری فرماتے ہیں:

وَصَلَّى أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي دَارِ الْبَرِيدِ وَالسِّرْقِينِ، وَالبَرِيَّةُ إِلى جَنْبِهِ ، فَقَالَ هَا هُنَا وَ ثَمَّ سواء.

اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے دار البرید میں اور گوبر میں نماز پڑھی اور صحراء ان کے پہلو میں تھا، پس انہوں نے کہا: وہاں اور یہاں نماز پڑھنا برابر ہے۔

امام بخاری نے جو تعلیق ذکر کی، وہ ایک مکمل حدیث کا قطعہ ہے، علامہ عینی نے امام ابن ابی شیبہ کے حوالہ سے

مکمل حدیث اس طرح ذکر کی ہے:

امام بخاری کی تعلیق مذکور کی اصل اور اس تعلیق میں مذکور مشکل الفاظ کے معانی

وکیع بیان کرتے ہیں : ہمیں الاعمش نے حدیث بیان کی از مالک بن الحارث از والد خود انہوں نے بیان کیا: ہم حضرت ابوموسیٰ کے ساتھ دار البرید میں تھے تو نماز کا وقت آ گیا ، پس حضرت ابو موسیٰ نے ہمیں گوبر اور بھوسے پر نماز پڑھائی ہم نے کہا: ہم یہاں نماز نہیں پڑھتے جب کہ صحراء آپ کے پہلو میں ہے تو انہوں نے کہا: صحراء میں اور یہاں نماز پڑھنا برابر ہے۔(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۲۴)

مصنف ابن ابی شیبہ” میں مذکور الصدر حدیث ہمیں نہیں ملی البتہ اس کے بجائے یہ حدیث ہے:

محمد بن عبید از الاعمش از مالک بن الحارث از والد خود، انہوں نے بیان کیا : ہم حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ عین التمر کے دار البرید میں تھے، پس انہوں نے اذان اور اقامت کہی ہم نے ان سے کہا: آپ صحراء کی طرف کیسے نکلیں گئے انہوں نے کہا: یہاں اور وہاں برابر ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۲۲۶۸ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۶ ھ مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص ۲۱۸ ادارۃ القرآن’ کراچی ۱۴۰۶ھ )

” ” مصنف ابن ابی شیبہ” کے ان مطبوعہ نسخوں میں گوبر اور بھوسے کا ذکر نہیں ہے، ضرور امام بخاری اور علامہ عینی کے پاس “مصنف ابن ابی شیبہ” کا کوئی ایسا نسخہ ہوگا، جس میں گوبر اور بھوسے کا ذکر ہوگا۔

اس حدیث میں دار البرید کا ذکر ہے دار البرید اس حویلی کو کہتے ہیں : جہاں سلطان کی ڈاک لانے والے ٹھہرتے ہیں، یہاں اس سے مراد وہ حویلی ہے جہاں خلفاء کے خطوط امراء کی طرف لے جانے والے ٹھہرتے تھے اور حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کوفہ کے امیر تھے اور یہ حویلی صحراء کی ایک طرف میں تھی، اسی وجہ سے صحراء اس کے پہلو میں تھا۔

اس حدیث میں سرقین کا لفظ ہے اس کا معنی ہے گوبر ۔

تعلیق مذکور سے امام بخاری کا مقصود

علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :

اس تعلیق سے امام بخاری کا مقصد اہل ظاہر (غیر مقلدین) کی موافقت میں گوبر کو پاک قرار دینا ہے کیونکہ حضرت ابو موسیٰ نے گوبر کے اوپر نماز پڑھی اور جن چوپایوں کا گوشت نہیں کھایا جاتا، ان کو اونٹوں کے پیشاب کے اوپر قیاس کیا کیونکہ اس باب کی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اونٹنیوں کے پیشاب پینے کا حکم دیا لہذا ان کا پیشاب پاک ہوا تو امام بخاری نے ان کے اوپر باقی چوپایوں کے گوبر کر بھی قیاس کر لیا اور اس کو پاک قرار دیا، اسی وجہ سے امام بخاری نے کہا : حضرت ابو موسیٰ نے دار البرید میں گوبر کے اوپر نماز پڑھی تاکہ یہ حدیث اس پر دلالت کرے کہ تمام چوپایوں کا گوبر اور پیشاب پاک ہے، لیکن امام بخاری کا اس حدیث سے استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے حضرت ابو موسیٰ نے گوبر کے اوپر کپڑا بچھا کر نماز پڑھی ہو یا دار البرید میں کسی صاف جگہ پر نماز پڑھی ہو جہاں گوبر نہ ہو ۔ ( شرح ابن بطال ج ۱ ص 356 دار الکتب العلمیة بیروت)

حافظ ابن حجر کا کپڑے یا چٹائی پر نماز پڑھنے کو بدعت قرار دینا اور مصنف کے نزدیک اس کا سنت ثابتہ ہونا

حافظ ابن حجر عسقلانی، علامہ ابن بطال پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اصل یہ ہے کہ کپڑا بچھائے بغیر نماز پڑھی جائے، سفیان ثوری نے اعمش کی سند سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ ہمیں ابوموسیٰ نے گوبر کی جگہ میں نماز پڑھائی ۔ اس حدیث کا ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے گوبر کے اوپر بغیر کسی حائل کے نماز پڑھائی اور سعید بن منصور نے سعید بن المسیب وغیرہ سے روایت کیا ہے کہ ” الطنفسة ” ( چٹائی یا کپڑے) پر نماز پڑھنا بدعت ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

(فتح الباری خاص ۷۶۳ دار المعرفہ بیروت ۱۴۲۶ھ )

میں کہتا ہوں کہ حافظ ابن حجر کا یہ کہنا غلط ہے کہ اصل یہ ہے کہ کپڑا بچھائے بغیر نماز پڑھی جائے’ بلکہ اصل یہ ہے کہ کپڑا بچھا کر نماز پڑھی جائے اور سعید بن المسیب کا اس کو بدعت کہنا باطل ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، بہ کثرت صحابہ اور فقہاء تابعین چٹائی یا کپڑا بچھا کر اس پر نماز پڑھتے تھے، امام بخاری نے ایک باب قائم کیا ہے : چٹائی پر نماز، سو چٹائی پر نماز پڑھنا بدعت کیسے ہوگا !

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی دادی ملیکہ نے کھانا تیار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی،  آپ نے اس سے کھایا پھر فرمایا : کھڑے ہوجاؤ، میں تم کو نماز پڑھاتا ہوں، حضرت انس کہتے ہیں کہ پھر میں ایک چٹائی کی طرف کھڑا ہوا جو زیادہ استعمال سے میلی ہوگئی تھی میں نے اس کو پانی سے دھویا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس چٹائی پر کھڑے ہوئے،  میں اور یتیم اس چٹائی پر، آپ کے پیچھے صف میں کھڑے ہوئے اور بڑھیا ہمارے پیچھے تھی پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر تشریف لے گئے ۔

(صحیح البخاری : ۳۸۰ – 860 صحیح مسلم: ۷۹۷ ، سنن ابو داود : 612، سنن ترمذی : ۲۳۴ مسند احمد ج ۳ ص ۱۳۱ )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کپڑے کے اوپر نماز پڑھتے تھے۔

( مصنف ابن ابی شیبہ : ۴۰۲۰ دار الكتب العلميه )

حضرت میمونہ، حضرت ابو سعید، حضرت ام سلیم، حضرت عائشہ، حضرت انس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑےیا چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۴۰۲۵-4024- ۴۰۲۳-۴۰۲۲-۴۰۲۱) اور صحابہ کرام میں سے حضرت ابن عمر، حضرت جابر بن عبد اللہ، حضرت ابوذر، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کپڑے یا چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔

(مصنف ابن ابی شیبه : ۴۰۳۲ – 4030 – 4027-۴۰۲۶ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1416ھ)

