کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 67 حدیث 237
۲۳۷- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ بنُ الْمُبَارَكِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ ابْنِ مُنَبِّهِ ، عَنِ أبِي ،ھرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلٌّ كلم يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْنتَهَا، إِذْ طُعِنَتْ ، تَفَجَّرُ دَمَا، اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ ( اطراف الحديث : ۲۸۰۳ – ۵۵۳۳)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں احمد بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ بن المبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں معمر نے خبر دی از ھمام بن منبہ از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، آپ نے فرمایا: ہر وہ زخم جو مسلمان کو اللہ کی راہ میں لگتا ہے قیامت کے دن اسی حالت میں ہوگا، جس حالت میں وہ زخم کھایا تھا اس سے خون بہ رہا ہو گا رنگ خون کا ہوگا اور اس سے مشک کی خوشبو آرہی ہوگی۔
(صحیح مسلم: ۱۸۷۶ الرقم السلسل: ۴۷۷۹، سنن نسائی: 3147 مسند الحمیدی: ۱۰۹۲ سنن سعید بن منصور : ۲۵۷۱ سنن بیہقی ج 9 ص ۱۶۴ معرفه السنن والآثار: ۲۰۹۹ صحیح ابن حبان : ۴۶۵۲ ، شرح السنة : ۲۶۱۳، مسند احمد ج ۲ ص ۲۴۲ طبع قدیم، مسند احمد ج ۱۲ ص ۲۵۰ مؤسسة الرسالة بیروت)
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مناسبت بہت بعید ہے، اس کی تقریر یہ ہے کہ اس حدیث میں مشک کا ذکر ہے اور مشک کی اصل وہ خون ہے جو ہرن کی ناف میں سے گرجاتا ہے اور چونکہ وہ خون ہے، اس لیے اس کو نجس ہونا چاہیے جیسا کہ باقی خون بھی نجس ہوتے ہیں، لیکن چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کی مدح فرمائی ہے، اس لیے وہ طاہر ہے، جیسا کہ ہاتھی کی ہڈیوں کی طہارت آثار سے بیان کی گئی ہے اور باب کے عنوان میں نجاستوں کا ذکر ہے۔ باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کے بعد کی وجہ یہ ہے کہ اس حدیث میں شہید کی فضیلت کا بیان ہے اور اس میں آخرت کے حکم کا بیان ہے اور پانی کے طاہر یا نجس ہونے کا تعلق دنیا کے حکم سے ہے، سو بہ ظاہر اس حدیث کی ابواب سابقہ کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں ہے ماسوا اس بعید مناسبت کے جس کو ہم نے بیان کیا ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
احمد بن محمد بن ابی موسیٰ المروزی المعروف بمردویہ حاکم ابوعبداللہ ، الکلا بازی اور امام ابو نصر نے ان کا نام اسی طرح لکھا ہے اور امام الدارقطنی نے کہا: ان کا نام احمد بن محمد بن عدی ہے اور یہ شبویہ کے نام سے معروف ہیں ۔ یہ ۲۳۵ھ میں فوت ہو گئے تھے امام ترمذی اور امام نسائی نے ان سے احادیث روایت کی ہیں
(۲) عبداللہ بن المبارک
(۳) معمر بن راشد
(۴) ھمام بن المنبه
(۵) حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۴۵)