کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 69 حدیث 240
٦٩ – بَابٌ إِذَا الْقِيَ عَلَى ظَهْرِ الْمُصَلَّى قَدرٌ أَوْ جيْفَةٌ لَمْ تَفْسُدْ عَلَيْهِ صَلوتُهُ
جب نمازی کی پشت پر کوئی گندگی ڈال دی جائے یا مردار ڈال دیا جائے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور حالت نماز میں کوئی دوسرا شخص اس پر نجاست ڈال دے تو اس نمازی کی نماز فاسد نہیں ہوگی’ باب سابق کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ پہلے باب میں پانی میں نجاست واقع ہونے کا ذکر تھا اور اس باب میں نمازی کے اوپر نجاست واقع ہونے کا ذکر ہے۔ اس کے بعد امام بخاری نے یہ تعلیق ذکر کی ہے:
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا رَأَى فِي ثوْبِهِ دَمًا ، وَهُوَ يُصَلَّى، وَضَعَهُ وَمَضَى فِي صَلوتِه.
اور حضرت ابن عمر جب حالت نماز میں اپنے کپڑے پرخون دیکھتے تو اس کو اتار دیتے اور اپنی نماز جاری رکھتے۔
یہ اثر اس باب کے عنوان کے مطابق نہیں ہے کیونکہ باب کا عنوان یہ ہے کہ جب نمازی کے اوپر کوئی نجاست ڈال دی جائے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی اور حضرت ابن عمر جب اپنے کپڑے پر خون دیکھتے تو اس کو اتار دیتے یعنی ان کے نزدیک وہ خون آلودہ کپڑا مفسد نماز تھا اور اس پر دلیل یہ مفصل اثر ہے:
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر جب نماز میں ہوتے، پھر وہ اپنے کپڑے پر خون کو دیکھتے تو اگر وہ اس کپڑے کو اتار سکتے تو اتار دیتے اور اگر وہ اس کو اتار نہ سکتے تو نماز سے نکل جاتے، پس اس کپڑے کو دھوتے، پھر آکر اسی نماز پر بناء کر کے بقیہ نماز پڑھتے ۔
(مصنف ابن ابی شیبہ : ۷۲۸۵ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۶ھ )
اس سے معلوم ہوا کہ جب نمازی کو نماز میں وقوع نجاست کا علم ہوجائے تو اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے اور یہ اس باب کے عنوان کے خلاف ہے اس کے بعد امام بخاری دوسری تعلیق ذکر کرتے ہیں:
وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ وَالشَّعْبِيُّ إِذَا صَلَّي وَفِي ثَوْبِهِ دَم أَوْ جَنَابَةَ ، اَوْ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ ، أَوْ تَيَمَّمَ وَصَلَّى ثُمَّ أدْرَكَ الْمَاءَ فِي وَقْتِهِ ، لَا يُعِيدُ.
اور ابن المسیب اور الشعبی نے کہا: جب کوئی شخص نماز پڑھے اور اس کے کپڑے میں خون ہو یا جنابت (منی ) ہو یا وہ غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ رہا ہو یا اس نے تیمم کر کے نماز پڑھی، پھر اس کو نماز کے وقت میں پانی مل گیا تو وہ نماز نہیں دہرائے گا۔
علامہ ابوالحسن علی بن خلف مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:
جس شخص نے نجس کپڑے کے ساتھ نماز پڑھی، پھر نماز کے بعد اس کو علم ہوا تو اس کے متعلق اختلاف ہے حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم اور عطاء ابن المسیب، سالم، شعبی، نخعی، مجاہد، طاؤس اور زہری یہ کہتے ہیں کہ اس پر اعادہ نہیں ہے اور یہی اوزاعی، ابونور اور اسحاق کا قول ہے اور ربیعہ اور امام مالک نے کہا : وہ نماز کو نماز کے وقت میں دہرائے گا اور امام شافعی اور امام احمد نے کہا: وہ نماز کو ہمیشہ دہرائے گا ( خواہ نماز کے وقت میں یا اس کے بعد ) اور جس نے عمد انجاست کے ساتھ نماز پڑھی تو وہ امام مالک اور اکثر علماء کے نزدیک ہمیشہ نماز کو دہرائے گا کیونکہ اس نے نماز کا استخفاف کیا ہے۔
( شرح ابن بطال ج ۱ ص 364۔ 363 دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۶ھ )
میں کہتا ہوں کہ صحیح یہی ہے کہ امام بخاری نے جتنی صورتیں ذکر کی ہیں، ان تمام صورتوں میں وہ نماز کو دہرائے گا ماسوا اس کے کہ وہ اس نے اجتہاد سے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھی یا تیم کر کے نماز پڑھی اور نماز میں اس کو پانی نظر نہیں آیا۔