حضرت ابن عباس، عمر بن عبد العزیز ،حضرت علی، حضرت ابو الدرداء اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم ٹاٹ پر نماز پڑھتے تھے۔

مصنف ابن ابی شیبه : ۴۰۴۱-4039-4038-4036-۴۰۳۵)

حضرت انس اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر پر نماز پڑھی۔ (مصنف : 4043 – ۴۰۴۲)

حضرت ابوالدرداء نے کہا: اگر میں چھ طنفسہ (چادر، کپڑا یا چٹائی) اوپر تلے رکھ کر بھی نماز پڑھوں تو پرواہ نہیں۔ (مصنف : 4044)

حضرت ابن عباس، ابوائل اور حسن بصری نے طنفسہ پر نماز پڑھی۔ (مصنف : 4049-۴۰۴۵:4046) ان کے علاوہ اور بہت زیادہ آثار ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور فقہاء تابعین گھروں اور مسجدوں میں کپڑا یا چٹائی بچھا کر نماز پڑھتے تھے تو کون مانے گا کہ حضرت ابوموسیٰ ایسے عظیم صحابی دار البرید میں گوبر کے اوپر کوئی کپڑا یا چٹائی بچھائے بغیر نماز پڑھیں گے اور ان احادیث اور آثار کے ہوتے ہوئے حافظ ابن حجر کی اس نقل کو کون تسلیم کرے گا کہ کپڑے یا چٹائی پر نماز پڑھنا بدعت ہے۔

جانوروں کے پیشاب اور گوبر کی طہارت اور نجاست میں مذاہب فقہاء

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :

جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کے پیشاب کی طہارت میں علماء کا اختلاف ہے:

عطا، نخعی،  زہری، ابن سیرین، حکم اور شعبی کا مذہب یہ ہے کہ ان کا پیشاب طاہر ہے، امام مالک، ثوری، محمد بن الحسن، زفر، حسن بن صالح، امام احمد اور اسحاق کا یہی مذہب ہے اور امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام شافعی اور ابوثور کا یہ مذہب ہے کہ تمام قسم کے پیشاب نجس ہیں۔

امام مالک اور امام احمد وغیرہ کی دلیل یہ ہے کہ حضرت انس کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینیین کے لیے اونٹنیوں کے پیشاب اور ان کے دودھ کو پینا جائز قرار دیا تھا، اگر اونٹوں کا پیشاب نجس ہوتا تو آپ انہیں اس کے پینے کی اجازت نہ دیتے، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ آپ نے اونٹوں کے پیشاب پینے کی عام اجازت نہیں دی تھی، بلکہ صرف عرینیین کو ان کے خاص مرض کی وجہ سے اجازت دی تھی اور آپ کو وحی کے ذریعہ معلوم تھا کہ ان کا علاج اسی طرح ہو سکتا ہے۔

ابن علیہ اور اہل ظاہر ( غیر مقلدین) کا مذہب یہ ہے کہ انسان کے علاوہ ہر حیوان کا پیشاب پاک ہے اور تمام فقہاء نے ان کی مخالفت کی ہے ۔ امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد اور امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ تمام گوبر نجس ہیں، امام مالک، ثوری اور زفر کا مذہب یہ ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا گوبر ان کے پیشاب کی طرح پاک ہے۔

( شرح ابن بطال ج ۱ ص 356 دار الکتب العلمیہ بیروت 1424ھ )

امام بخاری نے جو تعلیق ذکر کی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ نے گوبر کے اوپر نماز پڑھی اس سے ان کا مقصود اہل ظاہر کی موافقت کرنا ہے کہ ہر جانور کا گوبر پاک ہے۔

گوبر پر نماز پڑھنے کی ممانعت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد

گوبر پر نماز پڑھنے کی ممانعت میں یہ حدیث صریح ہے:

