کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 70 حدیث 241
۷۰- بَابُ الْمُزَاقِ وَالْمُخَاطِ وَنَحْوِهِ فِي الثَّوْبِ
کپڑے میں تھوک، رینٹ اور اس کی مثل کا حکم
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر نمازی کے کپڑے میں تھوک یا رینٹ لگ گئی تو اس سے اس کی نماز میں ضرر نہیں ہوگا اور باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں یہ بیان کیا تھا کہ اگر نمازی کی پیٹھ پر کوئی نجاست ڈال دی جائے تو امام بخاری کی رائے میں اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی اور اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ اگر نمازی کے کپڑے پر منہ کی یا ناک کی رطوبت لگ جائے تو اس سے اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی اور نہ اس کا کپڑا نجس ہوگا اس کے بعد امام بخاری فرماتے ہیں:
وَقَالَ عُرْوَةٌ ، عَنِ الْمِسْوَرِ وَمَرْوَانَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ حُدَيبِيَّةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيث وَمَا تَنَخَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُحَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَف رَجُلٍ مِّنْهُمْ ، فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ۔ ,
یہ تعلیق صحیح البخاری : ۲۷۳۲-۲۷۳۱ کا ایک قطعہ ہے
اور عروہ نے کہا: از مسور ومروان کہ حدیبیہ کے زمانہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، پھر حدیث کو بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی بلغم تھوکا تو وہ کسی نہ کسی صحابی کی ہتھیلی میں واقع ہوتا وہ صحابی اس کو اپنے چہرے اور اپنی جلد پر ملتا۔
اس تعلیق سے امام بخاری نے اس پر استدلال کیا ہے کہ منہ کی رطوبت اور ناک کی رطوبت طاہر ہے اور اس پر سب کا اجماع ہے ماسوا اس کے کہ حضرت سلمان فارسی اور ابراہیم النخعی نے یہ کہا ہے کہ جب لعاب دہن منہ سے نکل جائے تو وہ نجس ہے لیکن اس قول کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ شارع علیہ السلام نے یہ حکم دیا ہے کہ نمازی اپنے بائیں جانب یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک دے اور خود شارع علیہ السلام اپنی چادر کے ایک پلو میں تھوک کر اس کو کپڑے میں مل لیتے تھے اور آپ نے فرمایا: یا اس طرح کرے ( یعنی آدمی تھوک کو اپنے کپڑے میں اس طرح مل لے ) ۔ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ منہ کی رطوبت طاہر ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن ہر پاک اور طیب چیز سے زیادہ پاک اور طیب ہے اور اس تعلیق سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور توقیر کے لیے آپ کے بلغم کو بہ طور تبرک حاصل کیا جاتا تھا اور صحابہ اس کو اپنے جسم پر اور اپنی جلد پر ملتے تھے اور اس سے ان کی آپ کے ساتھ غایت محبت کا پتا چلتا ہے اور یہ کہ آپ کا بلغم انتہائی پاکیزہ اور خوشبودار ہوتا تھا اور بے مثل تھا، ورنہ دوسروں کا بلغم دیکھ کر انسان کو کراہت آتی ہے، جب کہ آپ کے بلغم کے حصول کے لیے صحابہ ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کرتے تھے۔
٢٤١- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ قَالَ بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثوبِهِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ، طَوَّلَهُ ابنُ مَرْيَمَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِى حُمَيْدٌ قَالَ سَمِعْتُ أنسا عن النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
اطراف الحدیث: ۴۰۵ – ۴۱۲ – ۴۱۳- ۴۱۷-۵۳۱ – ۵۳۲ – 1214 |
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از حمید از حضرت انس رضی اللہ عنہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں تھوکا، امام ابو عبد اللہ بخاری نے کہا: ابن ابی مریم نے اس کو زیادہ طوالت سے ذکر کیا ہے انہوں نے کہا: ہمیں یحیی بن ایوب نے خبر دی انہوں نے کہا: مجھے حمید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا از نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
اس حدیث کے 7 رجال ہیں:
(۱) محمد بن یوسف
(۲) سفیان ثوری
(۳) حمید
(۴) امام بخاری، ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۵) سعید بن الحکم بن محمد بن ابی مریم المصری یہ امام بخاری کے مشائخ میں سے ہیں امام مالک سے روایت کرتے ہیں اور ۲۲۴ ھ میں فوت ہو گئے تھے
(6) یحیی بن ایوب الغافقی المصری ،یہ عمر بن الحکم بن مروان کے آزاد کردہ غلام ہیں، ۱۶۸ ھ میں فوت ہوگئے تھے ان میں ضعف ہے، ابو حاتم نے کہا: ان کی حدیث سے استدلال نہیں کیا جاتا امام نسائی نے کہا: یہ قوی نہیں ہیں
(۷) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان کا تعارف بھی ہوچکا ہے۔
عمدۃ القاری ۳ ص ۲۶۳)
اس حدیث کی روایت میں امام بخاری منفرد ہیں ۔