کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 71 حدیث 242
۷۱- بَابٌ لَا يَجُوزُ الْوُضُوءُ بالنَّبِيْدِ وَلَا بِالْمُسْكِرِ
نبیذ اور نشہ آور مشروب کے ساتھ وضوء کرنا جائز نہیں ہے
امام بخاری نے نبیذ کا علیحدہ ذکر کیا ہے اور اس کو نشہ اور مشروب میں شامل نہیں کیا، کیونکہ نبیذ کے ساتھ وضوء کرنا مختلف فیہ ہے۔
نبیذ کا لغوی معنی
نبی کا معنی کسی چیز کو ڈالنا اور پھینکنا ہے، علامہ عینی نے کہا : نبیذ اس پانی کو کہتے ہیں، جس میں کچھ کھجوروں کو ڈال دیا جاتا ہے تاکہ پانی میں ان کی مٹھاس آجائے علامہ ابن اثیر نے کہا: کھجوروں، منقی، شہد، گندم اور جو وغیرہ کو پانی میں ڈال کر رکھ دیا جائے تو اس مشروب کو نبیذ کہتے ہیں، خواہ یہ نشہ آور ہو یا نہ ہو، اگر یہ نشہ آور ہو تو اس سے وضوء کرنا بالاتفاق جائز نہیں ہے اور اگر یہ نشہ آور نہ ہو لیکن ایک دو دن پڑے رہنے سے گاڑھا ہوجائے اور اس کے پینے سے سرور آئے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس سے وضوء کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر یہ گاڑھا نہ ہو، صرف اس میں مٹھاس ہو تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس سے بلا کراہت وضو کرنا جائز ہے اور اگر یہ نشہ آور ہو تو اس سے امام اعظم کے نزدیک وضوء کرنا حرام ہے۔
فقہاء احناف کے نزدیک نبیذ کی تعریف
علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی ۱۰۸۷ ھ لکھتے ہیں:
(1) کھجوروں اور منقی کے نبیذ کو اگر معمولی جوش دیا جائے تو اس کا پینا جائز ہے، خواہ وہ گاڑھا ہو، بہ شرطیکہ اس کو لہو و طرب ( سرور اور مستی ) کے بغیر پیا جائے اور اگر لہو کے لیے پیا جائے تو اس کی قلیل اور کثیر مقدار حرام ہے اور جب تک وہ نشہ آور نہ ہو اور اگر اس کو ظن غالب ہے کہ وہ نشہ آور ہے تو پھر اس کا پینا حرام ہے۔
(۲)، کھجوروں اور منقی کو ملا کر معمولی جوش دیا جائے خواہ وہ گاڑھا ہوجائے تو اس کا پینا حلال ہے شرط مذکور کے ساتھ ۔
(۳) شہد، گندم ،انجیر، جو اور جوار کا نبیذ حلال ہے خواہ اس کو جوش دیا جائے یا نہیں، شرط مذکور کے ساتھ۔
(۴) انگور کے شیرے کو جوش دیا، حتیٰ کہ اس کا دو تہائی اڑ جائے اور ایک تہائی رہ جائے جب اس سے کھانے کو ہضم کرنے، علاج اور عبادت پر طاقت حاصل کرنے کے لیے پیا جائے تو جائز ہے اور اگر سرور اور مستی کے لیے پیا جائے تو حرام ہے۔
الدر المختار مع رد المختار ج ۱۰ ص ۳۴ ۳۲ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ )
علامہ سید محمد امین بن عبد العزیز شامی متوفی ۱۲۵۲ ھ لکھتے ہیں :
نبیذ میں جوش دینے کی قید اس لیے لگائی ہے کہ جس نبیذ کو جوش نہ دیا گیا ہو اور کچے پانی میں کھجور میں یا منقی ڈال دی ہوں اور پڑے پڑے وہ پانی گاڑھا ہوجائے اور اس میں جھاگ پیدا ہوجائے اور اس میں از خود جوش آجائے تو وہ نبیذ اجماع صحابہ سے حرام ہے، کھجوروں کے نبیذ کی حرمت اور حالت میں احادیث وارد ہیں اور ان میں تطبیق یہ ہے کہ جو نبیذ کچے پانی سے بنایا گیا ہو، وہ حرام ہے،اور جس نبیذ کو آگ پر پکاکر بنایا گیا ہو وہ حلال ہے۔ (ردالمختار ج 10 ص ۳۲ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ )
فقہاء حنبلیہ کے نزدیک نبیذ کی تعریف
علامہ شمس الدین عبد الرحمان بن محمد بن قدامہ حنبلی متوفی ۶۸۲ ھ لکھتے ہیں :
نیند مباح ہے، جب تک پانی میں پڑے پڑے جوش نہ آئے یا اس پر پانی میں پڑے پڑے تین دن نہ گزر جائیں۔ نبیذ وہ مشروب ہے جس میں کھجور میں یا منقی یا کوئی اور چیز ڈال دی جائے تاکہ اس کا پانی میٹھا ہوجائے اور اس کی نمکینی چلی جائے، پس جب تک اس میں جوش نہ آئے، یا اس پر تین دن نہ گزریں تو وہ مباح ہے کیونکہ اس کے بعد وہ نشہ آور ہو جاتا ہے اور ہر نشہ آور مشروب حرام ہے اور پانی میں کھجوروں کو اور منقی کو یا ان کی مثل کو چھوڑے رکھنا مکروہ نہیں ہے تا کہ پانی ان کی مٹھاس لے لے، جب تک کہ وہ گاڑھا نہ ہو اور اس پر تین دن نہ گزر جائیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھ رہے ہیں، میں نے آپ کے افطار کے لیے کھوکھلے کدو میں نبیذ تیار کیا، جب میں اس کو آپ کے پاس لے کر گیا تو اس میں جوش آرہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کو دیوار کے پاس گرادو کیونکہ یہ ان لوگوں کا مشروب ہے، جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔
(سنن ابوداؤد :۳۷۱۶، سنن نسائی: ۵۷۲۰-۵۶۲۶ ، سنن ابن ماجه 3409) (الشرح الكبير والمغنی ج 12 ص ۳۹۴۔393 دارالحدیث، قاہره ۱۴۲۵ھ )
فقہاء شافعیہ کے نزدیک نبیذ سے وضوء کرنے کا حکم
علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی الشافعی متوفی ۴۵۰ ھ لکھتے ہیں :
کسی قسم کے نبیذ سے وضوء کرنا جائز نہیں ہے خواہ وہ نبیذ آگ پر پکاکر بنایا ہو یا کچے پانی میں تیار کیا ہو، نہ حضر میں، نہ سفر میں اگر وہ نشہ آور ہو تو وہ نجس ہے، امام اوزاعی نے کہا کہ ہر قسم کے نبیذ سے وضوء کرنا جائز ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
امام ابوحنیفہ نے کہا: کھجوروں کا جو نبیذ جوش دے کر تیار کیا ہو اس سے سفر میں وضوء کرنا جائز ہے خواہ وہ نشہ آور ہو اور حضر میں اس سے وضوء کرنا جائز نہیں ہے۔
(میں کہتا ہوں : یہ امام ابو حنیفہ پر بہتان ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک نشہ آور مشروب حرام ہے اس کو پینا جائز ہے، نہ اس سے وضوء کرنا جیسا کہ ہم شروع میں علامہ شامی اور علامہ حصکفی حنفی کے حوالوں سے بیان کر چکے ہیں۔)
امام محمد بن حسن نے کہا: نبیذ سے وضوء کرنے کو اور تمیم کرنے کو جمع کیا جائے گا، ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لیلتہ الجن میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ نے فرمایا : اے عبداللہ! کیا تمہارے ساتھ پانی ہے؟ میں نے کہا: نہیں ! میرے ساتھ کھجوروں کا نبیذ ہے آپ نے فرمایا: اس کو لاؤ، وہ پاکیزہ کھجوریں ہیں اور پاک کرنے والا پانی ہے پھر آپ نے نبیذ سے وضوء کیا اور ہم کو صبح کی نماز پڑھائی۔ (سنن ترمذی: ۸۸ سنن ابوداؤد : ۸۴ سنن ابن ماجه : ۳۸۵- 384، مسند احمد : ۴۲۹۶۔3810 ج ۱ ص 449 – 402 مؤسسة الرسالة بیروت ‘ مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۶۳- ج ۱ ص 26، مصنف عبد الرزاق : ۶۹۳ ، سنن بیہقی ج ۱ص ۱۲)
نیز روایت ہے کہ حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبیذ سے وضوء کیا۔ (سنن بیہقی ج ۱ ص ۱۳۔۱۲)
اور ان کا یہ فعل قیاس سے تو ہو نہیں سکتا، لا محالہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو سنا ہوگا۔
نیز فقہاء احناف کی دلیل یہ آیت ہے: ” فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا . (المائدہ: ۲۶) جب تم پانی نہ پاؤ تو تیمم کرو اور نبیذ بھی پانی ہے لہذا اس کے ہوتے ہوئے تمیم کرنا جائز نہیں ہے۔
علامہ ماوردی کہتے ہیں : ہماری دلیل یہ آیت ہے کہ جب تم پانی نہ پاؤ تو تیم کرو (المائدہ: ۲۶) اور نبیذ پانی نہیں ہے لہذا جب نبیذ کے سوا اور پانی نہ ہو تو تیمم کرنا واجب ہے اور جن احادیث سے انہوں نے استدلال کیا ہے وہ ضعیف ہیں۔
(الحاوی الکبیر ج ا ص 49-51 ملخصاً دار الفکر بیروت 1414ھ)
نبیذ سے وضوء کے جواز کے متعلق احادیث
میں کہتا ہوں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ کو” ماء طهور” پاک کرنے والا پانی فرمایا ہے سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں علامہ ماوردی کے انکار کو کون سنے گا ! اور ان احادیث کو ضعیف کہنا علم حدیث سے ناواقفیت ہے، یہ حدیث ” سنن ترمذی، سنن ابوداؤد سنن ابن ماجہ میں ہے اور یہ کتب صحاح ہیں، ان کے علاوہ مسند احمد، مصنف عبد الرزاق اور مصنف ابن ابی شیبہ بھی مستند کتب حدیث ہیں۔ علاوہ ازیں یہ حدیث مسند ابو یعلی : ۵۰۴۶-۵۳۰۱ المعجم الكبير : ۹۹۶۳ – 9967 اور سنن بیہقی میں طرق متعدد سے مروی ہے۔ نیز یہ آثار ہیں :
