۷۲- بَابُ غَسْلِ الْمَرْأَةِ اباهَا الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ

عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون کو دھونا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ عورت اپنے باپ کے چہرے سے خون کو دھوسکتی ہے، باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ اس میں یہ بیان کیا تھا کہ امام بخاری کی رائے میں نبیذ سے وضوء جائز نہیں اور نشہ آور مشروب سے وضوء کرنا جائز نہیں اور یہ ایک حکم شرعی ہے اور اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ عورت اپنے باپ کے چہرے سے خون کو دھو سکتی ہے یعنی نجاست کو بدن پر چھوڑنا جائز نہیں ہے اور یہ بھی ایک حکم شرعی ہے۔ اس کے ثبوت میں امام بخاری حسب ذیل تعلیق کو ذکر کرتے ہیں:

وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ إِمْسَحُوا عَلَى رِجْلِيُّ، فَإِنَّهَا مريضة.

اور ابو العالیہ نے کہا: میرے پیر پر مسح کرو کیونکہ اس میں مرض ہے۔

ابو العالیہ کا نام رفیع بن مہران ریاحی ہے امام بخاری نے جو تعلیق ذکر کی ہے، وہ ایک حدیث کا قطعہ ہے، مکمل حدیث یہ ہے:

معمر بیان کرتے ہیں: مجھے عاصم بن سلیمان نے خبر دی کہ ہم ابو العالیہ الریاحی کے پاس گئے وہ بیمار تھے انہوں نے ان کو وضوء کرایا جب ان کا ایک پیر رہ گیا تو انہوں نے کہا: اس پر مسح کرو کیونکہ اس میں مرض ہے اور اس پر سرخی اور ورم تھا۔

(مصنف عبدالرزاق : ۶۲۸ دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ)

٢٤٣- حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدِ السَّاعِدِی وَسَأَلَهُ النَّاسُ، وَمَا بَيْنِي وَ بَيْنَهُ أَحَدٌ بِاي شَيْءٍ دُووِی جُرْحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ مَا بَقِى أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِيْ كَانَ عَلِيٌّ يَجِيءُ بِترْسِهِ فِيهِ مَاء وَفَاطِمَةً تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِهِ الدَّمَ ، فَأَخَذَ حَصر فَاحرِقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ.

اطراف الحدیث: ۲۹۰۳-۲۹۱۱-۳۰۳۷-۴۰۷۵- ۵۲۴۷-۵۷۲۲)

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے خبر دی از ابی حازم انہوں نے حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا اور لوگ ان سے سوال کررہے تھے اور میرے اور ان کے درمیان اس وقت کوئی شخص نہیں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا علاج کس چیز سے کیا گیا تھا؟ حضرت سہل نے کہا: اب اس بات کو مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لے کر آتے تھے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا  آپ کے چہرے سے خون کو دھوتی تھیں، پھرایک چٹائی کو لے کر جلایا گیا اور اس کی راکھ آپ کے زخم میں بھردی گئی۔

(صحیح مسلم:۱۷۹۰ الرقم المسلسل : 4561، سنن ترمذی: ۲۰۸۵، سنن ابن ماجہ : 3464،  مسند الحمیدی : 929، صحیح ابن حبان : 6578،  المعجم الکبیر:5916، مسند احمد ج ۵ ص ۳۳۰ طبع قدیم مسند احمد : ۲۲۷۹۹ – ج ۷ ۳ ص ۴۵۹ مؤسسة الرسالة بیروت)

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے چہرے سے خون کو دھوتی تھیں ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) محمد بن سلام البیکندی ،صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں اسی طرح مذکور ہے ابونعیم نے “المستخرج” میں اسی طرح لکھا ہے اور امام ابن ماجہ اور الاسماعیلی نے محمد بن الصباح از سفیان روایت کیا ہے

(۲) سفیان بن عیینہ ان کا تعارف ہو چکا ہے 

۳) ابو حازم سلمہ بن دینار المدینی المخزومی ۱۳۵ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۴) حضرت سہل بن سعد الساعدی الانصاری رضی اللہ  عنہ ان کا نام پہلے حزن تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر سہل رکھ دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ۱۳۸ احادیث روایت کی ہیں، امام بخاری نے ان کی ۳۹ احادیث روایت کی ہیں یہ ۱۰۰ سال کی عمر میں ۹۱ھ میں فوت ہوگئے تھے یہ مدینہ میں فوت ہونے والے آخری صحابی تھے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۷۱-۲۷۰)