٢٤٠- حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ ،عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونَ ، عَنْ عَبْدِاللهِ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ (ح) . قَالَ وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حدثنا شریح بن مسلمہ قال حدثنا ابراهیم بن يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ مَيْمُون اَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّى عِندَ الْبَيْتِ،وابوجَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ إِذْ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَيُّكُمْ يَجِيءُ بِسَلَا جَزُورٍ بَنِي فَلَانٍ فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ؟ فَاتَّبَعَثَ اَشْقَى الْقَوْمِ فَجَاءَ بِهِ فَنَظَرَ حَتَّى إِذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، وَأَنَا انْظُرُ لا أُغْنِي شَيْئًا لَوْ كَانَ لِي مَنَعَةٌ ، قَالَ فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ وَيُحِيْلُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ لَا يُرْفَعُ رَأْسَه حَتَّى جَاءَتْهُ فَاطِمَةٌ ، فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ قَالَ وَكَانُوا يَرَوْنَ اَن الدَّعْوَةَ فِى ذَلِكَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ ، ثُمَّ سَمَّى اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ ، وَعَلَيْكَ بِعْتُبَةَ بْنِ رَبيعَةَ ، وَشَيْبَةَ بن ربيعَةَ وَالْوَلِيدِ بن عُتْبَةَ ، وَأُمَيَّةَ بْن خَلْفٍ، وَعُقْبَةَ بن أَبِى مُعَيْطٍ وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ نَحْفَظهُ ، قَالَ فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِيْنَ عَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَرْعَى فِى الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْر۔
اطراف الحدیث:۵۲۰ – ۲۹۳۴- ۳۱۸۵ – 3855۔ 3960
صحیح مسلم: ۱۷۹۴ الرقم المسلسل : 4568، سنن الکبری للنسائی ۸۶۶۹، سنن نسائی : 306، صحیح ابن خزیمہ : ۷۸۵، صحیح ابن حبان : ۶۵۷۰ مسند ابوداؤد الطیالسی: 325، دلائل النبوة للبیہقی ج ۲ ص ۲۷۸ مصنف ابن ابی شیبہ ج 14 ص ۲۹۸، مسند ابو یعلی : ۱۲ ۵۳ مسند البزار ۲۳۹۸ دلائل النبوة لابی نعیم ج ا ص ۳۵۰-349، مسند احمد ج ا ص ۳۹۳ طبع قدیم مسند احمد : ۷۲۲ ۳- ج ۶ ص ۲۶۵ مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبدان نے بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے خبر دی از شعبه از ابی اسحاق از عمرو بن میمون از حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا : جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے ح ( امام بخاری دوسری سند کی طرف متحول ہوئے ) اور کہا: مجھے احمد بن عثمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شریح بن مسلمہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابراہیم بن یوسف نے حدیث بیان کی از والد خود از ابی اسحٰق، انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن میمون نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ان کو حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجہل اور اس کے اصحاب وہاں بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم میں سے کون ایسا کر سکتا ہے کہ بنو فلاں کے ہاں جو اونٹنی ذبح ہوئی ہے اس کے بچہ دان کو لے کر آئے اور جب (سیدنا) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )سجدہ کریں تو وہ ان کی پشت پر رکھ دے؟ تو قوم کا سب سے بدبخت شخص اٹھا وہ اس بچہ دان کو لے کر آیا پھر وہ انتظار کرتا رہا حتی کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اس نے اس بچہ دان کو آپ کی پشت کے اوپر آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا اور میں یہ منظر دیکھ رہا تھا اور آپ سے کسی چیز کو دور نہیں کرسکتا تھا کاش ! میرے مددگار ہوتے ‘ حضرت ابن مسعود نے کہا: مشرکین ہنس رہے تھے اور ایک دوسرے کی طرف اس کام کی نسبت کر رہے تھے اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے، اپنا سر نہیں اٹھا رہے تھے، حتى که حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں، پس انہوں نے اس بچہ دان کو آپ کی پشت سے اٹھا کر پھینک دیا، پھر آپ نے اپنا سراقدس اٹھایا پھر آپ نے تین مرتبہ ان کے خلاف دعا کی: اے اللہ ! قریش کو پکڑ لے۔ ان پر یہ دعا ناگوار گزری راوی کا بیان ہے: وہ جانتے تھے کہ اس شہر میں دعا قبول ہوتی ہے، پھر آپ نے نام لے کر ان کے خلاف دعا کی : اے اللہ! ابو جہل کو پکڑ لے، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ لے اور آپ نے ساتویں کا بھی نام لیا، جس کو راوی نے یاد نہیں رکھا، حضرت ابن مسعود نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کا نام لے لے کر ان کے خلاف دعا کی تھی، میں نے ان سب کو دیکھا وہ بدر کے کنویں میں اوندھے منہ گرے ہوئے تھے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
اس حدیث کے دس رجال ہیں، ان میں سے نو کا پہلے تعارف ہو چکا ہے۔ دسویں راوی عمرو بن میمون الاودی الکوفی ہیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا اور آپ سے ملاقات نہیں کی، انہوں نے سو حج اور ایک عمرہ کیا اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے عمال کو صدقہ ادا کیا، یہی وہ شخص ہیں جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندر کو زنا کرتے ہوئے دیکھا، پھر سب بندروں نے مل کر اس کو رجم کر دیا۔ یہ 75 ھ میں فوت ہو گئے تھے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۵۵ – ۲۵۴)
سلی“ کے معنی کی تحقیق اور اس کے معنی میں شیخ تقی عثمانی کی غلطی
اس حدیث میں ” سلا جزور ” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: اونٹنی کا بچہ دان، یعنی وہ کھال جس میں اونٹنی کا بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔
علامہ جمال الدین محمد بن مکرم ابن منظور افریقی متوفی 711 ھ سلا“ کے معنی میں لکھتے ہیں :
سلی اس بار یک کھال کو کہتے ہیں، جس میں بچہ لپٹا ہوا اپنی ماں کے پیٹ سے نکلتا ہے۔
(لسان العرب ج ۷ ص ۲۴۸ دار صادر، بیروت الطبعة الثانية ۲۰۰۳ء)
مجد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی متوفی ۸۱۷ ھ نے لکھا ہے:
السلی وہ کھال ہے جس میں انسانوں اور مویشیوں کا بچہ ہوتا ہے۔ (القاموس : ۱۲۹۶ مؤسسة الرسالة بیروت 1424ھ)
علامہ ابن بطال متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں : ابو عبید نے کہا : ” السلا“ وہ کھال ہے جس میں بچہ ہوتا ہے۔
(شرح ابن بطال ج ۱ ص ۳۶۴)
علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ ھ لکھتے ہیں : ” السلا” وہ لفافہ ہے جس میں اونٹنی، تمام حیوانوں اور آدمیہ کا بچہ ہوتا ہے۔
( صحیح مسلم بشرح النووی ج ۸ ص ۴۹۸۹ مکتبہ نزار مصطفی مکه مکرمه ج ۸ ص 4989)
علامہ بدرالدین عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ نے لکھا ہے: یہ وہ کھال ہے، جس میں بچہ ہوتا ہے۔ اصمعی نے کہا: مویشیوں اور
انسانوں کا بچہ اس کھال میں ہوتا ہے۔ الجوہری نے کہا: یہ باریک کھال ہوتی ہے جس میں بچہ ہوتا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۵۵)
حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ نے لکھا ہے: جانوروں کا بچہ جس کھال میں ہوتا ہے اس کو ” السلی” کہتے ہیں اور آدمیوں کا بچہ جس کھال میں ہو اس کو مشیمہ “ کہتے ہیں۔ (فتح الباری ج ۱ ص ۷۳ ۷ دار المعرفۃ بیروت )