حضرت علی رضی اللہ عنہ نبیذ سے وضوء کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۶۴)
عکرمہ نے کہا: جس کو پانی نہ ملے، اس کے لیے نبیذ وضوء ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۶۵)
فقہاء مالکیہ کے نزدیک نبیذ سے وضوء کرنے کا حکم
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:
امام مالک، ابو یوسف، امام شافعی اور امام احمد نے کہا: نبیذ سے وضوء کرنا جائز نہیں ہے خواہ نبیذ کچے پانی میں بنایا ہو یا پکا کر، خواہ اس وقت پانی ہو یا نہ ہو یا کھجوروں کا نبیذ ہو یا کسی اور چیز کا اور اگر وہ نبیذ گاڑھا ہو تو وہ نجس ہے اس کا پینا جائز ہے نہ اس سے وضوء کرنا اور حسن بصری نے نبیذ سے وضوء کرنے کی اجازت دی ہے امام اوزاعی نے کہا : نبیذ کی تمام اقسام سے وضوء کرنا جائز ہے اور یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے امام ابوحنیفہ نے کہا: پانی کے ہوتے ہوئے نبیذ سے وضوء کرنا جائز نہیں ہے اور جب پانی نہ ہو تو صرف پکائے ہوئے نبیذ سے وضوء کرنا جائز ہے، جب وہ نشہ آور ہو اور کچے پانی کے نبیذ سے وضوء کرنا جائز نہیں ہے۔
( شرح ابن بطال ج ا ص ۳۶۷ – ۱۳۶۶ دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۲۴ھ )
میں کہتا ہوں کہ نشہ آور مشروب سے وضوء کے جواز کو امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کرنا ان پر بہتان ہے، ائمہ اور فقہاء احناف کی کتب سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہے، بلکہ اس کے خلاف ثابت ہے:
شمس الائمہ ابوبکر محمد بن احمد حنفی سرخسی متوفی ۴۸۳ ھ لکھتے ہیں:
کھجوروں کے نبیذ کا پینا حلال ہے، جب اس کو پکا کر جوش دیا گیا ہو اور جو نبیذ نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔
المبسوط ج ۲۴ ص ۲۱ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1421ھ )
فقہاء حنبلیہ کے نزدیک نبیذ سے وضوء کرنے کا حکم
علامه ابن قدامه حنبلی متوفی ۶۲۰ ھ لکھتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نبیذ سے وضوء کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور حسن بصری اور اوزاعلی کا بھی یہی قول ہے اور عکرمہ نے کہا : جس کو پانی نہ ملے، وہ نبیذ سے وضوء کرے اور اسحاق نے کہا: نبیذ سے وضوء اور تیم کو جمع کرنا مستحب ہے اور امام ابوحنیفہ کا قول عکرمہ کی مثل ہے اور ان کی دلیل حضرت ابن مسعود کی حدیث ہے، ہمارے نزدیک یہ جائز نہیں ہے اور ہماری دلیل آیت تیمم ہے۔ (المغنی ج ا ص 34، دار الحدیث’ قاہرہ 1425ھ)
شیخ محمد بن ابوبکر ابن قیم جوزی حنبلی متوفی ۷۵۱ ھ لکھتے ہیں:
انہوں نے کھجوروں کے نبیذ سے وضوء کرنے کی اجازت دی ہے انہوں نے ایک قول میں نبیذ کی باقی اقسام کو کھجوروں کے نبیذ پر قیاس کیا ہے اور دوسرے قول میں منع کیا ہے اور جس طرح بھی ہو بہرحال کھجوروں کا نبیذ جائز ہے کھجوریں پاک ہیں اور پانی پاک کرنے والا ہے۔ (جامع الفقہ ج ۱ ص ۱۱۰ دار الوفاء )
نیز ابن قیم جوزی لکھتے ہیں:
کھجوروں کے ساتھ وضوء کی حدیث کو قیاس پر مقدم کیا گیا ہے اور اکثر محدثین اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں اور امام ابوحنیفہ کا مذہب بھی یہ ہے کہ قیاس اور رائے پر عمل کرنے کی بہ نسبت حدیث ضعیف پر عمل کرنا اولیٰ ہے اسی وجہ سے ان کا مذہب اس ضعیف حدیث پر مبنی ہے کہ قہقہہ سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے، حالانکہ یہ حدیث قیاس اور رائے کے خلاف ہے اسی طرح ان کا مذہب اس پر مبنی ہے کہ سفر میں کھجوروں کے نبیذ سے وضوء کرنا جائز ہے کیونکہ یہ حدیث قیاس اور رائے کے خلاف ہے۔ (جامع الفقہ ج اص 111 دار الوفاء )
ظلم یہ ہے کہ پھر بھی امام ابوحنیفہ قدس سرہ کو صاحب رائے کہا جاتا ہے اور فقہاء احناف کو اصحاب رائے کہا جاتا ہے!
