وَالَّيۡلِ اِذَا سَجٰىۙ – سورۃ نمبر 93 الضحى آیت نمبر 2
sulemansubhani نے Monday، 3 November 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالَّيۡلِ اِذَا سَجٰىۙ ۞
ترجمہ:
اور رات کی قسم جب وہ پھیل جائے۔
الضحیٰ : ٢ میں ” سجیٰ “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : وہ چھا گیا، اس نے آرام کرلیا، اس نے قرار حاصل کرلیا۔ (المفردات ج ١ ص 297، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، 1418 ھ)
سورۃ اللیل کو سورة الضحیٰ پر مقدم کرنے کی وجوہ
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دن اور رات کی قسم کھائی ہے اور سورة اللیل میں اللہ عزو جل نے رات اور دن کی قسم کھائی تھی۔ وہاں رات کا ذکر مقدم فرمایا اور اس سورت میں دن کا ذکر مقدم فرمایا : اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں۔
(١) انسان کو اپنی زندگی میں رات اور دن دونوں کی ضرورت ہے، دن میں وہ کسب معاش کرتا ہے اور رات کو تھکاوٹ اتار کر آرام کرتا ہے، لیکن رات کی فضیلت یہ ہے کہ وہ دن پر مقدم ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وجعل اللظلمت والنورہ (الانعام : ١) اللہ نے اندھیروں اور روشنی کو پیدا فرمایا۔ اس لئے سورة اللیل کو پہلے ذکر فرمایا اور دن کی فضیلت یہ ہے کہ وہ نور، ضیاء اور روشنی ہے۔
(٢) سورة اللیل میں حضرت ابوبکر کا ذکر ہے اور سورة الضحیٰ میں ہمارے رسول سیدنام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضائل ہیں اور حضرت ابوبکر کے ایمان سے پہلے ان کے کفر کا زمانہ ہے اور وہ رات کی تاریکی کے مشابہ ہے اور سورة الضحیٰ میں آپ کا ذکر ہے اور آپ ابتداء سے مئومن اور سیرت کاملہ کے حامل ہیں اور وہ نور اور ضیا ہے، اس لئے اس سورت کو والضحیٰ سے شروع فرمایا۔
(٣) سورة اللیل حضرت ابوبکر صدیق کی سورت ہے اور سورة الضحیٰ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سورت ہے اور سورة اللیل متصل بعد سورة الضحیٰ کو ذکر کر کے یہ اشارہ فرمایا کہ صدیقیت کے بعد نبوت کا مرتبہ ہے اور حضرت ابوبکر اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کوئی تیسرا فرد حائل نہیں ہے۔
دن اور رات کی قسم کھانے کی توجیہات
اس سورت میں دن اور رات کی قسم کھانے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :
(١) اس میں یہ تنبیہ ہے کہ رات اور دن اللہ تعالیٰ کی دو عظمی نعمتیں ہیں، ایک پل میں دن طلوع ہوجاتا ہے اور ایک آن میں رات آجاتی ہے، کسی شخص کو دن آئے سے کوئی تکلیف ہوتی ہے نہ رات آنے سے کوئی ملال ہوتا ہے۔
(٢) کبھی راتیں بڑی ہوتی ہیں اور کبھی دن بڑے ہوتے ہیں، نہ رات ہمیشہ بڑی رہتی ہے نہ دن ہمیشہ بڑا رہتا ہے، اس جہان میں کسی کو دائمی بڑائی حاصل نہیں ہے، دائمی اور مطلقاً بڑائی اور کبریائی صرف اللہ عزوجل کے لئے ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 93 الضحى آیت نمبر 2