شیخ انور شاہ کشمیری متوفی ۱۳۵۲ ھ لکھتے ہیں :
سلا ” بچہ دان اور اس کا ترجمہ اوجھڑی غلط ہے۔ (فیض الباری ج۱ ص ۳۳۸ مطبعه حجازی قاہرہ 1357ھ )
دیوبندی شارح سید احمد رضا بجنوری لکھتے ہیں : ” سلا حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ اس کا ترجمہ اوجھڑی درست نہیں، صحیح ترجمہ بچہ دان ہے۔ (انوار الباری ج ۸ ص ۱۴۶ اداره تالیفات اشرفیہ ملتان )
اردو کے سیرت نگاروں اور اُردو مترجمین نے سلا” کا معنی اوجھڑی لکھا ہے جو بہرحال غلط ہے کیونکہ یہ معنی تمام لغات کی تصریحات اور تمام شروحات کے خلاف ہے شیخ تقی عثمانی نے بھی اس کا معنی اور ترجمہ غلط لکھا ہے وہ لکھتے ہیں :
سلی اوجھڑی کو کہتے ہیں، جو کسی جانور کے پیٹ سے نکلتی ہے۔ ( انعام الباری ج ۲ ص 392، مکتبۃ الحراء کراچی)
اس حدیث میں مذکور بعض معین اشخاص کے اسماء کا تعارف
اس حدیث میں بعض معین اشخاص کا ذکر ہے جن کا مختصر تعارف حسب ذیل ہے:
سیده فاطمه رضي الله عنہا
حضرت سیدہ فاطمہ رضی الله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے بعد ان کا نکاح حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کردیا تھا، اس وقت ان کی عمر پندرہ سال پانچ ماہ تھی، انہوں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے ۱۸ احادیث روایت کی ہیں، صحیحین میں ان کی ایک حدیث ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین سے روایت ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ ماہ بعد فوت ہوگئی تھیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو غسل دیا اور ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو رات میں دفن کیا گیا، ان کے فضائل بہت ہیں اور ان کی یہ ایک فضیلت کافی ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ٹکڑا ہیں ۔
ابو جہل لعنۃ اللہ علیہ
اس کا نام عمرو بن ہشام تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ابوجہل فرمایا تو اب سب اس کو اسی نام سے پہچانتے ہیں اس کو حضرت معاذ بن عمرو بن الجموح اور حضرت معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہما نے قتل کیا تھا، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا اس کے پاس سے گزر ہوا تو یہ اوندھا پڑا تھا وہ اس کا سرکاٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جس نے تجھے اے اللہ کے دشمن رسوا کر دیا، یہ شخص اس امت کا فرعون تھا اور یہ شخص ائمہ کفر کا سردار تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گر گئے (یہ سجدہ شکر کا ثبوت ہے )۔
عقبہ بن ربیعہ کوسیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا ایک قول ہے: حضرت علی بھی اس کو قتل کرنے میں شریک تھے۔
شیبه بن ربیعہ بن عبد شمس،یہ عتبہ بن ربیعہ کا بھائی ہے اس کو بھی سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔
الولید بن عتبہ اس کو حضرت عبیدہ بن الحارث نے قتل کیا تھا، ایک قول ہے: حضرت حمزہ نے ایک قول ہے: حضرت علی نے ۔
امیہ بن خلف : حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے چند انصار کے نو جوانوں کے ساتھ مل کر اس کو قتل کیا تھا۔
عقبہ بن ابی معیط : اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا، ایک قول ہے: حضرت عاصم بن ثابت نے قتل کیا تھا زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرق الظبیہ میں قتل کیا تھا۔
عمارہ بن الولید بن المغیرہ: یہ وہی ساتواں شخص ہے جس کا نام لینا راوی بھول گیا تھا۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سرزمین حبشہ میں فوت ہوا ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۵۵ – ۲۵۴)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے ضرر کو بددعاء کہنے کا عدم جواز