فقہاء احناف کے نزدیک نبیذ سے وضوء کرنے کا حکم
امام محمد بن حسن شیبانی متوفی ۱۸۹ ھ لکھتے ہیں:
امام ابوحنیفہ سے روایت ہے کہ جس شخص کو اور کوئی پانی نہ ملے، وہ کھجوروں کے نبیذ سے وضوء کرے اور تیمم نہ کرے اور امام ابو یوسف نے کہا: وہ تیمم کرے اور وضوء نہ کرے اور امام محمد نے کہا: وہ اس نبیذ سے وضوء کرے پھر تیمم کرے اور کسی چیز کے نبیذ سے وضوء نہ کرے۔ (الجامع الصغیر ص ۷۴ ادارۃ القرآن’ کراچی ۱۴۱۱ھ )
علامه حسن بن منصور اوز جندی حنفی المعروف بقاضی خاں متوفی ۵۹۲ ھ لکھتے ہیں :
امام ابوحنیفہ کے نزدیک کھجوروں کا نبیذ پانی کی طرح پاک کرنے والا ہے مگر اس سے وضوء کرنے کے لیے نیت شرط ہے پس اس کے ساتھ تیمم نہ کرے اور امام ابو یوسف کے نزدیک وہ بالکل پاک کرنے والا نہیں ہے پس تیمم کرے اور اس سے وضوء نہ کرے اور امام محمد کے نزدیک کھجوروں کا نبیذ گدھے کے جھوٹے کی طرح پاک کرنے میں مشکوک ہے پس اس سے وضوء اور تیمم کو جمع کرے۔ (شرح الزیادات ج اص ۷ ۱۴ ۔ ۱۴۵ داراحیاء التراث العربی بیروت 1426ھ )
علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی ۵۹۳ ھ لکھتے ہیں :
اگر کھجوروں کے نبیذ کے سوا اور پانی نہ ملے تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: اس سے وضوء کرے اور تیم نہ کرے اس کی بنا لیلتہ الجن کی حدیث پر ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پانی نہیں ملا تو آپ نے اس سے وضوء کیا اور امام ابو یوسف نے کہا: تیمم کرے اور اس سے وضوء نہ کرنے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت یہی ہے اور یہی امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے وہ تیمم کی آیت پر عمل کرتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ قوی ہے یا نبیذ سے وضوء کرنا منسوخ ہے کیونکہ یہ آیت مدنی ہے اور لیلتہ الجن مکہ میں تھی اور امام محمد رحمہ اللہ نے کہا: نبیذ سے وضو کرے اور تیم کرے، کیونکہ حدیث میں اضطراب ہے ( بعض احادیث میں ہے: اس رات حضرت ابن مسعود آپ کے ساتھ تھے اور بعض احادیث میں ہے: آپ کے ساتھ وہ اس رات نہیں تھے ) اور تاریخ کا تعین نہیں ہے، پس دونوں کو جمع کرنے میں احتیاط ہے۔ ( علامہ مرغینانی کہتے ہیں : ) ہم کہتے ہیں کہ آپ کی جنات سے ملاقات کئی راتوں میں ہوئی تھی، اس لیے نبیذ سے وضوء کو منسوخ کرنے کا دعوی کرنا صحیح نہیں ہے اور یہ حدیث مشہور ہے، اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عمل کیا ہے اور اس کی مثل سے کتاب پر زیادتی کی جاتی ہے اور نبیذ سے غسل کرنے کے متعلق ایک قول ہے کہ یہ جائز ہے، وضوء پر قیاس کرتے ہوئے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ جائز نہیں کیونکہ غسل وضوء سے زیادہ ہے، اور جس نبیذ میں اختلاف ہے وہ یہ ہے کہ وہ میٹھا ہو اور رقیق ہو اور اعضاء کے اوپر پانی کی طرح بہے اور جو نبیذ گاڑھا ہو، وہ حرام ہے، اس سے وضو کرنا جائز نہیں اور جس نبیذ کو آگ نے متغیر کر دیا ہو، وہ بھی اسی اختلاف پر ہے اور جو نبیذ گاڑھا ہو امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس سے بھی وضوء کرنا جائز ہے، کیونکہ ان کے نزدیک اس کا پینا حلال ہے اور امام محمد کے نزدیک گاڑھے نبیذ کے ساتھ وضو نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے نزدیک اس کا پینا جائز نہیں ہے، کھجوروں کے نبیذ کے علاوہ اور کسی چیز کے نبیذ سے وضوء کرنا جائز نہیں ہے۔ (ھدایہ اولین ص ۴۸-۴۷ مکتبه شرکته علمیه ملتان )
نبیذ سے وضوء کرنے کی تحقیق کے بعد اب ہم امام بخاری کی اس تعلیق کو ذکر کر رہے ہیں :
وَكَرِهَهُ الْحَسَنُ وَأَبُو العَالِيَةِ.
اور الحسن اور ابو العالیہ نے نبیذ سے وضوء کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
الحسن سے مرادحسن بصری ہیں اور ابوالعالیہ سے مراد رفیع بن مہران الریاحی ہیں۔
یہ تعلیق اثر مذکور ذیل کا خلاصہ ہے:
سفیان بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حسن کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبیذ اور دودھ سے وضوء نہ کرے۔
(مصنف ابن ابی شیبه : ۶۴۹)
اور ابوالعالیہ کی تعلیق سنن ابوداؤد : ۸۷ میں ہے اور کراہت سے مراد کراہت تنزیہی ہے اور یہ امام بخاری کے قائم کیے ہوئے عنوان کے خلاف ہے کیونکہ انہوں نے نبیذ سے وضوء کو ناجائز کہا ہے۔ اس کے بعد امام بخاری دوسری تعلیق ذکر کرتے ہیں:
وَقَالَ عَطَاءُ التَّيَمُّمُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الْوُضُوءِ بِالنَّبِيْدِ وَاللَّبَنِ.