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات جگہوں پر نماز پڑھنا جائز نہیں ہے :(1)بیت اللہ کی چھت پر (۲) مقبرہ میں (۳) گوبر اور لید پر (۴) مذبح میں (۵) حمام میں (۶) اونٹوں کے باڑوں میں (۷) شارع عام میں ۔ (سنن ترمذی : ۳۴۷-۳۴۶، سنن ابن ماجہ: ۷۴۷ – ۷۴۶ ، مسند احمد ج ۲ ص ۴۵۱)

عام فقہاء نے یہ کہا ہے کہ اگر کسی شخص نے نجس جگہ پر کپڑا بچھا کر نماز پڑھی تو اس کی نماز صحیح ہے اور حضرت ابوموسیٰ کا گوبر پر نماز پڑھنا اسی پر محمول ہے اور اگر بالفرض انہوں نے گوہر پر ہی نماز پڑھی تھی تو یہ صرف ان کا فعل ہے اور کسی کے نزدیک جائز نہیں ہے۔

( شرح ابن بطال ج ۱ ص ۳۵۶ عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۲۵ فتح الباری ج ۱ ص ۷۶۳ )

۲۳۳- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْب قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِی اللهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ انَاسٌ مِنْ عُكُل اَوْ عُرَيْنَةَ ، فَاجْتَوَوا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاح وأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَالْبَانِهَا، فَانْطَلَقُوا فَلَمَّا  صَحُوا قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقوا النَّعَمَ ، فَجَاءَ الْخَبَرُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ جِيْ ء بِهِمْ، فَاَمَرَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَارْجُلَهُمْ وَسُمِرَتْ أَعْيُنَهُمْ، وَالْقُوا فِی الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ. قَالَ أَبُو قِلَابَةَ فَهَؤُلَاءِ سَرَقوْا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيْمَانِهِمْ،وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.

اطراف الحدیث : ۱۵۰۱ – ۳۰۱۸-4192 4193، ۴۶۱۰  ۲۸۰۵ – ۶۸۰۴ – ۶۸۰۳ – ۲۸۰۲ – ۵۷۲۷-۵۶۸۶-۵۶۸۵2805)

(صحیح مسلم : 1671 الرقم المسلسل : ۴۲۷۴ سنن ابوداؤد: 4364-4365-۴۳۶۶، سنن نسائی: ۴۰۴۹-۴۰۳۱-305 سنن کبری للنسائی:4395، مسند ابویعلی 2816، صحیح ابن حبان : ۴۴۷۰ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۴ ص ۱۹۷ سنن بیہقی ج ۳ ص ۷۶ مسند احمد ج ۳ ص ۱۸۶ طبع قدیم مسند احمد :12936 – ج ۲۰ ص ۲۶۷ مؤسسة الرسالة بیروت)

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں سلیمان بن حرب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی از ابی ایوب از ابی قلابه از حضرت انس رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ عکل یا عرینہ سے کچھ لوگ آئے انہیں مدینہ موافق نہیں آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ وہ دودھ والی اونٹنیوں کے باڑے میں چلے جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پیئیں، پس وہ (اونٹنیوں کے پاس) چلے گئے، پس جب وہ تندرست ہو گئے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹوں کو ہانک کر لے گئے دن کے ابتدائی حصہ میں یہ خبر آپ کے پاس آئی آپ نے ان کے پیچھے آدمیوں کو دوڑایا جب دن چڑھ گیا تو ان کو لایا گیا’ آپ نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹنے کا حکم دیا اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور ان کو پتھریلی زمین میں ڈال دیا گیا وہ پانی مانگتے رہے تو ان کو پانی نہیں دیا گیا ۔ ابوقلابہ نے کہا: ان لوگوں نے چوری کی اور قتل کیا اور ایمان لانے کے بعد کفر کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی ۔

باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت حدیث کے اس جملہ میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ یہ اونٹنیوں کا پیشاب اور دودھ پئیں۔

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں ان سب کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔

عكل “ يا ”عرينة” حرة “ اور ” لقاح “ کے معانی

اس حدیث میں عکل‘یا’ عرينة “ کا ذکر ہے : ” عکل پانچ قبیلوں کا نام ہے انہوں نے بنو تمیم کے ساتھ حلف اٹھایا تھا

