کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 68 حدیث 239
۲۳۹ – وَبِاسْنَادِهِ قَالَ لَا يَبُوْلَنَّ اَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِى ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ.
اور اسی سند کے ساتھ آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں جو جاری نہ ہو’ ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اس پانی میں غسل کرے۔
اس حدیث کے پانچ رجال میں اور ان سب کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔
یہ دونوں مستقل حدیثیں ہیں اور دوسری حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت بالکل ظاہر ہے البتہ پہلی حدیث کو جو مقدم کیا ہے اس کی حکمت میں اختلاف ہے، علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو اور اس کے بعد والی حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ساتھ سنا ہو اس لیے انہوں نے ان دونوں حدیثوں کو ایک ساتھ بیان کردیا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ھمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرہ سے ان دونوں حدیثوں کو ایک ساتھ سنا ہو اور انہوں نے ان دونوں حدیثوں کو ایک ساتھ روایت کردیا،ورنہ اس پہلی حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ کوئی مطابقت ظاہر نہیں ہے۔
کثیر پانی کے لیے قلتین معیار نہیں ہے اور دیگر فوائد
فقہاء احناف نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ جو بہت بڑا تالاب ہو جب اس میں نجاست گر جائے تو اس سے وضوء کرنا جائز نہیں ہے، اس میں پانی کم ہو یا زیادہ، اور یہ حدیث اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ قلتین ( دو گھڑے پانی ) حامل نجاست ہوتے ہیں، کیونکہ یہ حدیث مطلق ہے اور اپنے اطلاق سے قلیل اور کثیر کو شامل ہے۔
یہ حدیث عام ہے، اس لیے اس کی بہت کثیر پانی سے تخصیص کرنا واجب ہے، جس کے ایک کنارے کو ہلایا جائے تو دوسرے کنارے کا پانی نہیں ہلتا، اس کی تخصیص ان عمومی دلائل سے کی جائے گی کہ جب تک نجاست پانی کے رنگ بو اور مزے کو متغیر نہ کر دے، اس وقت تک وہ پاک کرنے والے وصف پر قائم رہے گا۔
اس حدیث میں ایسے پانی سے غسل جنابت کرنے سے منع فرمایا ہے اور اس ممانعت میں غسل کی دیگر اقسام بھی شامل ہیں۔
(عمدة القاری ج ۳ ص ۲۵۲ – ۲۵۰ ملخصاً ۱۴۲۱ھ )