باب مذکور کی حدیث کی زیادہ تفصیل

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے اوپر خود توڑ دیا گیا اور آپ کا چہرہ خون آلود ہوگیا، اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ ڈھال میں پانی لارہے تھے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے چہرے سے خون دھو رہی تھیں، جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون زیادہ بہ رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی کو جلایا اور اس کی راکھ کو آپ کے زخم میں بھر دیا، پھر خون رک گیا۔ (صحیح البخاری: ۵۷۲۲)

خواتین کے لیے اپنے محارم کا علاج کرنے کا جواز انبیاء پر تکلیفوں کی حکمت، علاج کی مشروعیت اور اپنی علمی فضیلت کو بیان کرنے کا جواز

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت اپنے والد اور دیگر محارم کے امراض میں ان کا علاج کرسکتی ہے اور اس حدیث میں دوا اور علاج کا ثبوت ہے، اس زمانہ میں خون روکنے اور مرہم پٹی کے جو اسباب تھے ان کو اختیار کیا گیا۔

اس حدیث میں یہ بھی ثبوت ہے کہ انبیاء علیہم السلام بیماریوں اور تکلیفوں میں مبتلا ہوتے ہیں تاکہ ان کو زیادہ اجر ملے اور ان کی امت یہ جان لے کہ انبیاء علیہم السلام اتنے فضائل اور کمالات کے حامل ہونے کے باوجود بشر ہیں، ان کے اجسام پر بھی وہ تکلیفیں آتی ہیں، جو عام بشر کے اجسام پر آتی ہیں اور وہ یہ یقین کرلیں کہ وہ مخلوق ہیں، خدا نہیں ہیں اور ان کے معجزات دیکھ کر اس طرح فتنہ میں مبتلا نہ ہوجائیں، جس طرح نصاری فتنے میں مبتلا ہوگئے تھے۔

اس حدیث میں یہ ثبوت ہے کہ دوا اور علاج کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے۔

حضرت سہل سے لوگوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا علاج کس چیز سے کیا گیا تھا؟ اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کے متعلق سوال کرنا چاہیے۔

حضرت سہل نے کہا: اس وقت اس بات کو مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت اپنی علمی فضیلت اور بڑائی کو بیان کرنا جائز ہے۔

آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد میں خون آلود کرنے والے کفار کے لیے دعائے مغفرت کی تھی یا نہیں؟

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ ! میری قوم کو معاف فرما کیونکہ بے شک یہ (میری نبوت کو ) نہیں جانتے۔

 صحیح ابن حبان 973،الحجم الکبیر: 5694، حافظ الہیثمی نے کہا: امام طبرانی کے رجال صحیح ہیں، مجمع الزوائد ج ۶ ص ۱۱۷)

ابو حاتم رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا اس وقت کی تھی جب احد میں آپ کا چہرہ خون آلود کردیا گیا تھا اور اس دعا کا معنی یہ ہے کہ اے اللہ ! میری قوم نے جو میرا چہرہ خون آلود کر دیا ہے، ان کے اس گناہ کو معاف فرما اور یہ کفار کے لیے دعائے مغفرت نہیں تھی اور اگر آپ ان کافروں کے لیے دعائے مغفرت کرتے تو لامحالہ وہ سب کافر اسی وقت اسلام لے آتے ۔

( الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان ج ۳ ص ۲۵۵ مؤسسة الرسالة بیروت 1414ھ )

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : گویا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا، آپ انبیاء میں سے کسی نبی کی حکایت فرما رہے تھے کہ اس نبی کو ان کی قوم نے مار مار کر خون آلود کردیا اور وہ اپنے چہرے سے خون کو صاف کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: اے اللہ ! میری قوم کو معاف فرما بے شک یہ میری نبوت کو نہیں جانتے۔

(صحیح البخاری 3477، صحیح مسلم : ۱۷۹۲ سنن ابن ماجہ : ۴۰۲۵ مسند احمد ج ا ص ۳۸۰)

علامہ نووی نے لکھا ہے : ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی اس کی مثل جنگ احد کے دن واقع ہوئی۔