اور عرينة ” سے مراد عرینہ بن عزیز بن نذیر ہے۔ بعض روایات میں ہے : یہ سات افراد تھے اور بعض میں ہے: یہ آٹھ افراد تھے۔

اس حدیث میں اجتووا ” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: کسی شہر کی آب و ہوا کا ناموافق ہونا اور اس کا معنی ہے: پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہوا۔

حرة‘ سیاہ پتھروں والی زمین کو حرة “ کہتے ہیں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ کے ظاہر میں سیاہ پتھر بہت تھے،  یزید بن معاویہ کے ایام میں اس جگہ مشہور واقعہ ہوا تھا۔

اس حدیث میں ” لقاح “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے : اونٹ۔ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹ تھے، جو آپ کا مال غنیمت سے حصہ تھا’ اور آپ ان اونٹنیوں کا دودھ پیتے تھے ان اونٹ اور اونٹنیوں کو صدقہ کے اونٹوں کے ساتھ رکھا گیا تھا عکل یا عرینہ کے ان افراد کو ان اونٹنیوں کے باڑہ میں بھیج دیا گیا، تا کہ یہ وہاں ان اونٹنیوں کا پیشاب اور دودھ پئیں ۔ امام ابن سعد نے ذکر کیا ہے: انہوں نے اونٹنیوں کو ذبح کردیا تھا۔

ہر جاندار کے پیشاب کا حرام ہونا، ضرورت کے وقت حرام سے علاج، عرینیین کی آنکھوں میں گرم ۔۔۔۔سلائیاں پھیرنے اور ان کو پانی نہ دینے کی توجیہ

(1) اس حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ان کو اونٹنیوں کا پیشاب پلایا جائے، اس حدیث سے امام مالک اور امام احمد نے یہ استدلال کیا ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب پاک ہے اور ابوداؤد بن علیہ نے کہا که آدمی کے سوا ہر حیوان کا پیشاب پاک ہے، خواہ اس کا گوشت نہ کھایا جاتا ہو اور امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام ابو یوسف نے کہا کہ ہر پیشاب نجس ہے اور عرینیین کو ان کے مرض کی ضرورت کی وجہ سے اونٹنیوں کا پیشاب پینے کی اجازت دی تھی جیسے خارش کی وجہ سے آپ نے ریشم پہننے کی اجازت دی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی سے جان لیا تھا کہ ان کی شفاء اسی میں ہے اور حرام چیز سے شفاء طلب کرنا جائز ہے، بہ شرطیکہ اس سے شفاء کے حصول کا یقین ہو جیسے اضطرار کے وقت مردار کو کھانا اور شدید پیاس کے وقت خمر کو چینا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بہ طور دوا پیشاب پینے کا حکم دیا تھا اور ان کے اجسام اس سے تندرست ہوگئے تھے۔

علامہ عینی نے فرمایا: اگر ہمارے زمانہ میں یہ فرض کیا جائے کہ کوئی شخص اپنی قوت علم سے یہ جان لے کہ فلاں مرض کا علاج کسی حرام چیز کو کھانے سے ہو سکتا ہے تو اس کے لیے اس حرام چیز کو کھانا جائز ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۳۱) تاہم ہر قسم کا پیشاب نجس اور حرام ہے کیونکہ حدیث میں ہے:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیشاب سے بچو کیونکہ عام عذاب قبر اس سے ہوتا ہے۔

(سنن دار قطنی : ۴۵۷)

نیز حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اکثر عذاب قبر پیشاب کے سبب سے ہوتا ہے۔

( سنن دارقطنی : ۴۵۸ سنن ابن ماجه : 318،  مسند احمد ج ۲ ص 389- ۳۸۸-326،  مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۱۲۱، المستدرک ج ۱ ص ۱۸۳ سنن بیہقی ج ۲ ص ۴۱۲)