اور عطاء نے کہا: نبیذ اور دودھ سے وضوء کرنے کی بہ نسبت مجھے تمیم کرنا زیادہ پسند ہے۔
عطاء سے مراد عطاء بن ابی رباح ہے اور اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:
ابن جریج بیان کرتے ہیں، عطاء نے کہا کہ وہ دودھ اور نبیذ سے وضوء کرنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں اور انہوں نے کہا: ان کو تیمم کرنا اس سے زیادہ پسند ہے۔ (سنن ابوداؤد :۸۶)
یہ تعلیق بھی امام بخاری کے قائم کیے ہوئے عنوان کے خلاف ہے امام بخاری نے نبیذ سے وضوء کو ناجائز کہا ہے اور عطاء کے قول کا خلاصہ یہ ہے کہ نبیذ سے وضوء کرنا جائز تو ہے لیکن تیمم کرنا اس سے بہتر ہے۔
نبیذ سے وضوء کرنے پر حافظ ابن حجر عسقلانی کا یہ اعتراض کہ یہ حدیث ضعیف ہے
حافظ ابن حجر لکھتے ہیں :
احناف نے حضرت ابن مسعود کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلتہ الجن میں ان سے پوچھا: تمہارے مشکیزہ میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نبیذ آپ نے فرمایا: پاکیزہ کھجوریں ہیں اور پاک کرنے والا پانی ہے۔ سنن ابو داؤد : ۸۴ سنن ترمذی: ۸۸، امام ترمذی نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ نے اس سے وضوء کیا اور تمام علماء متقدمین کا اس حدیث کو ضعیف قرار دینے پر اتفاق ہے۔ (فتح الباری ج 1 ص 777 دار المعرفة بیروت 1426ھ )
حافظ بدرالدین عینی کی طرف سے اعتراض مذکور کا جواب
حافظ بدرالدین عینی لکھتے ہیں :
میں کہتا ہوں کہ ان علماء نے اس حدیث کو اس لیے ضعیف قرار دیا ہے کہ امام ترمذی نے اس روایت کے متعلق کہا ہے کہ :
یہ حدیث از ابوزید از عبدالله از نبی صلی اللہ علیہ وسلم مروی ہے اور ابوزید محدثین کے نزدیک مجہول شخص ہے۔ اس حدیث کے سوا اس کی اور کوئی روایت معروف نہیں ہے۔ (سنن ترمذی ص ۵۴ دار المعرفه بیروت 1423ھ )
حافظ ابوبکر محمد بن عبدالله المعروف بابن العربی مالکی متوفی ۵۴۳ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
امام ترمذی نے کہا: ابوزید مجہول ہے اور دوسروں نے کہا: ابوزید عمرو بن زید کا آزاد شدہ غلام ہے اس سے راشد بن کیسان اور ابووراق نے احادیث روایت کی ہیں ۔ (عارضتہ الاحوذی ج اص ۱۰۷ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۸ھ )
اور یہ معرفت ابوزید کو جہالت کی حد سے نکال دیتی ہے رہا اس کا نام تو وہ معلوم نہیں اور ہو سکتا ہے کہ امام ترمذی کا یہ ارادہ ہو کہ اس کا نام مجہول ہے، علاوہ ازیں اس حدیث کو چودہ رجال نے حضرت ابن مسعود سے اسی طرح روایت کیا ہے، جس طرح ابوزید نے روایت کیا ہے:
(1) ابو رافع، امام طحاوی اور حاکم کی روایت میں ۔ (شرح معانی الآثار : ۵۸۴ الناسخ والمنسوخ : ۹۲)
(۲) رباح ابوعلی، امام طبرانی کی ” معجم اوسط میں۔
(۳) حضرت عبداللہ بن عمر ،ابوموسی اصبہانی کی ” کتاب الصحابة ” میں ۔
(۴) عمروالبکالی ،ابو احمد کی کتاب الکنی میں سند صحیح کے ساتھ ۔
(۵) ابوعبیدہ بن عبداللہ ۔
(۲) محمد بن عیسیٰ المدائنی، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ امام بیہقی نے کہا ہے کہ محمد بن عیسی ضعیف الحدیث ہے تو میں کہوں گا کہ البرقانی نے کہا ہے کہ وہ ثقہ ہے اس میں کوئی حرج نہیں اور لالکائی نے کہا ہے : وہ صالح ہے اس کی احادیث کا سماع کیا جاتا ہے۔
(۷) عبداللہ بن مسلمہ ،حافظ ابوالحسن بن المظفر کی کتاب ” غرائب شعبہ میں۔
(۸) قابوس بن ظبیان از والد خود یہ بھی ابن المظفر کے پاس عمدہ سند کے ساتھ ہے۔ (الناسخ والمنسوخ: ۹۳)
(۹) عبداللہ بن عمرو بن غیلان الثقفی، الاسماعیلی کے پاس جس کتاب میں انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر کی از یحیی احادیث جمع کی ہیں۔
(۱۰) حضرت عبد اللہ بن عباس، امام طحاوی اور امام ابن ماجہ کے پاس۔ (شرح معانی الآثار : ۵۸۳ سنن ابن ماجه : ۳۸۵)
(۱۱) ابو وائل شقیق بن سلمہ ،امام دار قطنی کے پاس۔ (سنن دار قطنی : ۲۴۵)
(۱۲) ابن عبد اللہ، اس حدیث کی ابوعبیدہ بن عبد اللہ نے طلحہ بن عبیداللہ از والد خود روایت کی ہے۔
(۱۳) ابو عثمان ابن سنه ،ابو حفص بن شاہین کی کتاب ” الناسخ والمنسوخ میں سند جید کے ساتھ، اس کی حاکم نے بھی ” مستدرک میں روایت کی ہے۔ (الناسخ والمنسوخ : ۹۴)