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سات کافروں کا نام لے کر ان کے خلاف دعائے ضرر فرمائی، بعض اُردو کے سیرت نگاروں نے اس حدیث میں ” دَعَا عَلَيْهِمْ “ کا ترجمہ کیا ہے: ان پر بددعا کی ۔
دیوبندی شارح سید احمد رضا بجنوری نے لکھا ہے:
ان سرکش کفار پر یہ بات بڑی شاق گزری کہ آپ نے ان پر بددعا کی ۔ (انوار الباری ج۸ ص ۱۴۶)
شیخ تقی عثمانی نے لکھا ہے:
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں بددعا کی تو یہ بات ان کو بہت گراں گزری ۔ (انعام الباری ج ۲ ص ۳۹۳)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فعل بد نہیں ہے، اس لیے آپ نے جو دعائے ضرر کی اس کو بددعا کہنا ناجائز اور گناہ ہے آپ کا ہر فعل حسن اور واجب الاتباع ہے، ہم اس سے پہلے بھی اس پر تفصیل سے لکھ چکے ہیں ۔
اس اشکال کا جواب کہ آپ کی پشت پر نجاست ڈال دی گئی تو پھر آپ کیوں نماز پڑھتے رہے؟
اس حدیث میں ہے: آپ کی پشت پر ”سلی” رکھی گئی تھی، یعنی وہ غلاف جس میں اونٹنی کا بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے، شرح صحیح مسلم میں، میں نے تاج العروس‘ ج ۱۰ ص ۱۸۳‘ کے حوالے سے “سلی“ کا یہی معنی لکھا تھا اور یہی اس کا حقیقی معنی ہے لیکن میں نے لکھا تھا کہ اس سے مجازاً اوجھڑی مراد ہے کیونکہ بعض روایات میں ہے: اس میں خون اور گوبر بھی تھا اور گوبر اوجھڑی میں ہوتا ہے، تاہم اب میری رائے بدل گئی ہے کہ بلا وجہ اسکو مجاز پرمحمول کرنا درست نہیں ہے اور” سلی“ سے مراد اس کا حقیقی معنی ہی ہے اور اونٹنی کے پیٹ میں “سلی“ کے اندر کچھ خون اور گوبر منتقل ہوگیا ہو تو یہ کچھ بعید نہیں ہے، اب یہاں یہ سوال ہے کہ جب” سلی“ میں گوبر اور خون وغیرہ تھا اور وہ نجس ہیں، نیز وہ مشرکین کا ذبیحہ ہونے کی وجہ سے بھی نجس تھی تو اس نجاست کے ڈال دینے کے بعد آپ نماز کس طرح پڑھتے رہے ، اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت آپ سجدہ میں تھے اور آپ کو پتا نہیں تھا کہ آپ کی پشت پر کیا ڈالا گیا ہے۔
اوجھڑی کھانے کا شرعی حکم
بعض دلائل اوجھڑی کھانے کی تحریم کا تقاضا کرتے ہیں، کیونکہ اوجھڑی گوبر کا محل ہے تو جس طرح مثانہ پیشاب کا محل ہونے کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے اسی طرح گوبر کا محل ہونے کی وجہ سے اوجھڑی کو مکروہ تحریمی ہونا چاہیے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ۱۳۴۰ ھ نے اس دلیل کی وجہ سے اوجھڑی اور آنتوں کو مکروہ تحریمی قرار دیا ہے۔ (فتاوی رضویہ ج ۸ ص 326، مکتبہ رضویہ، کراچی) اور بعض دلائل اوجھڑی کی حلت کا تقاضا کرتے ہیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال جانور کی صرف سات چیزوں کو مکروہ تحریمی قرار دیا ہے باقی چیزیں بلا کراہت حلال ہیں اور چونکہ اوجھڑی ان سات چیزوں میں نہیں ہے اس لیے وہ بلا کراہت حلال ہے سات
چیزوں کے مکروہ تحریمی ہونے کے متعلق یہ حدیث ہے:
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کی سات چیزوں کو مکروہ( تحریمی ) قرار دیتے تھے: (۱) خون (۲) فرج(3) خصیتین (۴) غدود (۵) ذکر (۶) مثانه (۷) پتہ ۔ (مصنف عبد الرزاق ج 4 ص ۵۳۵ سن بیہقی ج 10 ص 7 ‘ مراسیل ابوداؤد ص ۱۹ المعجم الاوسط : ۷۶ ۹۴ الجامع الصغیر : 716 الکامل لابن عدی ج ۵ ص ۱۲)
اور جب کسی چیز کی حلت اور حرمت میں دلائل متعارض ہوں تو وہ مکروہ تنزیہی ہوتی ہے، نیز ایک حدیث میں ہے: حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بکری کے معدہ کا ایک ٹکڑا کھایا وہ حدیث یہ ہے:
حضرت نسیکہ ام عمرو بن جلاس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی، انہوں نے ایک بکری ذبح کی تھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، آپ نے اس چھڑی کو رکھ دیا اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھی پھر آپ بستر کی طرف گئے اور اس پر لیٹ گئے، پھر آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے ہم آپ کے پاس ایک پیالہ لائے، جس میں جو کی روٹی تھی اور اس میں بکری کے معدہ کا ٹکڑا تھا اور اس میں بکری کی دستی تھی حضرت نسیکہ نے کہا : حضرت عائشہ معدہ کا ٹکڑا لے کر اس کو دانتوں سے کھانے لگیں، اس وقت انہوں نے کہا : ہم نے آج بکری ذبح کی تھی، اس کے سوا ہمارے پاس اور کچھ نہیں باقی رہا’ آپ نے فرمایا : نہیں ! وہ سب باقی ہے، جو اس کے سوا ہے۔
(المعجم الکبیر ج ۲۵ ص ۴۴ اس کی سند میں ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ضعیف راوی ہے، مجمع الزوائد ج ۵ ص ۳۶)
اسی طرح ایک حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ نے انتڑیاں کھائیں:
امام طحاوی نے کہا: ہمیں ابن خزیمہ نے محمد بن المنکدر سے روایت کی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ کے پاس گیا، جن کا انہوں نے نام لیا تھا اور میں بھول گیا ( وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں) وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے پاس بکری کا پیٹ لٹکا ہوا تھا’ آپ نے فرمایا: اگر تم اس پیٹ سے میرے لیے فلاں فلاں چیز پکادو، وہ کہتی ہیں: ہم نے آپ کے لیے وہ چیزیں پکادیں آپ نے ان کو کھایا اور وضو نہیں کیا۔
علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں : اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس حدیث میں پیٹ سے مراد انتڑیاں ہیں۔
(نخب الافکار فی تنقیح مبانی الاخبار فی شرح معانی الآثار ج ا ص 388، قدیمی کتب خانہ کراچی)
ان احادیث میں بکری کے معدہ اور انتڑیاں کھانے کا ثبوت ہے اور یہی اوجھڑی کے کھانے کا ثبوت ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دعائے ضرر کرنے کی توجیہ
ایک اعتراض یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو زیادتی کی جائے، آپ اس پر صبر کرتے تھے اور اس کا بدلہ نہیں لیتے تھے تو اس موقع پر آپ نے کفار کے خلاف دعائے ضرر کیوں کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کی ذات پر جو ظلم اور زیادتی کی جاتی تھی اس کو آپ برداشت کرلیتے تھے، لیکن دین کے معاملہ میں آپ کسی زیادتی کو برداشت نہیں کرتے تھے ان کافروں نے نماز کی حالت میں آپ کی پیٹھ پر نجاست ڈال کر آپ کی نماز اور آپ کی عبادت میں خلل ڈالا اس لیے آپ نے ان کے خلاف دعائے ضرر کی۔
علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں :
المہلب نے کہا: اس حدیث میں یہ ثبوت ہے کہ جس کو ایذاء پہنچائی جائے وہ ایذاء پہنچانے والے کے خلاف دعائے ضرر کرسکتا ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش کے خلاف دعائے ضرر کی تھی، علامہ ابن بطال فرماتے ہیں: یہ اس وقت ہے جب کافر نے ایذاء پہنچائی ہو اور اگر مسلمان ایذاء پہنچائے تو زیادہ بہتر ہے کہ اس کے خلاف دعا نہ کی جائے کیونکہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا لحاف چوری ہوگیا تو انہوں نے چور کے خلاف دعا کی تو آپ نے فرمایا: تم اس کے خلاف دعا کر کے اس سے تخفیف نہ کرو ۔ (سنن ابوداؤد: ۱۴۹۷)
المہلب نے کہا: اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے مقبول ہونے کا ثبوت ہے، کیونکہ آپ نے جن کے خلاف دعا کی تھی، وہ قبول ہوگئی اور حضرت ابن مسعود نے ان سب کو بدر کے کنویں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے دیکھا۔
( شرح ابن بطال ج ا ص 364 دار الكتب العالمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )
اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۴۵۳۴- ج ۵ ص ۵۵۶ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
لفظ “سلی‘ کی تحقیق
(۴) اوجھڑی کھانے کا حکم ۔