کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 68 حدیث 238
٦٨ – بَابُ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ
ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا
اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ جو پانی ٹھہرا ہوا ہو اور جاری نہ ہو اس میں پیشاب کرنے کا کیا حکم ہے؟ اس سے پہلے باب میں یہ بیان کیا تھا کہ جس گھی یا جس پانی میں نجاست گر جائے اس کا کیا حکم ہے؟ اور اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ جس ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی شخص پیشاب کر دے اس کا کیا حکم ہے؟ اور پیشاب بھی نجس ہے اس طرح یہ باب باب سابق کے متناسب ہے۔
۲۳۸- حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ قَالَ اخبَرَنَا أَبُو الزَّنَادِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزُ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نَحْنُ الأخَرُونَ السَّابِقُونَ .
اطراف الحديث : ۸۷۶-896،2856،3486،6624،6887،7036،7495۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوالزناد نے خبر دی کہ عبدالرحمن بن ھرمز الاعرج نے ان کو حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہم (دنیا میں) مؤخر کیے گئے ہیں ( آخرت میں ) مقدم کیے جائیں گے۔