(۱۴) ابو عثمان النہدی ،امام الدورقی کی مسند میں عمدہ سند کے ساتھ۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت ابن مسعود نے خود کہا ہے کہ میں لیلتہ الجن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود رات کے ابتدائی حصہ میں آپ کے ساتھ نہیں تھے اور آخری حصہ میں آپ کے ساتھ تھے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیلتہ الجن دو بار ہوئی، پہلی بار آپ کے ساتھ کوئی نہیں تھا، نہ حضرت ابن مسعود نہ کوئی اور جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے، اور دوسری بار آپ کے ساتھ حضرت ابن مسعود تھے، جیسا کہ” تفسیر امام ابن ابی حاتم” میں ہے، کھجور کے درختوں میں جن جنات نے آپ سے ملاقات کی تھی وہ نینوی کے جنات تھے اور مکہ میں جن جنات نے آپ سے ملاقات کی تھی، وہ نصیبن کے جن تھے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۶۷ – ۲۶۶ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ)
حافظ ابن حجر کا دوسرا اعتراض کہ نبیذ سے وضوء کرنا منسوخ ہے
حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ اگر یہ حدیث صحیح ہو تو پھر یہ منسوخ ہے، کیونکہ یہ واقعہ مکہ کا ہے اور آیت تیمم المائدہ: 6 بالاتفاق مدنی ہے، یا یہ اس پانی پر محمول ہیں، جس میں سوکھی ہوئی کھجوریں ڈالدیں، جنہوں نے پانی کے وصف کو متغیر نہیں کیا اور وہ نبیذ اس لیے بناتے تھے کہ عام طور پر ان کا پانی میٹھا نہیں ہوتا تھا۔ (فتح الباری ج اص 777 دار المعرفہ بیروت )
حافظ بدرالدین عینی کی طرف سے اعتراض مذکور کا جواب
اس شخص نے یہ اعتراض این قصار مالکی اور ابن حزم ظاہری سے نقل کر کے لکھا ہے اس پر تعجب ہے کہ اس نے اس اعتراض کے مردود ہونے سے علم کے باوجود اس کو لکھ دیا اور اس کے رد کی وجہ وہ ہے جس کو امام طبرانی نے معجم الکبیر : ۴۶۵۷ میں اور امام دارقطنی نے روایت کیا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ کی اونچی جگہ میں نازل ہوئے اور اپنی ایڑی سے اشارہ کیا تو پانی ابلنے لگا اور انہوں نے آپ کو وضوء کا طریقہ سکھایا السہیلی نے کہا: آیت وضوء مکی ہے، لیکن یہ مدنی التلاوت ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیتہ التمیم کہا ہے اور آیۃ الوضوء نہیں کہا کیونکہ وضوء اس سے پہلے فرض ہوچکا تھا البتہ اس کی قرآن میں تلاوت اس وقت ہوئی جب آیت تیمم نازل ہوگئی اور قاضی عیاض نے کہا ہے کہ پہلے وضوء سنت تھا حتی کہ مدینہ میں قرآن نازل ہوا۔
(عمدۃ القاری ج ۳ ص 267، دار الکتب الاسلامیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں وضوء کرنا آیت تیم یا آیت وضوء کے نزول کے منافی نہیں ہے، کیونکہ آیت وضوء اگرچہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل کو بھیج کر ابتداء ہی میں آپ کو وضوء کرنا سکھادیا تھا، نیز منسوخ تو حکم ہوتا ہے، خبر منسوخ نہیں ہوتی اور حدیث ابن مسعود میں تو نبیذ سے وضوء کرنے کی خبر ہے، حکم نہیں ہے اور رہا یہ کہنا کہ انہوں نے سوکھی ہوئی کھجور میں ڈال دی ہوں گی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، پانی میں سوکھی ہوئی کھجوریں ڈالی جائیں یا تازہ کھجوریں ڈالی جائیں اس سے نبیذ بہرحال بن جاتا ہے۔
ہم نے تبیان القرآن میں نبیذ پینے کے متعلق پانچ احادیث اور چار آثار بیان کیے ہیں۔
تبیان القرآن ج 6 ص ۴۹۲ ۴۹۰ النحل : ۲۷)
امام ابوحنیفہ نے فرمایا : اگر مجھے تمام دنیا کا مال بھی دے دیا جائے تو میں نبیذ کے حرام ہونے کا فتویٰ نہیں دوں گا، کیونکہ اس سے بعض صحابہ کو فاسق قرار دینا لازم آتا ہے اور اگر مجھے تمام دنیا بھی دی جائے تو میں نبیذ نہیں پیوں گا کیونکہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ (رد الختار ج ۱۰ ص ۳۳ – ۳۲ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1415ھ )
٢٤٢- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ عنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ شَرَاب اَسْكَرَ فَهُوَ حَرَام [اطراف الحديث : ۵۵۸۵-۵۵۸۶
