۷۳ – بَابُ السّوَاكِ

مسواک کرنا

اس باب میں مسواک کرنے کا بیان ہے، باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ اس باب میں چہرے سے خون زائل کر کے چہرے کو صاف کرنے کا بیان تھا اور اس باب میں دانتوں سے میل کچیل اور پیلاہٹ کو زائل کرکے دانتوں کو صاف کرنے کا بیان ہے۔

اصل مقصود دانتوں کی صفائی ہے اس زمانہ میں درخت کی شاخ یا پیلو کی جڑ سے مسواک کر کے دانتوں کو صاف کیا جاتا تھا اب منجن، ٹوتھ پاؤڈر یا ٹوتھ پیسٹ سے دانتوں کو صاف کیا جاتا ہے جیسے اس زمانہ میں زخم سے خون روکنے کے لیے چٹائی جلاکر راکھ زخم میں بھردی جاتی تھی، اب جدید دوائیں مثلاً اسکن آئنٹ منٹ (Skin Ointment ) اور پولی فیکس (Poly Fax) ٹینچر بینز ائیل (Tincture Benzyl) وغیرہ زخم پر لگادی جاتی ہے اور کیونکہ مقصود علاج ہے اور جس طرح ہر زمانہ کے عرف اور رواج کے مطابق علاج کیا جاتا ہے اسی طرح دانتوں کی صفائی بھی ہر زمانہ کے عرف کے مطابق ہوگی اور یہ خلاف سنت یا خلاف شریعت نہیں ہے۔ امام بخاری اس سلسلہ میں تعلیق ذکر کرتے ہیں:

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِت عِندَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنَّ.

اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں رات گزاری تو آپ نے دانت صاف کیے۔

یہ تعلیق اس طویل حدیث کا قطعہ ہے، جس میں یہ ذکر ہے کہ حضرت ابن عباس نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے معمولات کا مشاہدہ کریں،  اس حدیث کا کچھ حصہ گزشتہ ابواب میں گزر چکا ہے اور باقی آئندہ ابواب میں آئے گا۔

٢٤٤- حدثنا أبوالنُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ ابیہ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْتُهُ يَسْتَنُّ بِسوَاک بِيَدِهِ ، يَقُولُ أَعْ أَعْ، وَالسّواک فی فِيهِ، كَانَّهُ يَتَهَوع. (صحیح مسلم : 254 الرقم المسلسل :581 سنن ابوداؤد : ۴۹ سنن نسائی: ۳)

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں ابوالنعمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی از غیلان بن جریر از ابی بردہ از والد خود، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا’ اس وقت آپ اپنے ہاتھ میں مسواک لے کر دانت صاف کر رہے تھے اور اع اع کر رہے تھے اور مسواک آپ کے منہ میں تھی گویا کہ آپ قے کر رہے تھے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) ابوالنعمان محمد بن الفضل

(۲) حماد بن زید

(۳) غیلان بن جریر ،یہ ۱۲۹ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۴) ابو بردہ، ان کا نام عامر ہے

(۵) ان کے والد حضرت عبد اللہ بن قیس ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۷۳)

بعض الفاظ کے معانی

اس حدیث میں” اُع اع“ کے الفاظ ہیں، جب مسواک کو حلق کے آخر تک لے جاکر حلق کو صاف کیا جائے تو ایسی آواز نکلتی ہے۔ “يتهوع” بلا تکلف قے آنا ۔

مسواک کرنے کا سنت مؤکدہ ہونا

یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ مسواک کرنا سنت مؤکدہ ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن اور رات ہمیشہ مسواک کرتے تھے اور مسواک پر دوام کی دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت عبد الرحمان بن ابو بکر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور میں اپنے سینہ کی طرف آپ کا سہارا تھی اور حضرت عبدالرحمان کے پاس ایک تازہ مسواک تھی، جس سے وہ مسواک کررہے تھے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اس کی طرف مسلسل لگی ہوئی تھی، میں نے ان سے مسواک لے کر اس کو ( اگلے سرے سے ) کاٹا، پھر اس کو جھاڑا اور پاک کیا، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دی،  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دانت صاف کیے اور میں نے اس سے زیادہ اچھی طرح کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دانت صاف کرتےہوئے نہیں دیکھا، پھر جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوگئے تو آپ نے اپنا ہاتھ یا انگلی اوپر اٹھائی پھر تین مرتبہ فرمایا: ” رفیق اعلی میں” پھر آپ میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان ( سر ٹکائے ہوئے ) وصال فرماگئے ۔ ( صحیح البخاری : ۴۴۳۸)

مسواک کے مستحب ہونے پر اجماع ہے۔ علامہ مرغینانی حنفی متوفی ۵۹۳ھ نے کہا : مسواک کرنا سنت ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر دوام کرتے تھے اور جب مسواک نہ ہو تو انگلی سے دانت صاف کرے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرتے تھے۔ھدایہ اولین ص 18 شرکتہ علمیہ ملتان

مسواک کرنے کا طریقہ

علامہ عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ۶۲۰ ھ لکھتے ہیں:

اپنے دانتوں اور زبان پر مسواک کرے، حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، میں نے دیکھا آپ اپنی زبان پر مسواک کررہے تھے ۔ ( صحیح البخاری : ۲۴۴ صحیح مسلم : ۲۲۰) رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے خطرہ ہے کہ میں اپنے منہ کا اگلا حصہ گھسا دوں گا، اور عرض کی جانب مسواک کرے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عرض مسواک کرو اور کبھی کبھی تیل لگاؤ اور طاق مرتبہ سرمہ لگاؤ۔ (الدرر المنتثرہ:۳۱) دائیں طرف سے مسواک کی ابتداء کرنا مستحب ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جوتی پہننے میں، کنگھی کرنے میں، وضوء کرنے میں اور ہر کام میں دائیں جانب سے ابتداء کرنے کو پسند کرتے تھے۔ (صحیح البخاری : ۱۶۸ صحیح مسلم (226) اور مسواک کو دھولے تاکہ اس پر جو گردوغبار اور میل ہے وہ زائل ہو جائے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مسواک دیتے، میں اس کو دھوتی،  میں اس سے ابتداء کرکے مسواک کرتی ، پھر اس کو دھوکر آپ کو دیتی۔ (سنن ابوداؤد: ۵۲ ) (المغنی لابن قدامہ ج ۱ ص ۱۲۰ دار الحدیث، قاہره ۱۴۲۵ھ )

مسواک کی موٹائی چھنگلی کے برابر ہو اور اس کی لمبائی ایک بالشت ہو، پیلو کی جڑ سے مسواک کرنا مستحب ہے، مسواک کرنے کے وقت کا کوئی پیمانہ نہیں ہے، اس وقت تک مسواک کرے حتی کہ اس کو یقین ہوجائے کہ اس کے دانتوں کا میل اور پیلاہٹ زائل ہوگئی ہے۔ “المحیط” میں مذکور ہے کہ عورتوں کا دنداسہ کرنا مسواک کے قائم مقام ہے۔ عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۷۴