اس حدیث کا عموم اور اطلاق ہر قسم کے پیشاب کو شامل ہے لہذا اس وعید سے بچنے کے لیے ہر قسم کے پیشاب سے احتراز واجب ہے۔

(۲) امام کو چاہیے کہ جو قبائل اور مسافرین اس کی طرف آئیں، ان کی ضروریات اور مصالح میں غور وفکر کرے۔

(۳) اس حدیث میں علاج کرنے کا ثبوت ہے خواہ حرام چیز سے علاج کرنا پڑے۔

(۴) جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ عرینیین آپ کے اونٹوں اور صدقہ کے اونٹوں کے محافظوں کو قتل کرکے اور اونٹوں کو ہنکا کر لے گئے ہیں تو آپ نے ان کے پیچھے ان کو گرفتار کرنے کے لیے لوگوں کو بھیجا، پھر ان پر حدود قائم کی گئیں اس سے معلوم ہوا کہ صحراء میں حدود قائم کرنا جائز ہے۔

(۵) حدیث میں ہے: اللہ نے اس چیز میں تمہاری شفاء نہیں رکھی، جس کو تم پر حرام کر دیا ہے۔

(سنن بیہقی ج 10 ص  ۵ کنز العمال: ۲۸۳۲۷-28319 شرح معانی الآثار: ۶۲۸ ، صحیح ابن حبان : ۱۳۹۱ المعجم الكبير : ۹۷۱۴ – ۷۴۹ – ج 23 مصنف ابن ابی شیبہ ج ۷ ص ۲۳ المستدرک ج 4 ص ۲۱۸)

پس جب پیشاب حرام ہے تو اس سے شفاء کیسے حاصل ہوئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حالت اختیار میں اس سے شفا نہیں ہوگی اور حالت اضطرار میں ہوگی اور حالت اضطرار وہ ہے جب حرام چیز کے علاوہ اور کوئی ذریعہ علاج نہ ہو۔

(6) ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور یہ مثلہ کرنا ہے اور مثلہ کرنا جائز نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری تھیں، اس لیے ان کے ساتھ قصاصاً ایسا کیا گیا۔

(۷) اس پر اجماع ہے کہ جس کو قتل کرنا واجب ہو اگر وہ پانی مانگے تو اس کو پانی پلا دیا جائے اور اس حدیث میں ہے کہ وہ پانی مانگ رہے تھے اور ان کو پانی نہیں دیا گیا، اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ وہ اونٹنیوں کے محافظوں کو قتل کر کے اونٹنیاں ہنکا کر لے گئے تھے، اس لیے اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر دودھ نہیں پہنچ سکا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے پیاسے رہے اور آپ نے ان کے خلاف یہ دعا کی: اے اللہ ! ان کو پیاسا رکھ، جنہوں نے آل محمد کو آج رات پیاسا رکھا۔ (سنن نسائی : ۴۰۴۲)

(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۳۳ – ۲۳۰ ملخصاً دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۴۲۴۰ – ج 4 ص ۶۳۶ پر ہے وہاں اس کی بہت تفصیل ہے اس کے عنوانات حسب ذیل ہیں :

(۱) واقعہ عرینہ کی تاریخ

(2) حلال جانوروں کے پیشاب کی نجاست میں مذاہب اور نجس چیزوں سے علاج کا بیان

(۳) عرینین کو آگ کا عذاب دینے اور پانی نہ دینے کی توجیہات

(۴) کیا عرینین کو ان کے جرم سے زیادہ سزا دی گئی

(5) آیت محاربہ کا شان نزول

ڈاکہ کی تعریف

(7) ڈاکہ کارکن

(۸) ڈاکہ کی شرائط

(۹) شہر میں ڈا کہ میں مذاہب فقہاء

(10) ڈاکہ کی سزائیں

(11) مرتد کا اصطلاحی معنی

(12) مرتد کے حکم میں مذاہب

(13) مرتدہ کو قتل نہ کیا جائے اور بہت عنوان ہیں۔