صحیح مسلم :۲۰۰۱ الرقم المسلسل : ۵۱۳، سنن ابوداؤد: 3682، سنن ترمذی: ۱۸۶۳ سنن نسائی: ۵۵۹۲، سنن ابن ماجہ : 3386، سنن الکبری للنسائی: ۶۸۱۴ مسند ابوداؤد الطیالسی: 1487، مسند الحمیدی: ۲۸۱ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۷ ص ۱۰۰ المنتقی : ۸۵۵ مسند ابویعلی : 4523، صحیح ابن حبان:5397، سنن بیہقی ج ا ص ۸ – ج ۸ ص ۲۹۳ شرح السنته : 3009، مسند احمد ج ۶ ص ۳۶ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۴۰۸۲ – ج۲۰ ص ۹۹ مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں الزہری نے حدیث بیان کی از ابی سلمہ از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا از نبی صلی اللہ علیہ وسلم، آپ نے فرمایا: ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت تاویل کے ساتھ ہے کیونکہ باب کا عنوان ہے: نشہ آور مشروب کے ساتھ وضوء جائز نہیں ہے اور اس حدیث میں مذکور ہے: نشہ آور مشروب حرام ہے اور چونکہ نشہ آور مشروب حرام ہے اس لیے اس سے وضوء کرنا جائز نہیں ہے اس حدیث کو درج کرنے کا صحیح مقام کتاب الاشربہ ہے اور امام بخاری نے اس کو وہاں بھی درج کیا ہے اللہ جانے میں اس باب تک صحت و سلامتی کے ساتھ زندہ رہوں گا یا نہیں!
اس حدیث کے پانچ رجال میں ان سب کا پہلے تعارف ہو چکا ہے۔
خمر کا مطلقاً حرام ہونا اور ہر غیر خمر مشروب کی صرف اس مقدار کا حرام ہونا جو نشہ آور ہو
اس حدیث میں حرام ہونے کا حکم مشروب مسکر پر لگایا ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی مشتق پر حکم لگایا جائے تو اس کا مبدا اشتقاق اس حکم کی علت ہوتا ہے لہذا کسی بھی مشروب کے حرام ہونے کی علت یہ ہے کہ وہ نشہ آور ہو البتہ خمر (انگور کے کچے شیرہ سے بنائی ہوئی شراب یعنی انگور کا کچا شیرہ پڑے پڑے سڑجائے اور جھاگ چھوڑ دے ) مطلقاً حرام ہے، خواہ اس کا ایک قطرہ ہو خواہ نشہ آور ہو یا نہ ہو۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے:
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفاء اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے، پھر آپ نے مکہ کی دیواروں میں سے ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگائی، پھر آپ نے فرمایا: کوئی پینے کی چیز ہے؟ تو آپ کے پاس نبیذ کا ایک پیالہ لایا گیا’ آپ نے اس کو چکھا پھر ماتھے پر شکن ڈالی اور اس کو واپس کردیا پھر آل حاطب میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: یارسول اللہ ! یہ اہل مکہ کا مشروب ہے پھر آپ نے اس کو واپس منگایا اور اس میں پانی ڈالا حتی کہ اس میں جھاگ آگئی، پھر آپ نے اس کو پیا اور فرمایا: خمر تو بعینہا حرام ہے اور ہر مشروب میں سے نشہ آور ( مقدار ) حرام ہے۔
(کتاب الضعفا للعقیلی ج 4 ص ۱۲۴ السنن الکبری للنسائی: ۵۱۹۳ المعجم الکبیر ۷ ۱۰۸۳)
ہر چند کہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے لیکن تعدد اسانید کی وجہ سے یہ حسن لغیرہ ہے اور لائق استدلال ہے۔
اس پر یہ اعتراض ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی کثیر مقدار نشہ آور ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔ (سنن ترمذی: ۱۸۶۵ سنن ابوداؤد: 3681، سنن ابن ماجہ: ۳۳۹۳)
اس کا جواب یہ ہے کہ حافظ زیلعی متوفی ۷۶۲ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث کی سند میں ابو عثمان مجہول ہے امام دارقطنی نے اس حدیث کی کئی اسانید ذکر کی ہیں اور وہ سب ضعیف ہیں ۔
نصب الرایہ ج ۵ ص ۱۴ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۶ھ )
علامہ کاسانی متوفی ۷ ۵۸ ھ لکھتے ہیں :
یحیی بن معین نے اس حدیث کو رد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث ان لوگوں پر محمول ہے جو ایسے مشروبات کو سرور اور مستی لانے کے لیے پئیں، جن کی کثیر مقدار نشہ آور ہو اور قلیل مقدار نشہ آور نہ ہو ( اور جو بدن میں عبادت کی قوت حاصل کرنے کے لیے پئیں’ وہ اس حکم میں داخل نہیں ہیں ۔ ردالمختار ج ۱۰ ص ۳۴) ۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ جس مشروب کی کثیر مقدار نشہ آور ہو اس کا وہ آخری گھونٹ نشہ آور ہے اور صرف وہ حرام ہے جس سے نشہ پیدا ہوا اور اس کی قلیل مقدار جو غیر نشہ آور ہے وہ حرام نہیں ہے اور یہ حدیث اس آخری گھونٹ پر محمول ہے۔