(صحیح مسلم بشرح النووی ج ۸ ص ۴۹۸۳ مکتبه نزار مصطفی مکه مکرمه 1417ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نبی کی حکایت کی ہے،  اس سے مراد خود آپ کی ذات ہے حافظ عسقلانی نے علامہ قرطبی کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن یہ فرمایا تھا: وہ قوم کیسے فلاح پائے گی، جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون آلود کردیا۔ ( صحیح البخاری ص ۸۵۲ دارارقم، بیروت) پھر حافظ ابن حجر نے صحیح ابن حبان : ۹۷۳ کی حدیث اور ابوحاتم کا کلام نقل کیا ہے پھر اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ کلام اس پر مبنی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے مقبول ہونے میں تاخیر جائز نہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دعائیں کیں تو اللہ تعالیٰ نے دو آپ کو عطا فرمادیں اور ایک سے منع فرما دیا پھر علامہ قرطبی کے رد میں اس حدیث کو نقل کیا:

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب جعرانہ میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم حنین کا مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے تو لوگ آپ پر ٹوٹ پڑے، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کو ایک قوم کی طرف مبعوث کیا گیا، اس قوم نے اس کو مارا اور خون آلود کردیا وہ بندہ خون کو اپنی پیشانی سے صاف کررہا تھا اور کہہ رہا تھا : اے میرے رب ! میری قوم کو معاف فرما ! بے شک یہ (میری نبوت کو ) نہیں جانتے ، حضرت عبد اللہ کہتے ہیں: گویا کہ میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا تھا، آپ خون کو اپنی پیشانی سے صاف کر رہے تھے اور اس بندہ کی حکایت کر رہے تھے اور یہ دعا کر رہے تھے : اے میرے رب! میری قوم کو معاف فرما کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ (مسند ابو یعلی ۵۰۳۷ – ۴۹۹۲ مسند ابوداؤد الطیالسی: ۳۵۷ مسند البزار : ۳۶۵۲ صحیح ابن حبان: 3263، شعب الایمان:6962، مجمع الزوائد ج ۱۰ ص ۲۴۰ مسند احمد ج ا ص ۴۵۷ طبع قدیم مسند احمد ج ۷ ص ۳۷۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)

اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد حافظ ابن حجر نے لکھا ہے: اس حدیث سے ظاہر ہوگیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نبی کی حکایت کی ہے اس سے مراد خود آپ کی ذات گرامی نہیں تھی۔ (فتح الباری ج 4 ص ۶۴۷ دار المعرفہ بیروت، 1426ھ )

صحیح ابن حبان : ۹۷۳ اور ابوحاتم کی تفسیر کا تقاضا یہ ہے کہ جن کافروں نے آپ کا چہرہ خون آلود کیا تھا، آپ نے ان کے لیے یہ دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس جرم کو معاف فرمادے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتہائی صبر اور حلم ہے اور اپنے دشمنوں کے لیے انتہائی عفو و کرم ہے اور اپنی ذات پر ہونے والی زیادتی کو معاف فرمانا ہے اور ان کے لیے ہدایت اور مغفرت کی دعا کرنا ہے اور انہوں نے آپ کے اوپر جو زیادتی کی تھی اور آپ کا چہرہ خون آلود کیا تھا، اس جرم کو ان کی اس جہالت کی وجہ سے کہ وہ آپ کی نبوت کو پہچانتے نہیں تھے اس میں ان کو معذور قرار دینا ہے اور یہ آپ کا خلق عظیم ہے۔

اور وہ جو “صحیح بخاری” میں ہے کہ آپ نے فرمایا: وہ قوم کیسے فلاح پائے گی، جس نے اپنے نبی کا چہرہ خون آلود کردیا ! یہ آپ نے اس وقت فرمایا: جب آپ کا چہرہ کافروں نے خون آلود کردیا تھا، بعد میں آپ پر اپنے مزاج کے مطابق رحمت غالب آگئی اور آپ نے ان کے لیے معافی کی دعا فرماکر اپنے پہلے قول کی تلافی کردی اور اس میں ہمارے لیے یہ نمونہ ہے کہ اگر کسی ظالم کے ظلم پر

ہم فوری طور پر جذبات میں آکر اس کے خلاف کوئی بات کہیں، جیسا کہ بشریت کا تقاضا ہے تو بعد میں اس کے حق میں دعا کرکے اپنے پہلے قول کی تلافی کردیں۔

اور صحیح البخاری : ۳۴۷۷ میں آپ نے جس نبی کی حکایت فرمائی ہے وہ بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے کوئی نبی تھے کیونکہ امام بخاری نے اس حدیث کو انبیاء بنی اسرائیل کے ذکر میں بیان کیا ہے اور اس سے مراد خود آپ کی ذات گرامی نہیں ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے تحقیق کی ہے۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۴۵۲۷- ج ۵ ص ۵۵۲ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی ۔