(بدائع الصنائع ج ۶ ص ۴۷۴ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۸ھ )
شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی حنفی متوفی ۴۸۳ ھ لکھتے ہیں:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ الخمرة “ کو بعینہا حرام کیا گیا ہے خواہ قلیل ہو یا کثیر اور ہر مشروب میں سے نشہ آور کو حرام کیا گیا ہے۔ اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ حرام وہ آخری گھونٹ ہے، جس سے نشہ پیدا ہوتا ہے اور خمر بعينها حرام ہے اور اس حکم میں قلیل اور کثیر برابر ہیں اور کھجوروں اور انگوروں کے پکے ہوئے شیرہ سے جو مشروب بنایا گیا ہو اس میں قلیل اور کثیر کا فرق ہے ان کی قلیل مقدار کے پینے میں کوئی حرج نہیں ہے حرام صرف وہ ہے جو اس کے پیالہ کا آخری حصہ ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مشروب کا جو پیالہ نشہ آور ہو، وہی حرام ہے۔ (المبسوط ج ۲۴ ص ۱۲-۱۱ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ )
ایلو پیتھک اور ہومیو پیتھک دواؤں سے علاج کرنے کا شرعی جواز
ان تصریحات کی بناء پر میں یہ کہتا ہوں کہ ایلو پیتھک اور ہومیو پیتھک دواؤں سے علاج کرنا جائز ہے، ایلو پیتھک کی جو مائع دوائیں ہوتی ہیں اور شربت ہوتے ہیں ان میں الکوحل کی معمولی مقدار ملی ہوئی ہوتی ہے اور ہومیو پیتھک دواؤں میں بھی الکوحل کی آمیزش ہوتی ہے اور دوا کی جتنی خوراک پی جاتی ہے جو عموماً چائے کے دو چمچے کے برابر ہوتی ہے، اگر یہ دو چمچے صرف الکوحل ہوتی تو بھی یہ نشہ آور نہیں ہے جب کہ الکوحل خمر نہیں ہے اور اس دو چمچے کی مقدار میں الکوحل کے چند قطرات ہوتے ہیں، باقی دوسرے کیمیائی اجزاء ہوتے ہیں اور ان سے مخلوط ہونے کے بعد الکوحل اپنی طبیعت اور ماہیت پر باقی نہیں رہتی، جیسے خمر میں اگر نمک ڈال دیا جائے تو اس کی ماہیت بدل جاتی ہے اور وہ سرکہ بن جاتی ہے لہذا اول تو دوا کی مجوزہ خوراک میں الکوحل کے چند قطرات ہوتے ہیں، جو کسی صورت میں نشہ آور نہیں ہیں، ثانی یہ کہ اس میں دوسرے کیمیاوی اجزاء غالب مقدار میں موجود ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے الکوحل کی ماہیت بدل جاتی ہے، الکوحل کی اس کم مقدار کو دواؤں میں اس لیے شامل کیا جاتا ہے کہ وہ دیر تک محفوظ رہ سکیں اور خراب ہونے نہ پائیں۔
باب مذکور کی حدیث کی تحقیق شرح صحیح مسلم میں
اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۰۹۴ -ج 6 ص ۲۵۴ پر مذکور ہے، یہاں اس کی شرح نہیں کی گئی’ البتہ کتاب الاشربہ کا جو مقدمہ ہے اس میں بہت مفصل بحث کی ہے اس کے اہم عنوانات حسب ذیل ہیں :
خمر کا لغوی اور اصطلاحی معنی
(۴) خمر اور دیگر نشہ آور مشروبات کے متعلق مذاہب فقہاء
خمر اور دیگر مشروبات کے متعلق امام ابوحنیفہ کا نظریہ
(۴) غیر خمر نشہ آور مشروبات کی قلیل مقدار کے جواز پر قرآن مجید سے استدلال
(۵) غیر خمر نشہ آور مشروبات کی قلیل
مقدار کی حلت کے متعلق احادیث
1) جس مشروب کی تیزی سے نشہ کا خدشہ ہو اس میں پانی ملانے کے بعد اس کو پینے کا جواز
(2) جس مشروب کی کثیر مقدار نشہ آور ہو اس کی قلیل مقدار کے حلال ہونے پر فقہاء احناف کے دلائل
نبیذ کی تعریف اور اس کا حکم
9 مثلث اور نبیذ شدید کے حلال ہونے پر فقہاء احناف کے دلائل
10 حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے نشہ آور مشروب کی قلیل مقدار پینے کا جواز
(1) کبار صحابہ اور فقہاء تابعین سے نشہ آور مشروب کی قلیل مقدار پینے کا جواز
(۳) بھنگ کے شرعی حکم میں مذاہب فقہاء
حشیش کی تحقیق
0 افیون کی تعریف اور تحقیق
(0) سکون آور دواؤں کا شرعی حکم
(9) تمباکو نوشی کی تاریخ
(6) تمباکو نوشی کے نقصانات
(0) تمباکو نوشی کے متعلق فقہاء احناف کا مذہب
(10) تمباکو نوشی کے متعلق دیگر مذاہب اور مصنف کا موقف
(1) الکوحل کی قلیل مقدار کے جوار کا محل اور ایلو پیتھک دواؤں اور پرفیوم وغیرہ کے جواز کا بیان۔
یہ بحث شرح صحیح مسلم ج ۶ ص ۲۲۳-۱۷۹ میں پھیلی ہوئی ہے۔